مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

ہلدوانی تشددمقدمہ:اترا کھنڈ ہائی کورٹ سےمزید تین ملزم کی ضمانت منظور

2 منٹ کی پڑھائی

ہلدوانی تشدد معاملے میں گذشتہ تقریباً دو دسالوں سے جیل کی اذیتیں جھیلنے والے تین غریب مزدوروں کی ضمانت کی عرضی گذشتہ کل اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے منظور کی۔
آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد اور طویل حراست کی بنیاد پر ملزمین کی مشروط ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تحریرکیا ہے کہ ملزمین کے خلاف کوئی ڈائریکٹ ثبوت نہیں ہے۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پنکج پروہت اور جسٹس منوج کمار تیواری نے گذشتہ ہفتہ ایڈوکیٹ سی کے شرما کی بحث کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ملزمین جنید، دانش ملک اور ایاز احمد کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے سی کے شرما نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمین کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں ہے اور نہ ہی پولس نے ملزم کے قبضے سے کسی طرح کا ہتھیار ضبط کیا ہے نیز یو اے پی اے قانون کا اطلاق مشکوک ہے۔ واضح رہے کہ ہلدوانی تشدد معاملے میں پولس زیادتیوں کے شکار ملزمین کو صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر قانونی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت گرفتار 79/ ملزمین کی ابتک ضمانت منظور ہوچکی ہے۔ملزمین ضیاء الرحمن عبدالرحمن، رئیس احمد، ذیشان پرویز کی ضمانت عرضی زیر سماعت ہے۔ دو ملزمین ضیاء الرحمن اور عبدالرحمن کی ضمانت عرضیوں پر 12/ دسمبر جمعہ کے دن سپریم کورٹ میں سماعت عمل میں آئے گی۔
جمعیۃ علماء قانونی امدادکمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 50/ اور دوسرے مرحلے میں 22/ ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت ہائی کورٹ سے منظورہوئی تھی جس میں چھ خواتین کی ڈیفالٹ ضمانتیں بھی شامل ہیں۔ ڈیفالٹ ضمانتیں منظور ہونے کے بعد یکے بعد دیگرے ملزمین کی ریگولر ضمانت عرضداشتیں داخل کی جارہی ہیں جس پر سینئر ایڈوکیٹ نتیاراما کرشنن بحث کریں گی۔گزشتہ کل دوران سماعت ایڈوکیٹ سی کے شرما کی معاونت ایڈوکیٹ مجاہد احمد،ایڈوکیٹ نتین تیواری، ایڈوکیٹ وجئے پانڈے، ایڈوکیٹ منیش پانڈے، ایڈوکیٹ آصف علی، ایڈوکیٹ دانش علی، ایڈوکیٹ ضمیر احمد، ایڈوکیٹ محمد عدنان ودیگر نے کی جبکہ ملزمین کے اہل خانہ کے ہمراہ مولانا مقیم قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد قاسم(ناظم اعلی جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد عاصم (شہر صدرجمعیۃ علماء ہلدوانی)،مفتی لقمان،ڈاکٹر عدنان، عبدالحسیب و دیگر موجودتھے۔ 8/ فروری 2024 / کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر کے مسلم اکثریتی علاقے بن بھولپورہ میں بدامنی پھیل گئی تھی جب مبینہ طورپر تعمیر شدہ مسجداورمدرسے کا انہدام کرنے کے لئے پولس پہنچی تھی۔ انہدامی کارروائی سے قبل پولس اور علاقے کے لوگوں میں جھڑپ ہوگئی جس کے بعد پولس فائرنگ میں پانچ مسلم نوجوانوں کی موت ہوگئی تھی۔اس واقع کے بعد بن بھولپورہ پولس نے 101 مسلم مر د و خواتین کے خلاف تین مقدمات درج کئے تھے اور ان پر سخت قانون یو اے پی اے کا اطلاق بھی کیا تھا۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں