مواد پر جائیں
قومی

اقلیتوں کے بچوں میں اسکول چھوڑنے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے: اویسی

Awaze Bihar7 منٹ پڑھیں

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں بجٹ 2026-27 کو حکمراں جماعت کے اراکین نے ملک کی ہمہ جہت معاشی ترقی کے لیے متوازن قرار دیا ہے، جب کہ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں روزگار پیدا کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے رکن ارون بھارتی نے بجٹ 2026-27 پر گزشتہ روز کی ادھوری بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں ہندستان کے مضبوط معاشی مستقبل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کی معاشی طاقت کا اصل سہارا ملٹی نیشنل کمپنیاں نہیں بلکہ ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے روایت کو توڑتے ہوئے ہر سال بڑھنے والے انکم ٹیکس کے تصور کو ختم کیا اور ملک کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر راج کمار چبےوال نے کہا کہ بجٹ میں بے روزگاری ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کا معاملہ بھی اٹھایا اور سوال کیا کہ آخر ایسی کیا مجبوری تھی کہ جلد بازی میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 12,950 کروڑ روپے مرکز کے پاس پڑے ہیں اور یہ رقم فوری طور پر پنجاب حکومت کو جاری کی جانی چاہیے۔
بی جے پی کے سدھیر گپتا نے کہا کہ بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے 6 لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے کا بڑا التزام کیا گیا ہے۔ مختلف وزارتوں میں ہر طبقے کو خود کفیل بنانے کے لیے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی فنڈ رکھا گیا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ معاشی ترقی کے لیے تجارتی معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ کسانوں کو جدید زراعت سے جوڑنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں نمایاں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور 'کھیلو انڈیا' جیسے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ صحت کے اداروں کی بہتری، سیاحت اور بازآبادکاری کے لیے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بجٹ کو انقلابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کسانوں کے مفاد کے لیے اہم قدم اٹھائے گئے ہیں۔
سکم کرانتی کاری مورچہ کے اندرا ہانگ سبا نے بجٹ کو ہندستان کے ہر خطے اور ہر شہری کی امنگوں کا عکاس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تمام طبقات کا خیال رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ہمالیائی ریاستوں کے لیے تحقیقی ادارے قائم ہونے چاہئیں۔ شمال مشرقی ریاستوں میں ہینڈلوم اور دیگر مصنوعات کے معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے گا۔
آزاد سماج پارٹی کے چندر شیکھر نے کہا کہ بجٹ میں بے روزگاری کے حل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مہنگائی کا بوجھ سب پر پڑ رہا ہے لیکن اس کے لیے بھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سماجی انصاف کے ڈھانچے کو مضبوط نہیں کر رہی، اس لیے طلبہ کو بروقت اسکالرشپ ملنی چاہیے اور تمام طبقات کے مفاد میں صحت کی خدمات کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سب کو برابر حقوق نہیں ملتے ملک کی ترقی ممکن نہیں۔
ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے بجٹ کو خواتین، غریبوں، درج فہرست ذاتوں، قبائل اور کسانوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مغربی بنگال کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی اور بنگلہ بولنے والوں کی فلاح کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایس آئی آر پر جواب دینے اور بنگال کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکز پر غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ سرحدی امور سے متعلق بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ اقلیتوں کے بچوں میں اسکول چھوڑنے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آسام میں تعلیم چھوڑنے والے اقلیتی بچوں کی شرح 30 فیصد اور مغربی بنگال میں 40 فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی امور کے لیے کم از کم دس ہزار کروڑ روپے کا بجٹ دیا جانا چاہیے۔ اس حکومت کے آنے کے بعد سے ملک بہت کمزور ہو گیا ہے، پہلے نوجوان فوج میں جاتے تھے لیکن اب حالت یہ ہے کہ فوج میں بھرتیاں نہیں ہو رہی ہیں اس لیے فوج میں بھرتی کے لیے 'اگنی ویر اسکیم پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا جا رہا ہے لیکن امریکہ کا ہندوستان سے ہوئے معاہدے سے بہت زیادہ لینا دینا نہیں ہے۔ اس نے بنگلہ دیش کو کہہ دیا ہے کہ امریکہ اس سے کپڑا خریدے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور اسے کچھ نہیں دے رہی۔
آزاد رکن محمد حنیفہ نے کہا کہ لداخ میں بے روزگاری کا مسئلہ بہت پرانا ہے لیکن حکومت سے جو بات ہوئی ہے اسے لے کر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور بات چیت پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ لداخ میں باغبانی ایک 'گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے لیکن وہاں اس کے نفاذ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انڈین یونین مسلم لیگ کے ڈاکٹر ایم پی عبدالصمد صمدانی نے کہا کہ ملک کی اتنی بڑی آبادی کو معیشت کی اہمیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ملک کے ایک فیصد لوگوں کے پاس ملک کی 40 فیصد دولت ہے۔ ایسی حالت میں کیسے وکست بھارت بنائیں گے؟ حکومت کو بتانا چاہیے کہ گزشتہ 10 برسوں میں کتنی نوکریاں پیدا کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کے وظائف کی رقم میں مسلسل کٹوتی کی جا رہی ہے۔کیرالہ کانگریس کے کے. فرانسس جارج نے بجٹ پر بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ یہ کسان دشمن بجٹ ہے۔ چھوٹی، انتہائی چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں کا شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں 30 فیصد کا تعاون دیتا ہے لیکن اس شعبے کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت روزگار کی فراہمی ایک بڑا معاملہ ہے اور روزگار کے لیے جامع منصوبے کی ضرورت ہے لیکن بجٹ میں اس جانب توجہ نہیں دی گئی ہے۔
یونائیٹڈ پیپلز پارٹی کے جوئنتا بسومتاری نے کہا کہ بجٹ میں شمال مشرقی خطے (نارتھ ایسٹ) کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ بوڈولینڈ کی بھی ان دیکھی کی گئی ہے، جس کا خیال رکھا جانا چاہیے تھا۔شیو سینا کے شریکانت شندے نے کہا کہ یہ بجٹ وکست بھارت بنانے کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت مسلسل پھل پھول رہی ہے اور یہ آج ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دے رہی ہے۔ بجٹ میں خواتین کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
آزاد رکن امیش بھائی بابو بھائی پٹیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کا جو ماحول ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اقتدار میں موجود لوگ ایوان چلانا نہیں چاہتے اور اپوزیشن ایوان چلنے نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں صرف بڑے لیڈروں اور بڑی ریاستوں کو ہی نہیں بلکہ چھوٹی ریاستوں اور چھوٹی جماعتوں کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ راجیہ سبھا خوب چلتی ہے لیکن لوک سبھا چلتی ہی نہیں ہے۔
ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی کے این کے پریم چندرن نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کل اخراجات ادائیگیوں میں چلے جاتے ہیں۔ پورے بجٹ میں جو تجاویز ہیں کیا ان کے ذریعے 2047 کے وکست بھارت کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا؟ اقتصادی سروے میں پانچ چیلنجز دیے گئے ہیں جن میں بے روزگاری، ناکافی سرمایہ کاری، اسٹریٹجک وسائل سے معیشت کو مضبوط کرنا اور تعلیم کا چیلنج شامل ہے لیکن اقتصادی سروے میں اس کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ملک کے سامنے اخراجات اور آمدنی (ریونیو) کی جو صورتحال ہے اس سے 2047 میں وکست بھارت کی تعمیر کیسے کی جا سکتی ہے؟
جن سینا پارٹی کے تنگیلا ادے سری نواس نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو بہترین وزیر خزانہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے مہارت کے فروغ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ وزارتوں کے لیے جو بجٹ بڑھایا ہے اس سے واضح ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور زیادہ نوجوانوں کو ملازمتیں دستیاب ہو سکیں گی۔
بی جے پی کے ودیویت ورن مہتو نے کہا کہ بجٹ روزگار اور صنعتی ترقی کا واضح اعلان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی سرمایہ کاری سے بڑھتی ہے اور جب حکومت چھوٹی صنعتوں کے لیے اور سیمی کنڈکٹر جیسے اہم شعبے کے لیے بڑا بجٹ دیتی ہے تو یہ ترقی کے لیے سرمایہ کاری ہے اور اس سے روزگار پیدا ہوگا۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں