آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو پارلیمنٹ میں کہا کہ کانگریس نے خوشامد کی پالیسی کے تحت ’’وندے ماترم’’ کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا ہوتا تو ملک کی تقسیم بھی نہ ہوتی۔
انہوں نے راجیہ سبھا میں قومی گیت ’’وندے ماترم’’ کے 150 سال پورے ہونے کے موقع پر خصوصی بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس پر شروع سے ہی ’’وندے ماترم’’ کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب ’’وندے ماترم’’ کے 50 سال پورے ہوئے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، وہیں سے خوشامد کی سیاست شروع ہوئی اور اسی نتیجے میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خوشامد کی سیاست نہ ہوتی تو ملک کی تقسیم نہ ہوتی۔’’
کانگریس اور اس کی اعلیٰ قیادت پر ’’وندے ماترم’’ کی مخالفت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں پارلیمنٹ میں ’’وندے ماترم’’ گایا جانا بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دستور ساز اسمبلی نے اسے قومی گیت کا درجہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ’’وندے ماترم’’ کے 100 سال پورے ہوئے تو ملک میں ایمرجنسی نافذ تھی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’کل بھی جب لوک سبھا میں 150 سال کے موقع پر بحث ہوئی تو کانگریس کی ایک خاتون رکن نے کہا- ابھی ’وندے ماترم’ پر بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔’’ اس پر کانگریس کے کچھ ارکان نے اعتراض کیا اور پوری بات بتانے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ جس گیت کو مہاتما گاندھی نے ملک کی روح سے جڑا ہوا قرار دیا تھا ’’اسی کا ٹکڑا کرنے کا کام کانگریس پارٹی نے کیا’’۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 1992 میں جب ایک بار پھر لوک سبھا میں ’’وندے ماترم’’ گایا جانے لگا تو ’’انڈیا’’ اتحاد کے کئی اراکین نے اسے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ’’وندے ماترم’’ گائے جانے کا وقت ہوتا ہے تو کانگریس کے کئی رکن ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تمام ارکان احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر اس گیت کو گاتے ہیں۔
اس پر اپوزیشن کے اراکین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ثبوت پیش کریں کہ کون ’’وندے ماترم’’ کے دوران کھڑا نہیں ہوتا۔
’’وندے ماترم’’ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ اُس زمانے میں یہ نعرہ ملک کی آزادی میں اہم رول ادا کرتا تھا اور اب امرت کال میں یہ ملک کو ترقی یافتہ اور عظیم بنانے کا کام کرے گا۔
وزیر داخلہ نے پیر کو لوک سبھا میں ہوئی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ’’وندے ماترم’’ پر بحث کو مغربی بنگال کے انتخابات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس کی تخلیق بنگال میں ہوئی تھی اور اس کے مصنف بنکیم چندر چٹرجی بھی بنگال میں پیدا ہوئے تھے، لیکن یہ گیت صرف بنگال تک محدود نہیں رہا، بلکہ کشمیر سے لے کر کنیاکُماری تک پھیل گیا ہے۔
جدو جہد آزادی کے وقت جب انقلابیوں کی خفیہ ملاقاتیں ہوتی تھیں تو ان میں بھی اسے گیا جاتا تھا۔ آج بھی جب کوئی جوان سرحد پر اپنی عظیم قربانی دیتا ہے تو اس کے لبوں پر ’’وندے ماترم’’ ہوتا ہے۔
پارلیمنٹ میں قومی ترانے پر بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ اس بحث سے کئی نسلیں اس کے اہمیت کو سمجھیں گی۔ انہوں نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ حکومت مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ’’وندے ماترم’’ پر بحث کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسائل پر بحث سے کوئی نہیں ڈرتا۔ ہم پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کرتے۔ پارلیمنٹ چلنے دیں تو تمام موضوعات پر بحث ہو سکتی ہے۔’’ انہوں نے اپوزیشن پر ’’وندے ماترم’’ پر بحث کو ٹالنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے ہندوستان کے قومی جذبے کو ثقافتی قومی جذبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کی سرحد کسی قانون یا معاہدے نے نہیں بلکہ ثقافت نے متعین کی ہے۔ ’’وندے ماترم’’ نے اسی ثقافتی قومی جذبے کے تصور کو دوبارہ زندہ کرنے کا کام کیا ہے۔







