
رمضان کی آمد سے قبل مہنگائی کی نئی لہر، کھجور اور گوشت کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں
رمضان المبارک کی آمد سے چند ہی روز قبل وادی کشمیر کے بازاروں میں مہنگائی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آ گیا ہے۔ بالخصوص کھجور، گوشت اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کے سبب عام صارفین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ جموں و کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مقدس مہینے میں لوگوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
رمضان سے قبل ہر سال کھجوروں کی مانگ بڑھ جاتی ہے، تاہم اس بار قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ شہرِ سری نگر کے مختلف بازاروں میں کھجور کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ معمولی معیار کی کھجوریں جہاں گزشتہ سال 250 سے 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھیں، وہاں اب ان کی قیمت 350 سے 450 روپے تک جا پہنچی ہے، جب کہ اعلیٰ معیار کی ایرانی اور سعودی کھجوریں 700 سے 1,200 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہیں۔
سری نگر کے ایک دکاندار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، 'مانگ بہت زیادہ ہے اور مال کم آ رہا ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ صارفین کو مناسب ریٹ پر چیزیں فراہم کریں۔' تاہم اس دکاندار کے اس دعوے کے برعکس صارفین کا کہنا ہے کہ کئی فروش ایسے ہیں جو رمضان کے نام پر از خود قیمتیں بڑھا کر ناجائز منافع خوری میں لگے ہیں۔
لال چوک کے رہائشی اور سرکاری ملازم نثار احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا،ہر سال رمضان سے پہلے مہنگائی بڑھتی ہے مگر اس بار تو حالات ہاتھ سے نکلتے نظر آ رہے ہیں۔ کھجور، سمر بیوریجز، بیسن، تیل ہی نہیں بلکہ گوشت کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حکومت کو فوری مانیٹرنگ ٹیمیں بازاروں میں بھیجنی چاہئیں۔
اسی طرح صورہ کی خاتونِ خانہ رابعہ جان کا کہنا ہے،گھر کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی متاثر ہے، اب رمضان کے آتے ہی بازاروں میں بے قابو مہنگائی نے پریشانی بڑھا دی ہے۔ انتظامیہ کو کم از کم اس مقدس مہینے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے اور منافع خوروں پر سخت جرمانے عائد کرنے چاہئیں۔
گوشت کی قیمتیں بھی ان دنوں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ سرکاری ریٹ 700 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن شہر کے کئی علاقوں میں 750 روپے فی کلو تک گوشت فروخت ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قصاب اکثر سرکار کے حکم ناموں کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں اور بازار میں من مانی قیمت وصول کر کے صارفین کو لوٹ رہے ہیں۔
حضرت بل کے ایک نوجوان طالب علم فیصل نبی نے یو این آئی کو بتایا،ہم طالب علم ہیں، محدود خرچ ہوتا ہے۔ روزہ داری کے لیے جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں انہی کی قیمتیں سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ انتظامیہ صرف بیانات دیتی ہے، زمینی سطح پر کارروائی نظر نہیں آتی۔
عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر مارکیٹ چیکنگ مہم شروع کرنی چاہیے، ریٹ لسٹ کو ہر دکان پر آویزاں کروانا چاہیے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ضبطگی اور جرمانے کیے جائیں۔
یو این آئی نامہ نگا ر کے مطابق بعض علاقوں میں سبزیوں کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور چاول، تیل، پھلوں سمیت ضروری اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ماہِ رمضان میں متوسط اور غریب طبقے کے لیے اپنے گھروں کا بجٹ چلانا مشکل ہو جائے گا۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس اور لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ریٹ مانیٹرنگ سیل، مستقل فیلڈ انسپیکشن اور سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقدس مہینے کا استقبال آسانی اور سکون کے ساتھ کیا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان سے قبل ہزاروں ٹن کھجور کشمیر پہنچتے ہیں، مگر اس بات کی کوئی واضح ضمانت نہیں ہوتی کہ ان کی کوالٹی عالمی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ لوگوں نے زور دے کر کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء، خصوصاً مذہبی اہمیت رکھنے والی مصنوعات میں کوئی بھی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہے۔
سری نگر کے معروف کھجور تاجر ظہور احمد ترمبو نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھجوروں کی خرید و فروخت میں غیر سنجیدہ عناصر کی مداخلت تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پر کئی ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو مختلف پیشوں سے وابستہ ہونے کے باوجود رمضان کے دوران کھجور بیچنے لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا، 'حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر کسی اور پیشے سے جڑے ہوتے ہیں، رمضان آتے ہی کھجوروں کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ بے روزگاری اپنی جگہ لیکن ہر کوئی حساس فوڈ بزنس میں نہیں آسکتا۔ظہور ترمبو کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر سرگرم کچھ 'انفلانسر بھی مبالغہ آرائی اور غلط تشہیر کے ذریعے صارفین کو گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، 'انفلانسر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن ان میں زمینی حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ کئی لوگ ایسی کھجوروں کا بھی دعویٰ کرتے ہیں جو کشمیر میں دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔'
انہوں نے خاص طور پر مدینہ منورہ کی ایک معروف نوعیت کی کھجور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھجور صرف مخصوص باغات میں پائی جاتی ہے اور کشمیر تک اس کی باقاعدہ برآمد نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود کچھ دکاندار اس کھجور کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض موسمی دکاندار ایک ہی قسم کی کھجور پر رعایت کا جھانسہ دے کر خریدار کو اپنی دکان تک بلاتے ہیں، مگر وہاں جا کر ریٹ اور کوالٹی بالکل مختلف فراہم کی جاتی ہے، جو صریحاً دھوکہ دہی ہے۔
ظہور احمد ترمبو نے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کھجور کی دکانوں اور سوشل میڈیا پر فروخت کرنے والے افراد کی سختی سے سیمپلنگ کی جائے تاکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہ ہو۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور معتبر دکانداروں سے ہی خریداری کریں۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مہنگائی، ناجائز منافع خوری، جعلی اشیاء کی فروخت اور غیر معیاری کھجوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ صارفین سکون کے ساتھ خریداری کر سکیں اور کسی دھوکے کا شکار نہ ہوں۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



