
کانگریس ملک کے مفاد میں کام نہیں کر سکتی: مودی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے تناظر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کانگریس پر عوام کو "گمراہ" کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ اپوزیشن پارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال میں ملک کے مفادات کے لیے ذمہ داری سے کام نہیں کر سکتی۔اسمبلی انتخابات کی جانب بڑھتے ہوئے آسام میں ایک پروگرام کے دوران مسٹر مودی نے کہا، "ایک طرف بی جے پی-این ڈی اے حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے، لیکن کانگریس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں کام نہیں کر سکتی۔ اب بھی، جنگ کے وقت میں، کانگریس افواہیں پھیلانے اور قوم کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔وزیراعظم کی کانگریس پر اس تنقید کی وجہ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ کے پیشِ نظر رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے شدید حملے ہیں۔ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی لال قلعہ سے دی گئی یومِ آزادی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: "میں کانگریس میں اپنے دوستوں سے کہوں گا کہ وہ سنیں کہ پنڈت نہرو نے 15 اگست کی ایک تقریر میں کیا کہا تھا۔ نہرو جی نے کہا تھا کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اب، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا ہندوستان سے کتنی دور ہیں؟ اور انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں قیمتیں جنگ کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ اب کانگریس موجودہ عالمی صورتحال کے درمیان لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔"
مسٹر مودی نے کہا کہ کووڈ اور جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں کھادوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پچھلی دہائی کے دوران اپنے خزانے سے 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں تاکہ ہندوستان کے کسانوں کو بین الاقوامی بحران سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے دور میں کسانوں کو اپنی پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے طور پر صرف 6.50 لاکھ کروڑ روپے ملے، جبکہ این ڈی اے کے دور میں کسانوں کو 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ایم ایس پی کے طور پر ملے ہیں۔
مسٹر مودی نے ریاست میں برسرِاقتدار رہنے کے دوران آسام کے چائے کے باغات کے کارکنوں کے مسائل سے آنکھیں چرانے پر کانگریس کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں چائے کے باغات کے کارکنوں کے پاس اپنی زمین کے قانونی کاغذات نہیں تھے۔انہوں نے کہا، "لیکن بی جے پی-این ڈی اے حکومت نے نہ صرف انہیں عزت دی ہے، بلکہ آج انہیں ان کی زمین کے مالکانہ حقوق بھی دے دیے ہیں۔ این ڈی اے حکومت کی بدولت انہیں زمین کے حقوق ملے ہیں اور اب ان کے پاس اپنی زمین ہے۔" وزیراعظم نے جذباتی انداز میں کہا کہ چائے کے باغات کے کارکنوں کا احترام کرنا کسی قرض کو اتارنے جیسا ہے۔ انہوں نے پوچھا، "آپ نے آسام کے چائے کے باغات میں کام کیا اور آپ کی پیداوار گجرات تک پہنچی۔ اور اب میں آپ کی تیار کردہ چائے بیچ کر یہاں تک پہنچا ہوں۔ اگر مجھے چائے کے باغات کے کارکنوں کی دعائیں نہ ملتیں، تو کیا میں یہاں تک پہنچ پاتا؟"
ریاست کی موجودہ بی جے پی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسام اب شمال مشرق کے لیے ایک ماڈل ہے۔ یہاں کی حکومت کی کارکردگی نے شمال مشرق میں ترقی کو ایک نئی رفتار دی ہے۔ انہوں نے پڑوسی ریاست مغربی بنگال کا بھی ذکر کیا، جہاں بی جے پی نے ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت کو چیلنج کر رکھا ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا: "جو تبدیلیاں بی جے پی کی زیرِ قیادت این ڈی اے حکومت آسام میں لائی ہے، اب ان کے اثرات مغربی بنگال میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ وہاں بھی لوگ اب بی جے پی-این ڈی اے حکومت کی بہتر حکمرانی چاہتے ہیں۔"
کوکراجھار کی گزشتہ دہائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی ان پہاڑیوں میں بم اور بندوقوں کی گونج سنائی دیتی تھی، لیکن آج یہاں کی تصویر بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب 'خام (روایتی ڈھول) کی تھاپ اور 'سیفنگ (بانسری) کی مدھر دھنیں گونج رہی ہیں۔ مسٹر مودی نے اسے بوڈولینڈ میں امن اور ترقی کے نئے باب کا آغاز قرار دیا اور اعلان کیا کہ یہاں بننے والی ریلوے ورکشاپ اس خطے کو لاجسٹکس کا بڑا مرکز بنائے گی۔
وزیرِ اعظم نے کانگریس پر "غداری" کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے "جھوٹے وعدوں کی دکان" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بیٹھی کانگریس کی سابقہ حکومتوں نے صرف دکھاوے کے لیے کاغذی معاہدے کیے اور برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے۔ اس کے برعکس انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد حکومت کو "پائیدار امن کا ماڈل" قرار دیا۔
سکیورٹی کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ دراندازوں کا ساتھ دے کر یہاں کی 'روٹی، بیٹی اور ماٹی' کو خطرے میں ڈالا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی قیادت میں جاری تجاوزات مخالف مہم کی تعریف کی اور کہا کہ اب مقامی باشندوں کو ان کی زمین کے قانونی دستاویزات مل رہے ہیں۔
بوڈو ثقافت اور شناخت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف بوڈو زبان کو 'معاون سرکاری زبان' کا درجہ دیا بلکہ روایتی عقیدے 'باتھو' کو بھی قومی سطح پر سناخت دلائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہتھیار چھوڑنے والے تقریباً 10 ہزار نوجوان اب مرکزی دھارے کا حصہ ہیں۔ اس پروگرام میں آسام کے گورنر لکشمن پرساد اچاریہ، وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، مرکزی وزیر سربانند سونووال اور بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل (بی ٹی سی) کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہلاری سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

