
مختصر ٹیسٹ میچ تجارت کے لیے بہتر نہیں : کرکٹ آسٹریلیا
ملبورن :کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ٹوڈ گرین برگ نے خبردار کیا ہے کہ "مختصر دورانیے کے ٹیسٹ میچز کاروبار کے لیے نقصان دہ ہیں"۔ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن ریکارڈ ناظرین کی موجودگی کے باوجود 20 وکٹیں گرنے پر انہوں نے اعتراف کیا کہ اس صورتحال نے ان کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کو امید تھی کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان جاری باکسنگ ڈے ٹیسٹ شائقین کی آمد کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا، کیونکہ سیریز کا فیصلہ ہو جانے کے باوجود پہلے تین دنوں کے ٹکٹوں کی پیشگی فروخت اور پوری سیریز کے دوران ٹکٹوں کی طلب غیر معمولی رہی تھی۔
تاہم، پرتھ میں کھیلے گئے دو روزہ ٹیسٹ کے پہلے دن 19 وکٹیں گرنے کے باعث بورڈ کو تقریباً 50 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (33 لاکھ امریکی ڈالر) کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ اب اگر ملبورن ٹیسٹ بھی محض چھ سیشنز کے اندر ختم ہو جاتا ہے، تو کرکٹ آسٹریلیا کو ایک بار پھر بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، باوجود اس کے کہ پہلے دن 94,199 شائقین کی ریکارڈ تعداد اسٹیڈیم میں موجود تھی اور دوسرے دن کے تمام ٹکٹ بھی فروخت ہو چکے تھے۔
دوسرے دن کا کھیل شروع ہونے سے قبل 'ایس ای این' سے گفتگو کرتے ہوئے، جب گرین برگ سے پوچھا گیا کہ کیا ایک دن میں 20 وکٹوں کا گرنا لمحہ فکریہ ہے، تو انہوں نے جواب دیا: "میرا دو ٹوک جواب 'ہاں' ہے۔ بطور مداح یہ منظر دلکش اور دلچسپ تھا، ہم سب یہی چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کا دورانیہ طویل ہو۔"
انہوں نے مزید کہا: "سادہ الفاظ میں کہوں تو مختصر ٹیسٹ میچز تجارت کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ گیند اور بلے کے درمیان توازن برقرار رہے۔ میرے خیال میں کل پچ کا جھکاؤ گیند بازوں کی طرف کچھ زیادہ ہی تھا۔ اگرچہ اس میں بلے بازوں کی بھی کچھ ذمہ داری ہے اور سارا ذمہ پچ پر نہیں ڈالا جا سکتا، لیکن ہمارے سامنے کچھ سنگین چیلنجز ضرور موجود ہیں۔"
کئی سابق کھلاڑیوں اور ماہرین نے پہلے دن ایم سی جی کی پچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فاسٹ باؤلرز کے لیے ضرورت سے زیادہ سازگار تھی۔ جب گرین برگ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ میچوں کا دورانیہ بڑھانے کے لیے پچوں کی تیاری میں مداخلت کرے گی، تو انہوں نے کہا: "تاریخی طور پر ہم نے پچوں کی تیاری میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، لیکن جب کھیل پر اس کے تجارتی اثرات مرتب ہوتے ہیں تو خاموش رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم گراؤنڈ اسٹاف کو براہ راست ہدایات دیں گے، لیکن ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ سیزن کے حوالے سے ہماری توقعات کیا ہیں۔"
واضح رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا رواں برس پہلے ہی اخراجات میں کٹوتی کی مہم کے تحت اپنے کئی انتظامی ملازمین کو فارغ کر چکا ہے اور ہائی پرفارمنس سمیت دیگر شعبوں میں بھی بچت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گرین برگ اس وقت بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانے کے پیچیدہ عمل میں مصروف ہیں، ایسے میں ٹیسٹ میچ کا وقت سے پہلے ختم ہونا ان کے لیے ایک نیا مالی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔
گرین برگ نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا: "سچ تو یہ ہے کہ کل رات میں ٹھیک سے سو نہیں سکا۔ ٹیسٹ کرکٹ کا وہ ایک یادگار دن تھا اور ناظرین نے اس سے بھرپور لطف اٹھایا، لیکن ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس تجربے کو اگلے کئی دنوں تک کیسے برقرار رکھا جائے۔"
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



