آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


غزہ : حماس کے ایک سینیئر رہنما نے جمعہ کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوںسے بات کرتے ہوئے کہا ہے حماس غزہ پر اپنی حکمرانی جاری رکھنے کی آرزومند نہیں رہی ہے۔اس رہنما نے مزید کہا پہلے ہی حماس ٹیکنوکریٹس کی ایسی کمیٹی کی تشکیل سے اتفاق کر چکی ہے جو مستقبل میں غزہ کے انتظامی امور کو دیکھے گی۔حماس کے ذمہ دار نے کہا گروپ نے پہلے ہی وہ تمام نام تجویز کر دیے ہیں جو اس ٹیکنوکریٹ باڈی کا حصہ ہوں گے۔ کیونکہ اندرونی طور پر ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کی فہرست پر اتفاق ہو چکا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا اس کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت جاری ہے۔ جبکہ اسرائیل رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ اس کی رکاوٹوں کا مقصد اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے میں مسائل پیدا کرنا ہے جو زمین پر ہونا ضروری ہیں۔
بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے سے ایک سوال پر حماس کے ذمہ دار نے کہا اس استحکام فورس کی تعیناتی خالصتاً جنگ بندی کی مانیٹرنگ کے لیے کی جانا ہوگی اور اس کا غزہ کے انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔ نیز اس کے کردار کو مختلف فریقوں اور ان میں پیدا ہونے والے ممکنہ کسی جھگڑے سے بھی دور رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا ثالث ملک بھی اس امر کی حمایت کرتے ہیں کہ بین الاقوامی استحکام فورس مانیٹرنگ کی حد تک ہوگی اور اس کی تعیناتی جنگ بندی سے متعلق امور کے لیے ہوگی۔
یاد رہے امریکہ کی مدد سے کیے جانے والے جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں 10 اکتوبر سے غزہ کیں جنے بندی جاری ہے۔ اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے باوجود درجنوں بار بمباری کر کے سینکڑوں فلسطینیوں کو مزید ہلاک کر دیا ہے۔
جنوبی شام پر اسرائیلی حملوں کے مسلسل سلسلے کے دوران اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز دوبارہ القنیطرہ کے نواحی گاؤں صیدا الحانوت میں داخل ہو کر نئی دراندازی کی۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق اسرائیلی فوج کی گاڑیاں، جن میں تین ہامر، دو سفید رنگ کی ہائی لوکس اور ایک سیاہ رنگ کی وین شامل تھیں صیدا الحانوت گاؤں میں داخل ہوئیں تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے علاقے میں کوئی چیک پوسٹ قائم کی ہے یا نہیں۔
گذشتہ روز بھی اسرائیلی فوج کی تین گاڑیوں پر مشتمل ایک یونٹ مغربی صمدانیہ گاؤں کے داخلی راستے تک اندر تک آ گئی تھی، اس کے علاوہ ایک اور پٹرولنگ پارٹی نے سد المنطرہ کی سڑک پر پیش قدمی کی۔
اسرائیل نے جنوبی القنیطرہ کے مشرقی علاقے تل احمر کو بھی توپ خانے کے متعدد گولوں سے نشانہ بنایا۔
گذشتہ سال سابق شامی نظام کے سقوط کے بعد سے اسرائیل جنوبی شام میں اپنی فوج اور عسکری سازوسامان تعینات کر رہا ہے اور سنہ 1974ء کی حد بندی کے تحت قائم کردہ بفر زون کو کئی مقامات پر عبور کر چکا ہے، جن میں جبل الشیخ کی اسٹریٹیجک نگرانی کی چوکی بھی شامل ہے۔
شام کی وزارت خارجہ کے اسٹریٹیجک محقق عبیدہ غضبان کے مطابق اسرائیل آٹھ دسمبر سنہ 2024 ءکو بشار الاسد رجیم کے سقوط کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ وہ دمشق سے جبل الشیخ تک ایک غیر عسکری پٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ کی وساطت سے شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والے چھ مذاکراتی دور بھی سرحدی علاقے میں استحکام کے لیے مطلوبہ سکیورٹی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے مطابق یہ مذاکرات گذشتہ برس ستمبر سنہ 2025 سے معطل ہیں۔







