مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

وادیٔ کشمیر میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر، اسپتالوں میں مریضوں کا اضافہ

3 منٹ کی پڑھائی

سردیوں کی آمد کے ساتھ جب وادی میں درجۂ حرارت مسلسل نیچے جا رہا ہے، فضائی آلودگی میں غیرمعمولی اضافہ ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ خشک موسم، دھوئیں کے بڑھتے ذرائع اور ٹریفک کے غیر معمولی دباؤ نے ہوا کے معیار کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ کئی علاقوں میں فضا دھند آلود اور سانس لینے میں دشوار محسوس ہو رہی ہے۔
وادی کے کئی حصوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے فضا میں دھند اور مٹی کے باریک ذرات کی واضح تہہ دیکھی جارہی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر قائم فضائی معیار کی پیمائش کرنے والے اسٹیشنوں نے پی ایم10 اور پی ایم 2.5 کی مقدار مسلسل حدِ سلامت سے تجاوز کرتی ہوئی ریکارڈ کی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پی ایم 10 کی سطح 136 سے 243 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر کے درمیان جبکہ پی ایم 2.5 کی سطح 86 سے 167 مائیکرو گرام تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق بارش کی غیر موجودگی نے آلودگی کو گرانے کے قدرتی عمل کو روک دیا ہے۔ اسی دوران ٹریفک جام، نجی گاڑیوں کا بڑھتا استعمال، کول بُخاریوں اور لکڑی کے چولہوں سے اٹھنے والا دھواں، اور تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گرد نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق خراب ہوتی ہوئی ہوا کا اثر اسپتالوں کے ایمرجنسی اور او پی ڈی میں فوراً دکھائی دینے لگا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں کھانسی، سانس پھولنے، سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن اور گلے کی خراش کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سی او پی ڈی اور دمہ کے مریضوں کی تعداد میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی نہ صرف پہلے سے موجود امراض کو بگاڑ دیتی ہے بلکہ صحت مند افراد میں بھی سانس کی نئی شکایات پیدا کرتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور مریضوں میں خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرینِ قلب بھی صورتحال کو انتہائی سنجیدہ قرار دے رہے ہیں۔ جی ایم سی سرینگر کے ایک ماہرِ امراضِ قلب نے بتایا کہ باریک ذرات خون میں شامل ہو کر سوزش پیدا کرتے ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک، بلند فشارِ خون، دل کی بے ترتیبی اور فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناقص ہوا صرف پھیپھڑوں تک محدود مسئلہ نہیں، بلکہ یہ انسانی جسم کے متعدد اہم نظاموں کو متاثر کرتی ہے اور مسلسل ایکسپوژر سے مہلک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
تحقیقات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آلودہ فضا انسانی ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ مسلسل آلودگی کے باعث تھکاوٹ، نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، اضطراب اور قوتِ مدافعت میں کمی جیسے مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حالات میں بہتری نہ لائی گئی تو آنے والے دنوں میں وبائی نوعیت کے صحتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ادھر ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ان کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ دھند اور آلودگی والے دنوں میں کم سے کم وقت گھر سے باہر گزاریں، بالخصوص صبح اور شام کے اوقات میں جب آلودگی اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کھڑکیاں بند رکھنے، ماسک استعمال کرنے، زیادہ پانی پینے، گھروں میں ایئر پیوریفائر لگانے اور کمزور مدافعت والے مریضوں کا خصوصی خیال رکھنے کی تاکید کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مشورہ دیا کہ کچرا اور بایو ماس جلانے سے سختی کے ساتھ پرہیز کیا جائے۔
ماحولیاتی کارکنوں اور ماہرین نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو محض موسمی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کرے، بلکہ ایک جامع اور طویل مدتی پالیسی ترتیب دے جس میں شہری منصوبہ بندی، ٹریفک مینجمنٹ، شجرکاری، صاف توانائی اور صنعتی اخراج کے کنٹرول جیسے اقدامات شامل ہوں۔ اگر موسم خشک ہی رہا اور مؤثر پالیسی پر فوری عمل درآمد نہ ہوا تو ماہرین کے مطابق وادیٔ کشمیر کو اس موسمِ سرما میں شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں