مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

توانائی کا تحفظ آج کی سب سے اہم ضرورت: دروپدی مرمو

3 منٹ کی پڑھائی

صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ ایک متوازن ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صاف ہوا اور محفوظ آبی ذرائع بھی بے حد اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جتنی زیادہ توانائی کا تحفظ اور بچت کریں گے، وہ فطرت کے تئیں ہماری ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کے تئیں ہماری حساسیت کی علامت ہوگی۔
محترمہ مرمو نے اتوار کے روز یہاں 'یوم قومی تحفظ توانائی' کے موقع پر قومی توانائی تحفظ ایوارڈ اور قومی مصوری مقابلہ انعامات کی تقسیم کی تقریب میں یہ بات کہی۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ماحول دوست اور قابلِ اعتماد طریقے سے توانائی کا تحفظ ہی توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
توانائی کا تحفظ محض ایک انتخاب نہیں، بلکہ آج کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ تحفظ توانائی کا مطلب صرف کم استعمال کرنا نہیں، بلکہ توانائی کو سمجھ داری، ذمہ داری اور مہارت کے ساتھ استعمال کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم بجلی کے آلات کے غیر ضروری استعمال سے بچتے ہیں، توانائی مؤثر آلات اپناتے ہیں، اپنے گھروں اور کام کی جگہوں پر قدرتی روشنی اور ہوا داری کا استعمال کرتے ہیں یا شمسی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اپناتے ہیں، تو ہم نہ صرف توانائی بچاتے ہیں، بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی لاتے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کا تحفظ آج کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان اور بچے توانائی کے تحفظ کے تئیں باخبر ہو کر اس سمت میں کوشش کریں تو اس میدان میں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ملک کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سستی اور صاف توانائی تک رسائی برادریوں کو بااختیار بناتی ہے۔ یہ مقامی معیشت کو فروغ دیتی ہے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے سبز توانائی صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں، بلکہ یہ بااختیاری اور ہمہ گیر ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ 'پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا' اور 'نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن' جیسی پہلیں حیاتی ایندھن پر انحصار کو کم کر رہی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی ذمہ داری اور پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیموں کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کو اپنانے اور توانائی کی کارکردگی کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023-24 میں ہندوستان کی توانائی مؤثریت کی کوششوں کے نتیجے میں 5.36 کروڑ ٹن تیل کے برابر توانائی کی بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے باعث سالانہ نمایاں معاشی بچت ہو رہی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی خاصی کمی آئی ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کے توانائی تغیر (انرجی ٹرانزیشن) کی کامیابی کے لیے ہر شعبے اور ہر شہری کی شمولیت ضروری ہے۔ تمام شعبوں میں توانائی کی مؤثریت لانے کے لیے رویّوں میں تبدیلی بے حد ضروری ہے۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرکے متوازن طرزِ زندگی اپنانے کا جذبہ ہندوستان کی ثقافتی روایت کی بنیادی اساس ہے۔ یہی جذبہ دنیا کے لیے ہمارے پیغام ''لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ ۔ لائف'' کی بنیاد بنتا ہے۔
انہوں نے توانائی کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے تمام شراکت داروں کی ستائش کی اور کہا کہ ان کا تعاون آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور روشن مستقبل کو یقینی بنائے گا۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں