
بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی دراندازی کا خاتمہ ہو گا: امت شاہ
کولکاتا، 30 دسمبر (ایجنسی): مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو ممتا بنرجی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال خوف، بدعنوانی اور دراندازی سے دوچار ہے، اور اب ریاست ایک ایسی حکومت چاہتی ہے جو ترقی، سلامتی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے۔ امیت شاہ نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔امت شاہ نے سالٹ لیک، کولکاتا میں 30 دسمبر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس دن 1943 میں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے پورٹ بلیئر میں آزاد ہند فوج کا پرچم لہرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہر ہندوستانی کے لئے فخر کی علامت ہے۔ آٹھ دہائیوں کے بعد، بنگال ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر ہے، اور اب سے اپریل تک کا عرصہ ریاست کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے لوگ ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں خوف کے ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بی جے پی کارکن عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد بدعنوانی اور دراندازی کو مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دراندازی کو روکنے کے لیے اتنا مضبوط انتظامی نظام بنایا جائے گا کہ ایک پرندہ بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور نہیں کر سکے گا۔ بی جے پی نہ صرف دراندازی کو روکے گی بلکہ تمام دراندازوں کی نشاندہی کرکے انہیں نکال باہر کرے گی۔
امت شاہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی قیادت میں بنگال کی ترقی پوری طرح سے رک گئی ہے۔ ملک کے دوسرے حصے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن پیسے میں کٹوتی اور بدعنوانی نے بنگال میں ترقی کی رفتار کو روک دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 15 اپریل 2026 کے بعد، بی جے پی کی حکومت کے قیام کے ساتھ، بنگال اپنی کھوئی ہوئی شان کو دوبارہ حاصل کر لے گا اور ریاست کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جیسا کہ عظیم مفکرین نے تصور کیا تھا۔
بی جے پی کے سیاسی سفر کو یاد کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ پارٹی کی جڑیں جن سنگھ میں ہیں جس کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے رکھی تھی۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعہ بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اجاگر کیا۔ 2014 میں بی جے پی کو 17 فیصد ووٹ اور دو لوک سبھا سیٹیں ملی تھیں۔ 2016 میں، اسے 10 فیصد ووٹ اور تین ایم ایل اے ملے تھے۔ 2019 میں بی جے پی کو 41 فیصد ووٹ ملے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں، پارٹی نے 77 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، ریاست میں کانگریس کو صفر پر کم کر دیا اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کی بنیاد کو ختم کر دیا۔ 2024 میں بی جے پی نے 39 فیصد ووٹ اور 12 لوک سبھا سیٹیں حاصل کیں۔ امیت شاہ نے کہا کہ یہ رجحان 2026 میں بی جے پی کو اقتدار میں لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تیسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد مہاراشٹر، ہریانہ، دہلی اور بہار میں بی جے پی کی حکومتیں بنیں۔ 2024 میں اڈیشہ اور آندھرا پردیش میں بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومتیں بنیں۔ اسی سلسلے میں 2026 میں مغربی بنگال بھی بی جے پی میں شامل ہو جائے گا۔دراندازی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے امت شاہ نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس حکومت جان بوجھ کر دراندازی کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی زمین فراہم کر رہی ہے جس سے پورے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے آرٹیکل 370 جیسے ہر قومی اقدام کی مخالفت کی ہے۔ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے سوال کیا کہ ریاستی حکومت سرحد پر باڑ لگانے کے لیے زمین کیوں فراہم نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال جغرافیائی طور پر ایک حساس ریاست ہے، جہاں درانداز ہر گاؤں تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بنگال کبھی ملک کی جی ڈی پی میں تیسرے نمبر پر تھا، لیکن آج یہ گر کر 22ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ بنگال میں لوگ قومی اوسط سے زیادہ کماتے تھے، لیکن اب یہ گھٹ کر 73 روپے رہ گیا ہے۔ سونار بنگلہ کے نام سے پہچانی جانے والی شناخت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ 7000 سے زیادہ کمپنیاں ریاست چھوڑ چکی ہیں۔آخر میں، امت شاہ نے مغربی بنگال کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کانگریس، بائیں بازو اور ترنمول کانگریس کو آزمایا ہے، لیکن ریاست صرف پیچھے رہ گئی ہے۔ دوسری طرف، بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ترقی اور اچھی حکمرانی واضح ہے۔ انہوں نے کہا، ''بی جے پی کو زبردست حمایت دیں، جو بنگال کو دوبارہ عظیم بنائے گا اور مفکرین کے خوابوں کا مغربی بنگال بنائے گا۔''
مسٹر شاہ نے مزید کہا، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم بنگال کے عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں اور وعدہ بھی کرتے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی یہاں کے ثقافتی ورثے کو بحال کیا جائے گا، ترقی کا عمل تیز ہوگا اور غریبوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ممتا راج میں پچھلے 14 سال سے خوف اور بدعنوانی بنگال کی پہچان بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، 15 اپریل 2026 کو بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی ہم 'بنگو گرو' (بنگال کا فخر)، بنگالی ثقافت اور اس کے نئے دور کاآغاز کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال کو سوامی وویکانند، بنکم چندر چٹرجی، گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور اور شیاما پرساد مکھرجی کے خوابوں کا بنگال بنانے کی کوشش کرے گی۔
مسٹر شاہ اس کی یاد دہانی کرائی کہ سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو مغربی بنگال میں 17 فیصد ووٹ اور دو سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں 2016 کے اسمبلی انتخابات میں ہمیں 10 فیصد ووٹ ملے اور تین سیٹیں حاصل ہوئیں۔ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کا ووٹ فیصد بڑھ کر 41 فیصد ہو گیا اور 18 سیٹیں ملیں۔ انہوں نے 2021 کے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، اس میں ہمیں 38 فیصد ووٹ اور 77 سیٹیں ملی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کی بنیاد بنگال میں رکھی گئی تھی، لیکن آج وہ پارٹی یہاں صفر پر پہنچ گئی ہے اور ریاست میں 34 سال تک حکومت کرنے والے کمیونسٹ اتحاد کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی، جبکہ ہماری پارٹی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی نے 39 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 12 سیٹیں جیتیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2026 میں ہم یقینی طور پر مضبوط اکثریت کے ساتھ بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنانے والے ہیں۔مسٹر شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال کی سرحد سے ہونے والی دراندازی صرف بنگال کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی ثقافت کو بچانا ہے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، تو بنگال کی سرحدوں کو سیل کرنے والی حکومت لانی پڑے گی۔ یہ کام صرف بی جے پی کر سکتی ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان میں بنکم چندر چٹرجی کے تخلیق کردہ 'وندے ماترم' پر بحث کی ترنمول کانگریس نے مخالفت کی ہے، کیونکہ اس بحث کی حمایت کرنے سے انہیں اپنے ووٹ بینک کے ناراض ہو جانے کا خطرہ تھا۔ انہوں نے بنگال کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو مکمل اکثریت سے جتائیں۔ انہوں نے ملک کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے بی جے پی کو عوام کی مضبوط حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔
مسٹر شاہ نے اس موقع پر نیتا جی سبھاش چندر بوس کو یاد کیا اور کہا کہ آج 30 دسمبر کا دن ہم تمام ہندوستانیوں کے لیے فخر کا دن ہے۔ بنگال کی سرزمین کے سپوت اور عظیم مجاہدِ آزادی سبھاش چندر بوس نے آج ہی کے دن 1943 میں پورٹ بلیئر میں پہلی بار آزاد ہندوستان کا پرچم لہرایا تھا، جو ہماری آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

