RSS decides to increase focus on youth and women


لکھنؤ، 6 دسمبر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی برسی کے موقع پر ایک نیا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا نعرہ جے جوان، جے کسان، جے سنودھان ہونا چاہیے۔
مسٹر یادو نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا، ’’آئین کے حوالے سے کوئی نفع و نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ سب کو ایک طرف ہونا چاہیے، اپنی رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ آئین صرف کتاب نہیں، بنیاد بھی ہے۔ ایک جمہوریت کے لیے سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آئین کو بچانے پر بحث ہو رہی ہے جبکہ آئین کے مطابق ملک کو آگے بڑھانے کی بات ہونی چاہیے۔ آئین پر بحران آنا دراصل جمہوریت پر بحران چھا جانا ہے۔ جو آئین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، وہ جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور جمہوریت کے مخالف وہی ہوتے ہیں جو آمریت لانا چاہتے ہیں۔ آئین حق دیتا ہے اور جو حق چھیننا چاہتے ہیں، وہ آئین کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا، میں نے کئی بار کہا ہے اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ آئین ہی سنجیونی ہے۔ اس میں ملک کو بہتر بنانے اور بہتر رکھنے کی طاقت ہے۔ آئین جمہوریت کا کرم گرنتھ ہوتا ہے، اس لیے ہمارے لیے آئین ہی کرم گرنتھ ہے۔ ملک آئین سے چلنا چاہیے، 'من ودھان سے نہیں۔ آئین ہی پی ڈی اے کا روشن مینار ہے کیونکہ یہی فرد کی عزت اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ یہ پی ڈی اے سماج کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے اور ظالموں کو سزا دلاتا ہے۔ اسی لیے پی ڈی اے والوں کے لیے آخری امید کا نام آئین ہے۔
مسٹر یادو نے کہا، آئین ہی ہمارا حفاظتی کوچ ہے، آئین ہی ہماری ڈھال ہے۔ آئین ہے تو سلامتی ہے، آئین ہے تو طاقت ہے۔ آئین ہی ملک کی 90 فیصد محروم، پسماندہ، متاثرہ اور نظرانداز شدہ آبادی کے حقوق کا سچا محافظ ہے۔ آئین ہی سب سے بڑا مددگار ہے۔ اسی لیے پی ڈی اے کے لیے آئین کی حفاظت زندگی اور موت کا سوال ہے۔ جو آئین نہیں مانتے، ان کے لیے یہ صرف خالی کاغذ ہے۔ آئین ہی جمہوریت کی سانس ہے اور آئین کو غیر مؤثر کرنا آزادی کو غیر مؤثر کرنا ہے۔ آئین کو غلام بنا کر جو لوگ حکومت کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے 'آزادی کا امرت کال بھی صرف ایک جملہ ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا،آخر میں، میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ 'آئین زندہ رہے گا، انصاف زندہ رہے گا اور اگر انصاف زندہ رہے گا تو سب کو یکساں احترام، مساوی مواقع اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو جائے گا، اسی لیے آج آئین کو بچانے کے لیے ایک اور کرو یا مرو تحریک کی ضرورت ہے۔







