
بجٹ عام لوگوں کے لیے مایوس کن، غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک: اپوزیشن
مرکزی بجٹ پر منگل کے روز دوسرے دن کی بحث کے دوران اپوزیشن نے بجٹ کو کسانوں، غریبوں اور دیگر ضرورت مند طبقات کے لیے مایوس کن قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جبکہ حکمراں جماعت نے اسے وکست بھارت کی جانب ایک اہم قدم بتایا۔ بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے ملک میں سرکاری قرض میں اضافے، مستقل اور معیاری روزگار کے مواقع میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بجٹ میں اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ بحث کے آغاز میں کانگریس کے پرمود تیواری اور چند دیگر ارکان نے ضابطے کا سوال اٹھانے کی کوشش کی، جسے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے مسترد کر دیا۔
بجٹ 2026-27 پر دوسرے دن کی عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے شیو سینا کے ملند دیوڑا نے کہا کہ یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب دنیا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے سب سے غیر مستحکم دور سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیاسی و معاشی اتھل پتھل کے باوجود ہندوستان وسیع معاشی ترقی اور استحکام کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری، رفتار اور جدت طرازی کو فروغ دیں۔
انہوں نے پی چدمبرم کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں نجی سرمایہ کاری 6.5 لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی جو 2021 کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومت نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فراموش کر دیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم کے ذریعے 12 لاکھ روزگار پیدا کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے 'جن وشواس ایکٹ کے ذریعے کاروبار میں آسانی پیدا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قوانین کے باعث کاروبار کرنا مشکل ہو گیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے جن وشواس ایکٹ کے ذریعے ایک ہزار سے زیادہ قید کی دفعات ختم کر کے کاروباری ماحول کو آسان بنایا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی معیشت کو "کمزور" قرار دینے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت ہے، یو پی آئی کے ذریعے روزانہ 75 کروڑ ڈیجیٹل لین دین ہو رہے ہیں، جن دھن یوجنا کے تحت 50 کروڑ بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں اور جی ایس ٹی وصولی چار برسوں میں 11 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 22 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دریں اثنا دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) کی ڈاکٹر کنی موزی این وی این نے بجٹ کو "بے مقصد" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کسانوں، غریبوں اور ضرورت مند طبقات کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تمل ناڈو، کرناٹک، کیرالہ اور مغربی بنگال جیسی اہم ریاستوں کو نظر انداز کیا گیا جبکہ بہار اور اتر پردیش کو ترجیح دی گئی۔ ان کے مطابق بجٹ مالیاتی نظم و ضبط کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا کیونکہ قرض کا بڑا حصہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔
بی جے پی کے سریندر سنگھ ناگر نے بجٹ کو ملک کی ترقی کی راہ دکھانے والا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق 2014 میں ہندوستان کی معیشت دسویں مقام پر تھی اور آج نمایاں ترقی کر چکی ہے۔
کانگریس کے نیرج ڈانگی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اعداد و شمار کی چمک تو ہے لیکن عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کوئی واضح قدم نظر نہیں آتا۔ انہوں نے بجٹ کے دن بمبئی اسٹاک ایکسچینج کے سینسیکس میں 2300 پوائنٹس کی گراوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ سرمایہ کاروں، بازار اور عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ ان کے مطابق سرکاری سرمایہ جاتی اخراجات بڑھانے کے باوجود مستقل روزگار کے مواقع میں اضافہ نہیں ہوا اور لوگ عارضی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان کو بھی بجٹ میں خاطر خواہ حصہ نہیں ملا، جہاں تقریباً 3200 پرائمری اسکول عمارتوں کے بغیر چل رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وسائل میں ریاست کا حصہ 6.03 فیصد سے کم ہو کر 5.9 فیصد رہ گیا ہے۔
ترنمول کانگریس کے سکھندو شیکھر رائے نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا یہ بجٹ چارواک فلسفے جیسا ہے، یعنی قرض لے کر خرچ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو کوئی راحت نہیں ملی اور ملک میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بعض شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کو 2027 تک ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس بار ذاتی انکم ٹیکس دہندگان کو کوئی راحت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے 65 فیصد وسائل پر صرف 10 فیصد لوگوں کا قبضہ ہے جبکہ 90 فیصد عوام کے پاس صرف 35 فیصد وسائل ہیں۔ اگر بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر توجہ نہ دی گئی تو ملک میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
راشٹریہ جنتا دل کے پروفیسر منوج جھا نے کہا کہ حکومت معیشت کی تیز رفتار ترقی کے دعوے تو کر رہی ہے، لیکن یہ نہیں دیکھ رہی کہ بے روزگاری کس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آمدنی میں عدم مساوات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کو آتش فشاں کی طرف لے جا رہی ہے۔ رکنِ پارلیمان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 39 کے مطابق بجٹ کو جامع ہونا چاہیے، لیکن موجودہ بجٹ اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ معیشت میں گِگ ورکرز کی بڑھتی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔وائی ایس آر سی پی کے میدا رگھوناتھ ریڈی نے بجٹ کی حمایت تو کی لیکن یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ انکم ٹیکس کی وصولی میں اضافے کے باوجود حکومت نے عام لوگوں کو مہنگائی سے راحت پہنچانے کی سمت میں بجٹ میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔
بیجو جنتا دل کے مانس رنجن منگراج نے کہا کہ بجٹ میں اوڈیشہ کو خصوصی امداد دینے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سرفراز احمد نے بجٹ کو انتہائی الجھا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینے والے اور لینے والے دونوں ہی تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ اس میں کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا کھیل ہے، جیسے یہ کہا جا رہا ہے کہ فلاں فلاں جگہ ایمس کھول دیا گیا ہے لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ وہاں ڈاکٹر موجود ہیں یا نہیں۔ رکن نے جھارکھنڈ کے واجب الادا پیسوں کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
آزاد رکن اجیت کمار بھویان نے کہا کہ یہ بجٹ کسانوں، خواتین اور مزدوروں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن بجٹ میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کے سکندر کمار نے کہا کہ بجٹ میں تمام طبقات کو راحت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد ہماچل پردیش میں ایمس، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اور تکنیکی اداروں کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
کانگریس کی جے ایم ہشام نے کہا کہ بجٹ میں اقتصادی سروے میں بتائے گئے چیلنجز کا حل پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف سنکلپ، کرتویہ اور سدھی جیسے الفاظ سننے کو ملے، لیکن روزگار میں اضافے، سرمایہ جاتی اخراجات اور کسانوں و نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی بات نظر نہیں آئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو شاندار قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کیا یہ واقعی ایک شاندار معاہدہ ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ بجٹ میں کیرالہ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
بیجو جنتا دل کے شبھاشیش کھنٹیا نے کہا کہ نوین پٹنائک کی قیادت میں ریاستی حکومت ایک ہی انجن سے ریاست کو ترقی کی راہ پر لے جا رہی تھی لیکن اب دو انجن ملنے کے باوجود اوڈیشہ ترقی کے بجائے مخالف سمت میں بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوڈیشہ کو آج بھی خصوصی ریاست کے درجے کا انتظار ہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



