آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


پیوش گوئل
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) وزیر اعظم نریندر مودی کی تجارتی سفارت کاری میں ایک اسٹریٹجک اور اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، جو روزگار کے مواقع میں تیزی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور بھارت بھر میں چھوٹے کاروباروں، طلبہ، خواتین، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے انقلابی امکانات پیدا کرتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم عزت مآب کرسٹوفر لکسن کی جانب سے مشترکہ طور پر اعلان کیا گیا یہ معاہدہ مودی حکومت کے تحت طے پانے والا ساتواں ایف ٹی اے ہے اور 2025 میں مکمل ہونے والا تیسرا بڑا تجارتی معاہدہ ہے، جس سے قبل برطانیہ اور عمان کے ساتھ تاریخی اور باہمی فائدے پر مبنی معاہدے کیے جا چکے ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام ایف ٹی اے ایسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہیں جن کی فی کس آمدنی بھارت سے کہیں زیادہ ہے، جو عالمی تجارتی مذاکرات میں بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ساکھ کو واضح کرتا ہے۔ہر معاہدہ تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد طے کیا گیا ہے، تاکہ متوازن نتائج یقینی بنائے جا سکیں اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ حقیقی معنوں میں باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔نوکریاں ، ترقی اور بازار تک رسائیاس ایف ٹی اے کا ایک مرکزی ستون روزگار پیدا کرنا ہے ۔ نیوزی لینڈ بھارتی برآمدات کے 100فیصد تک صفر ڈیوٹی رسائی فراہم کرے گا ، جس سے بھارت کے محنت کشوں سے متعلق شعبوں جیسے ٹیکسٹائل ، چمڑے ، ملبوسات ، جوتے ، سمندری مصنوعات ، جواہرات اور زیورات ، دستکاری اور انجینئرنگ کے سامان کو بڑا فروغ ملے گا ۔ اس سے بھارتی کارکنوں ، کاریگروں ، خواتین کاروباریوں ، نوجوانوں اور ایم ایس ایم ایز کو براہ راست فائدہ ہوگا۔بھارت نے اپنی اب تک کی بہترین مارکیٹ رسائی اور خدمات کی پیشکش بھی حاصل کی ہے ، جس میں 118 خدمات کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے ، جن میں ٹیلی مواصلات ، تعمیر ، آئی ٹی ، مالیاتی خدمات ، سفر اور سیاحت شامل ہیں ۔ یہ توسیع شدہ رسائی بھارتی پیشہ ور افراد اور کاروباروں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی ۔پیشہ ور افراد، طلبہ اور نوجوانوں کے لیے مواقعیہ معاہدہ بھارتی پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے نیوزی لینڈ میں داخلے اور قیام سے متعلق سہولیات کو مزید بہتر بناتا ہے۔ اس کے تحت دورانِ تعلیم کام کرنے، تعلیم مکمل ہونے کے بعد روزگار حاصل کرنے اور ایک منظم ورکنگ ہالیڈے ویزا فریم ورک کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔اب سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس تین سال تک کام کر سکیں گے، جبکہ ڈاکٹریٹ کے طلبہ کو چار سال تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے بھارتی نوجوانوں کو عالمی سطح پر بے مثال تجربہ اور کیریئر کے نئے راستے میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ ایک نیا عارضی ملازمت انٹری ویزا بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو بین الاقوامی مواقع کے خواہاں ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد کی مزید معاونت کرے گا۔کسانوں کے لیے خوشحالی کی راہوزیر اعظم نریندر مودی کا وژن بالکل واضح ہے وہ یہ کہ بھارتی کسانوں کو عالمی سطح پر باوقار اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ ایف ٹی اے اسی عزم کی عملی عکاسی کرتا ہے۔اس معاہدے کے تحت زرعی پیداواری شراکت داری قائم کی گئی ہے، جس میں سیب، کیوی اور شہد شامل ہیں، جس کا مقصد ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے باسمتی چاول کو جغرافیائی شناخت (جی آئی) کی سطح پر تحفظ فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے، جو بھارتی چاول کے کاشتکاروں کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا۔اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے چاول، ڈیری، گندم، سویا اور دیگر اہم زرعی مصنوعات جیسے حساس شعبوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے اور کسی بھی ایسی منڈی کو کھولنے سے گریز کیا گیا ہے جو گھریلو روزگار اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔جدید ایف ٹی اے اور سرمایہ کاری کے وعدےآج بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے صرف ٹیرف میں کمی تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ یہ کسانوں، ایم ایس ایم ایز، خواتین اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے مؤثر ذرائع بن چکے ہیں، ساتھ ہی قومی مفادات کے مکمل تحفظ کو بھی یقینی بناتے ہیں۔مختلف تجارتی معاہدوں کے تحت بھارتی برآمدات کو فوری یا تیز رفتاری سے ٹیرف سے نجات ملتی ہے، جبکہ بھارت اپنی منڈی کو مرحلہ وار اور متوازن انداز میں کھولتا ہے۔ نیوزی لینڈ نے آئندہ 15 برسوں میں 20 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا عہد کیا ہے، جو یورپی ایف ٹی اے شراکت دار ممالک سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور لیختن اسٹائن کے ساتھ بھارت کے معاہدے میں شامل جدید سرمایہ کاری سے جڑی شقوں سے ہم آہنگ ہے۔نیوزی لینڈ کے لیے یہ بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک بڑی جست ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں نیوزی لینڈ نے بھارت میں تقریباً 643 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ نیا وعدہ آئندہ 15 برسوں میں تقریباً 1.8 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اضافہ ہے، جسے ایک کلا بیک میکانزم کی پشت پناہی حاصل ہے، تاکہ اگر سرمایہ کاری کے اہداف پورے نہ ہوں تو مناسب کارروائی کی جا سکے۔اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ زراعت، ڈیری، ایم ایس ایم ایز، تعلیم، کھیلوں اور نوجوانوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا، جس سے ہمہ گیر اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔بھارت کا پہلا خواتین کی قیادت میں طے پانے والا ایف ٹی اےیہ معاہدہ ایک تاریخی سنگِ میل بھی ہے، کیونکہ یہ بھارت کا پہلا خواتین کی قیادت میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ چیف مذاکرات کار، ڈپٹی چیف مذاکرات کار، اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری کے شعبوں کی سربراہان، حتیٰ کہ نیوزی لینڈ میں بھارت کی سفیر تک تقریباً پوری مذاکراتی ٹیم خواتین پر مشتمل تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ باصلاحیت اور باوقار بھارتی خواتین وزیر اعظم کے ترقیاتی ایجنڈے میں تیزی سے قیادت کا کردار ادا کر رہی ہیں۔بھارت کی ایف ٹی اے حکمتِ عملی بھارت نیوزی لینڈ ایف ٹی اے بھارت کی واضح حکمتِ عملی کی بہترین مثال ہے وہ یہ کہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ شراکت داری ہو جو بھارتی مصنوعات کے ساتھ غیر منصفانہ مقابلہ کیے بغیر بھارت کی محنت کشوں سے متعلق صنعتوں کے لیے اپنی منڈیاں کھولیں ۔ مودی حکومت کے تحت تجارتی معاہدے محض لین دین پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ یہ معیشت کو مضبوط بنانے اور بھارتی عوام خصوصاً سب سے کمزور طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے کے وسیع تر مشن کا حصہ ہیں۔ اسی حکمتِ عملی نے بھارت کو 2014 میں “فریجائل فائیو” کہلانے والی معیشتوں میں شامل ہونے سے نکال کر آج عالمی ترقی کا ایک اہم محرک اور دنیا بھر میں تجارت و سرمایہ کاری کا پسندیدہ شراکت دار بنا دیا ہے۔آج بھارت اعتماد اور مضبوطی کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ زراعت، ڈیری اور دیگر حساس شعبے مکمل طور پر محفوظ رہیں، اور معاہدے صرف اسی صورت میں کیے جائیں جب وہ حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہوں۔تجارتی حکمرانی میں خوش آئند تبدیلیبھارت کا موجودہ تجارتی رویہ ماضی کے طریقۂ کار سے بالکل مختلف ہے۔ پہلے کی تجارتی حکمتِ عملیوں میں لاپرواہی کے ساتھ بھارتی منڈیوں کو کم قیمت والی درآمدات کے لیے کھول دیا جاتا تھا، جس سے چھوٹے کاروبار اور روزگار خطرے میں پڑ گئے اور اکثر مناسب مشاورت بھی نہیں کی جاتی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی فیصلہ کن قیادت نے عالمی سطح پر بھارت کے وقار، ساکھ اور مذاکراتی طاقت کو بحال کیا ہے۔بھارت نیوزی لینڈ ایف ٹی اے، جسے بھارتی صنعتوں میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، 2014 کے بعد حکمرانی میں آنے والی اسی خوش آئند تبدیلی کا نتیجہ ہے۔اشیا، خدمات، سرمایہ کاری اور افرادی نقل و حرکت کو یکجا کرتے ہوئے اور قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ یہ معاہدہ بھارت کی جدید، جامع اور متوازن تجارتی سفارت کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان اقتصادی اشتراک مزید گہرا ہو رہا ہے، یہ ایف ٹی اے اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ تجارت کس طرح منڈیوں کو کھولنے کے ساتھ ساتھ انسان مرکوز ترقی اور سرحدوں کے پار مشترکہ خوشحالی کو فروغ دے سکتی ہے۔
(مصنف تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر ہیں)







