
گجرات کی جھانکی میں ترنگے کا سفر، بہار کی جھانکی میں مکھانے کی طاقت نمایاں
کرتویہ پتھ پر پیر کے روز 77ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں وندے ماترم اور آتم نربھر بھارت کے موضوعات کے تحت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور 13 مرکزی وزارتوں کی جھانکیاں پیش کی گئیں، جن میں گجرات کی جھانکی میں ترنگے کا سفر اور بہار کی جھانکی میں مکھانے کی طاقت کی دلکش جھلک دیکھنے کو ملی۔
اس سال مختلف ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور وزارتوں کی جھانکیوں میں ہندوستان کی ثقافتی وراثت، تحریکِ آزادی، خود کفیلی ، تکنیکی ترقی اور قومی یکجہتی کی بھرپور عکاسی کی گئی۔ ریاستی جھانکیوں میں گجرات کی جھانکی خاص طور پر توجہ کا مرکز رہی، جس میں 1906 سے 1947 تک قومی پرچم کے سفر کو دکھایا گیا۔
گجرات کی جھانکی 'وندے ماترم' کے موضوع پر مبنی تھی۔ جھانکی کے اگلے حصے میں میڈم بھیکاجی کاما کا مجسمہ نصب تھا، جنہوں نے 1906 میں 'وندے ماترم' کے ساتھ ہندوستانی پرچم کا تصور پیش کیا تھا۔ جھانکی میں میڈم کاما کو اسی پرچم کے ساتھ دکھایا گیا۔ جھانکی کے آخری حصے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کو چرخے کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ان دونوں کے درمیان ترنگے کے سفر کے پانچ اہم مراحل-1906، 1907، 1917، 1921 اور بالآخر 1931-کو نمایاں کیا گیا۔
دوسری جانب، بہار نے اپنے مشہور مکھانے پر مبنی جھانکی پیش کی۔ 'لوکل سے گلوبل کی تھالی میں سپر فوڈ' کے نام سے مکھانے پر مرکوز اس جھانکی نے حاضرین کو کافی متاثر کیا۔ اس میں بہار کے 'سفید سونے' یعنی مکھانے کے متھلانچل سے نکل کر عالمی سطح پر ایک سپر فوڈ کے طور پر شناخت حاصل کرنے کی کہانی بیان کی گئی۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق، جھانکی کے مرکز میں موجود خاتون کا مجسمہ مکھانا تیار کرنے والی خاتون مزدوروں کی محنت کی علامت ہے۔ یہ جھانکی 21 خواتین نے مل کر تیار کی ہے۔
ریاستی جھانکیوں میں آسام کی جھانکی 'آشاریکانڈی' نے ٹیراکوٹا شلپ گرام کی روایتی فنکاری پیش کی۔ چھتیس گڑھ نے 'دی منتر آف فریڈم، وندے ماترم' کے موضوع کے تحت آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا۔ ہماچل پردیش نے 'دیودھرتی، ویردھرتی' کے طور پر اپنی روحانی اور بہادرانہ روایات کو پیش کیا۔ جموں و کشمیر کی جھانکی میں مقامی دستکاری اور لوک رقص دکھائے گئے۔ کیرالا نے 'واٹر میٹرو اور شت پرتیشد ڈیجیٹل ساکشرتا-آتم نربھر بھارت کے لیے آتم نربھر کیرالا' کے موضوع کے ذریعے جدید ترقی کی تصویر پیش کی۔
مہاراشٹر کی جھانکی 'گنیش اُتسو' خود کفیلی پر مرکوز رہی، جبکہ منی پور نے 'زرعی میدانوں سے بین الاقوامی منڈیوں تک: خوشحالی کی جانب' کے موضوع کو پیش کیا۔ ناگالینڈ کی جھانکی میں 'ہارن بل فیسٹیول: ثقافت، سیاحت اور خود انحصاری کا اتسو' دکھایا گیا۔
اڈیشہ کی جھانکی میں 'مٹی سے سلیکون تک: روایت میں جڑیں، اختراع کے ساتھ ترقی' کے ذریعے ثقافتی وراثت اور تکنیکی پیش رفت کا حسین امتزاج پیش کیا گیا۔ پڈوچیری نے 'دستکاری، ثقافت اور آروویل کے وژن کی بھرپور وراثت' کو پیش کیا، جبکہ راجستھان نے 'ریگستان کی سنہری چھاپ: بیکانیر کی سنہری فنکاری (اوستا آرٹ)' کو اجاگر کیا۔
تمل ناڈو کی جھانکی 'سمردھی کا منتر: آتم نربھر بھارت' کے موضوع پر مبنی تھی، جبکہ اتر پردیش نے 'بندیل کھنڈ کی ثقافت' کو پیش کیا۔ مغربی بنگال نے 'بھارت کی تحریکِ آزادی میں بنگال کے رول ' کو نمایاں کیا، مدھیہ پردیش نے 'پُنّیہ شلوک لوک ماتا دیوی اہلیابائی ہولکر' کے نام سے منسوب جھانکی پیش کی اور پنجاب کی جھانکی میں 'شری گرو تیغ بہادر صاحب جی کی شہادت کے 350 سال' کو یاد کیا گیا۔
مرکزی حکومت اور مسلح افواج کی جھانکیوں میں بھی ملک کی طاقت اور کامیابیوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ فضائیہ ہیڈکوارٹر کی جھانکی میں 'جنگ کے بعد ملک کی تعمیر میں سابق فوجیوں کے رول' کو ظاہر کیا گیا، جبکہ بحریہ ہیڈکوارٹر کی جھانکی 'سمندر سے خوشحالی' کے موضوع پر مبنی تھی۔
وزارتِ دفاع کے تحت تینوں افواج کی مشترکہ جھانکی 'آپریشن سندور: اشتراک سے فتح' کے موضوع پر پیش کی گئی، جس میں آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فضائیہ، بری فوج اور بحریہ کے رول کو دکھایا گیا۔ جھانکی میں رافیل لڑاکا طیارہ، آکاش گائیڈیڈ میزائل، فضائی دفاعی نظام ایس-400 کے ساتھ ساتھ پاکستان اور اس کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اُن ٹھکانوں کی تصاویر بھی شامل تھیں، جنہیں آپریشن سندور کے دوران تباہ کیا گیا۔
مرکزی وزارتوں کی جھانکیوں میں وزارتِ ثقافت، اسکولی تعلیم و خواندگی کے محکمے ، وزارتِ آیوش اور وزارتِ داخلہ کی جھانکیاں شامل تھیں۔ وزارتِ داخلہ کی ایک جھانکی 'بھُج زلزلہ: 25 برس کی مضبوطی' اور دوسری 'عوام مرکوز نظامِ انصاف: تین نئے فوجداری قوانین 2023' پر مبنی تھی۔
اس کے علاوہ ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارتِ، اطلاعات و نشریات کی وزارتِ، پنچایتی راج کی وزارتِ، بجلی کی وزارتِ اور ہنر مندی و کاروباری ترقی کی وزارتِ کی جھانکیاں بھی پریڈ میں شامل رہیں۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



