مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

منریگا پر ملک گیر تحریک کی سخت ضرورت: کھرگے

2 منٹ کی پڑھائی

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے منریگا کو ختم کرنے، خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) جیسے اداروں کے غلط استعمال کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر تحریک کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح زرعی قوانین کو واپس لینے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا گیا تھا، اسی طرح منریگا کی بحالی کے لیے بھی مؤثر حکمتِ عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔مسٹر کھرگے نے ہفتہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت غریبوں کے حقوق سلب کر رہی ہے اور آئین کی جانب سے دیے گئے حقوق سے محروم کر کے آمریت مسلط کر رہی ہے۔ ای ڈی جیسے اداروں کا غلط استعمال کر کے اپوزیشن کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے، جبکہ دلتوں، غریبوں اور آدیواسی طبقات کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ یہ میٹنگ پارٹی کے مستقبل کی حکمتِ عملی پر غور کرنے کے لیے طلب کی گئی ہے، کیونکہ اس وقت جمہوریت، آئین اور شہریوں کے حقوق کو ہر طرف سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ یہ بحران حکومت کے طرزِ حکمرانی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں حکومت نے دیہی عوام کے لیے نہایت اہم منریگا کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے کروڑوں غریب اور کمزور طبقے کے لوگ بے سہارا ہو گئے ہیں۔ مودی حکومت کی جانب سے منریگا کو ختم کیا جانا، بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توہین ہے، اور اس پر پارٹی رہنما سونیا گاندھی نے بھی حال ہی میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم آئین کی ہدایات کے مطابق شہریوں کو حاصل حقوق پر حملہ ہے۔ کانگریس کی قیادت والی متحدہ اتحاد حکومت نے شہریوں کے لیے کام کا حق، خوراک کا حق، تعلیم کا حق اور صحت کا حق جیسی اسکیمیں شروع کی تھیں، لیکن یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے شہریوں کے ان حقوق پر منصوبہ بند طریقے سے ظالمانہ حملہ کیا ہے۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں