مواد پر جائیں
قومی

ممبئی میں شاندار جشنِ اُردو: صحافت، ادب اور ثقافت کے رنگ، کل ہند مشاعروں نے سماں باندھ دیا

Awaze Bihar4 منٹ پڑھیں

اُردو زبان و ادب کی ترویج، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور صحافتی شعور کی بیداری کے عزم کے ساتھ ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو میں منعقدہ سہ روزہ جشنِ اُردو اپنی فکری، ادبی اور ثقافتی ہمہ گیری کے باعث اہلِ زبان کے لیے ایک یادگار اور تاریخی موقع ثابت ہوا۔ اُردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے یونیورسٹی کیمپس کے فیروز شاہ مہتا ہال میں منعقد اس شاندار جشن میں جہاں معیاری ادبی و ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے، وہیں کل ہند سطح کے مشاعروں نے محبانِ اُردو کے دلوں کو مسحور کر دیا۔
اس سہ روزہ جشن کے دوران اُردو صحافت، ادب، شاعری اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ اور بامقصد سرگرمیوں کا انعقاد ہوا۔ خصوصاً ’’صحافت اور نئے چیلنجز‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ فکری اعتبار سے نہایت اہم اور بروقت ثابت ہوا، جس میں عصری صحافت کو درپیش مسائل پر کھل کر گفتگو کی گئی۔
اس مذاکرے میں سینئر صحافی جاوید جمال الدین، ٹائمز آف انڈیا کے سینئر مدیر محمد وجیہہ الدین، روزنامہ انقلاب کے سب ایڈیٹر قطب الدین شاہد، اُردو چینل کے مدیر ڈاکٹر قمر صدیقی اور انیس صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ ناسک یونیورسٹی کے راشد اشرف خان نے نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
مذاکرے کے دوران مقررین نے سوشل میڈیا کے بے قابو اثرات، بریکنگ نیوز کی غیر ذمہ دارانہ دوڑ، کارپوریٹ دباؤ، صحافتی اقدار کے زوال اور صحافیوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے سنگین مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں اظہار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں صحافت کی ساکھ اور سنجیدگی کے لیے خطرات بھی پیدا کیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ اور ذمہ دار صحافت کی اشد ضرورت ہے۔
جشنِ اُردو کی ایک نمایاں خصوصیت کل ہند مشاعرے رہے، جن میں ملک کے ممتاز اور کہنہ مشق شعرا نے شرکت کر کے اپنے منتخب اور معیاری کلام سے سامعین کو دیر تک محظوظ کیا۔ ایک مشاعرے کے مہمانِ خصوصی اسلم چشتی نے کلام پیش کرنے سے قبل جشنِ اُردو کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چوتھا ایڈیشن اپنی انفرادیت کے باعث ملک بھر میں منعقد ہونے والے دیگر جشنِ اُردو سے الگ شناخت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی نمائشی پہلو کے بجائے خالصتاً اُردو زبان کی خدمت کا جذبہ کارفرما ہے۔
مشاعروں کی صدارت معروف ادیب ونود کارتَر پانی نے کی، جبکہ شعرا میں وسیم خان وسیم، دانشاد ہمی، عبداللہ ندیم، عبید حارث، شہروز خاور، مقصود آفاق احمد، نِگ آبادی اور اختر جمال عراقی شامل تھے، جنہوں نے اپنے فکری، کلاسیکی اور عصری رنگوں سے مزین کلام کے ذریعے مشاعرے کو فنی بلندی عطا کی۔
مشہور شاعر، ممتاز محقق اور بے باک صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم نے کلام پیش کرنے سے قبل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جس زبان کے چاہنے والے بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے اس شان و شوکت اور نظم و ضبط کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر جشن منا رہے ہوں، وہ زبان کبھی زوال پذیر نہیں ہو سکتی‘‘۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ممبئی یونیورسٹی میں جس کثیر تعداد میں محبانِ اُردو شریک ہوئے، اتنی بڑی حاضری بعض اوقات سرکاری سرپرستی یافتہ پروگراموں میں بھی نظر نہیں آتی۔ عوامی تعاون سے منعقدہ اس جشن سے دیگر اُردو تنظیموں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر مہتاب عالم کے کلام کو سامعین نے بار بار فرمائش کر کے سنا اور ان کے اشعار نے محفل میں ایک خاص وجدانی کیفیت پیدا کر دی۔ کل ہند مشاعرے کی نظامت کے فرائض ممتاز محقق اور جشنِ اُردو کے روحِ رواں ڈاکٹر قمر صدیقی نے انجام دیے، جنہوں نے اپنے منفرد، شستہ اور پُر وقار اندازِ نظامت سے مشاعرے کو عروج بخشا۔
مشاعرے اور تقریبات میں شریک اہم سامعین میں جاوید جمال الدین، ڈاکٹر قاسم امام، ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی، فہد عرفان جعفری، محمد سلیمان فاروقی، ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر، ڈاکٹر رشید اشرف خان، تشکیل خان اور شاہ عالم منپوری سمیت ادب و صحافت کی کئی ممتاز شخصیات شامل رہیں۔
سہ روزہ جشنِ اُردو اس حقیقت کا واضح ثبوت بن کر سامنے آیا کہ اُردو آج بھی زندہ، متحرک اور عوام کے دلوں میں رچی بسی زبان ہے۔ ڈاکٹر قمر صدیقی، ڈاکٹر ذاکر، وسیم عقیل شاہ اور ان کے رفقا نے جس اخلاص، محنت اور حسنِ انتظام کے ساتھ اس جشن کو ممکن بنایا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ جشن نہ صرف اُردو زبان کے لیے ایک خوش آئند پیغام تھا بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عوامی تعاون، فکری وابستگی اور سچی لگن کے ساتھ اُردو کا مستقبل روشن بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں