آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


سو سال قبل جب ہندوستان برطانیہ کے زیر نگیں تھا، اس وقت ملک کے فکری اور سیاسی منظرنامے میں دو بالکل مختلف نظریات نے جنم لیا۔ ان نظریات نے برسوں لوگوں کے فکری رویہ کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی البتہ چونکہ ان دونوں کی فکری اساسیں ضرورت اور جذبات پر استوار ہوئیں۔ لہٰذا جب جذبات کے دھاروں کا زور بڑھا تو عام زندگی کی ضروریات، محنت و روزگار کے پہلوؤں پر اٹھنے والا شور محض شور ہی رہ گیا اور جذبات پر مبنی رجھان نے سیاست سے لے کر زندگی کے ہر شعبے پر اپنا شکنجہ اتنا مضبوط کرلیا کہ اس کی گرفت سے نکلنا شاید ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی) اور دیگر پارٹیاں وہ پارٹیاں رہی ہیں جن کی ابتداء انہی دو متناقض نظریات پر اپنی بنیادیں استوار کرنے میں کامیاب ہوئیں ہیں۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کانگریس اور مہاتما گاندھی کی قیادت میں شدت اختیار کر چکی تھی۔ اسی دوران 1917 میں روس میں بوشیوک انقلاب برپا ہوا، جس نے پوری دنیا میں سیاسی سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزدوروں اور کسانوں کی حکمرانی کا تصور ہندوستان تک بھی پہنچا۔ بیرون ملک مقیم کچھ ہندوستانی اور خلافت تحریک سے وابستہ افراد روس گئے، جہاں انہوں نے کمیونسٹ نظریات سے متاثر ہو کر ایک نئی سیاسی سمت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ سال 1920 میں بیرون ملک کمیونسٹ پارٹی بنانے کی ایک ابتدائی کوشش ضرور ہوئی لیکن یہ ایک چھوٹا سا گروہ تھا اس لیے یہ کوشش زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ تاہم نظریہ زندہ رہا۔ بالآخر 1925 وہ سال ثابت ہوا جس نے ہندوستانی سیاست کی تاریخ بدل دی۔ 27 ستمبر 1925 کو آر ایس ایس کی بنیاد رکھی گئی اور اسی سال 26 دسمبر کو کانپور میں ایک تاریخی کانفرنس کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا وجود میں آئی۔ 26 سے 28 دسمبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں تقریباً 500 مندوبین نے شرکت کی۔ یہاں ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد واضح اور انقلابی تھا، ’’برطانوی سامراج حکومت سے ہندوستان کی آزادی، پیداوار اور تقسیم کے ذرائع کی سماجی کاری اور اسی بنیاد پر مزدوروں اور کسانوں کی جمہوریہ کی تشکیل۔اس انقلابی روایت میں مولانا حسرت موہانی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ حسرت موہانی نہ صرف ایک عظیم شاعر اور ادیب تھے بلکہ عملی سیاست میں بھی بے مثال جرات اور اصول پسندی کی مثال تھے۔ وہ ان اولین رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے 1921 میں سب سے پہلے 'انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ بلند کیا اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے مکمل آزادی (پورن سوراج) کا مطالبہ کیا۔ حسرت موہانی کا جھکاؤ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کی طرف تھا اور وہ مزدوروں، کسانوں اور مظلوم طبقات کے حق میں واضح موقف رکھتے تھے۔ انہوں نے کمیونسٹ تحریک کی اخلاقی اور فکری بنیاد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حسرت موہانی کے علاوہ ایم این رائے، ایس اے ڈانگے، مظفر احمد، پی سی جوشی اور دیگر انقلابی رہنماؤں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کو نظریاتی اور تنظیمی بنیادیں فراہم کیں۔ ان رہنماؤں نے مزدور تحریک، کسان سبھا اور ٹریڈ یونینز کے ذریعے عوام کو منظم کیا۔ انگریزی حکومت کے جبر، قید و بند اور پابندیوں کے باوجود انقلابیوں نے استحصال کے خلاف آواز بلند رکھی۔ جو لوگ کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے یا 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں اس سے وابستہ تنظیموں کے قریب آئے ان میں فکری، ثقافتی، فنکارانہ اور ادبی دنیا کی کئی نامور شخصیات تھیں۔ ان شخصیات میں نغمہ نگار پریم دھون، مخدوم محی الدین، کیفی اعظمی، جان نثار اختر، سجاد ظہیر، رشید جہاں، ساحر لدھیانوی، خواجہ احمد عباس، اداکار بلراج ساہنی، اے کے ہنگل، دینا پاٹھک اور زہرہ سہگل، فلم ساز ریتک گھٹک، موسیقار سلل چودھری، ناگارجن، رام ولاس شرما، علی سردار جعفری، انا بھاؤ ساٹھے، امر شیخ، ڈی این گونکر، مکتی بودھ اور سبط حسن شامل تھے۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں سی پی آئی کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ 1934 سے 1942 اور پھر 1945 سے 1947 تک پارٹی پر پابندی رہی۔ انہی مشکل برسوں میں پی سی جوشی سی پی آئی کے جنرل سکریٹری بنے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت نے پارٹی کو ایک نئی سمت دی اور عوامی تحریکوں سے جوڑ دیا۔
1942 کے بعد سی پی آئی کی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی۔ آزادی کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھری اور کانگریس کے بعد دوسری بڑی جماعت بنی، جس کے 16 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ تاہم 1964 میں نظریاتی اختلافات کے باعث پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی (سی پی ایم ) ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی۔
بعد کے برسوں میں سی پی آئی نے کئی سیاسی موڑ دیکھے۔ ابتدا میں اس نے اندرا گاندھی کی حکومت کی حمایت کی لیکن بعد میں بائیں بازو کے اتحاد کا حصہ بن گئی۔ 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں سی پی آئی مرکزی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا اور آئی کے گجرال کی حکومتوں میں شمولیت ہو یا 2004 سے 2008 تک پہلی یو پی اے حکومت میں بائیں محاذ کا حصہ بننا، سی پی آئی ہر اہم موڑ پر موجود رہی، اگرچہ جوہری معاہدے کے مسئلے پر اس نے حمایت واپس لے لی۔
آج سو سال بعد سی پی آئی ایک محدود مگر نمایاں موجودگی کے ساتھ کھڑی ہے۔ لوک سبھا میں اس کے دو ارکان ہیں، دونوں تمل ناڈو سے ہیں جبکہ راجیہ سبھا میں کیرالہ سے دو نمائندے ہیں۔ پارٹی کے پاس تین ریاستوں میں مجموعی طور پر 20 ایم ایل اے ہیں اور بہار و تلنگانہ میں ایک ایک قانون ساز کونسل کے رکن ہیں۔ کیرالہ، تمل ناڈو اور منی پور میں سی پی آئی کو ریاستی جماعت کا درجہ حاصل ہے اور کیرالہ و تمل ناڈو میں وہ حکمران اتحاد کا حصہ بھی ہے۔ سی پی آئی کے لیے آنے والے سال ایک بار پھر فیصلہ کن ہیں۔ کیرالہ اور تمل ناڈو کے انتخابات نہ صرف اس کی سیاسی بقا بلکہ اس کی صدی بھر کی نظریاتی وراثت کا امتحان بھی ہیں۔ یوں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا سو سالہ سفر محض ایک جماعت کی تاریخ نہیں بلکہ ہندوستان میں نظریات، جدوجہد، قربانیوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک طویل اور معنی خیز کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو آج بھی جاری ہے۔







