مواد پر جائیں
سیاست

راجیہ سبھا میں کھڑگے کی تقریر کے کچھ حصوں کو حذف کرنے پر تنازعہ، بحال کرنے کا مطالبہ

Awaze Bihar2 منٹ پڑھیں

نئی دہلی راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ 4 فروری کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران ان کی تقریر کے ایک بڑے حصے کو بغیر کسی معقول وجہ کے کارروائی سے ہٹا دیا گیا ۔
کھڑگے نے وقفہ صفر کے بعد ایوان میں کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی واضح کیا تھا کہ صدر جمہوریہ کا خطاب قومی اہمیت کے مسائل کو اٹھانے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے، لیکن کئی اہم موضوعات اس میںشامل نہیں ہوتے ۔ اسی تناظر میں انہوں نے سماجی انصاف، پارلیمانی طریقہ کار اور حکومتی پالیسیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ ان کی تقریر کے لفظی متن کا جائزہ لینے پر، انہیں پتہ چلا کہ ان کی تقریر کے وہ حصے حذف کئے گئے ہیں،جن میں انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی کاموں پر حقائق پر مبنی تبصرے کیے تھے اور وزیر اعظم کی کچھ پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر یہ ان کی ذمہ داری ہے۔
اپنے پانچ دہائیوں سے زیادہ کے پارلیمانی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے، کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایوان کے وقار ، اقدار اور روایات پر ہمیشہ عمل کیا ہیاور یہ کہ ان کے بیان میں کوئی غیر پارلیمانی یا توہین آمیز الفاظ نہیں تھا، اور نہ ہی اصول 261 کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 105(1)کے تحت ارکان پارلیمان کو حاصل آزادی ٔاظہارکا حوالہ دیتے ہوئے حذف کئے گئے حصے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ حذف شدہ حصے عوام کے ساتھ شیئر کرنے پر مجبور ہوں گے۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے جواب دیا کہ خارج کیے گئے حصے کو عوامی طور پر شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ سینئر ممبر ہیں، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ جو کچھ بھی کاروائی دے ہٹا دیا گیا ہے ، اسے حذف کر دیا گیا ہے۔ ‘‘
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اسپیکر کے فیصلے پر سوال اٹھانے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قاعدہ 261 کے تحت اسپیکرکی رائے میں کوئی الفاظ یا بیان توہین آمیز یا غیر پارلیمانی ہو تو انہیں حذف کرنے کا اختیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قائد حزب اختلاف کا اسپیکر پر وزیراعظم کوبچانے کا الزام غیر اخلاقی ہے۔
اس معاملے پر اپوزیشن ارکان نے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھانے کی کوشش کی تاہم اسپیکر نے اس کی اجازت نہیں دی اور وقفہ سوالات کی کارروائی شروع کر دی۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں