مواد پر جائیں
سیاست

امت شاہ کا آنند پور آتشزدگی معاملے میں ٹی ایم سی پرحقائق چھپانے کا الزام

Awaze Bihar3 منٹ پڑھیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کو ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے ممتا بنرجی حکومت پر منظم بدعنوانی کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ آنند پور میں مومو فیکٹری میں لگنے والی حالیہ آگ کے معاملے کو جان بوجھ کر دبایا جا رہا ہے، جس میں کئی مزدور ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے تھے۔ حکمراں جماعت کے خلاف وسیع تر الزامات سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ بدعنوانی ٹی ایم سی دورِ حکومت کی پہچان بن چکی ہے۔ مشرقی کولکاتہ کے آنند پور علاقے میں ہولناک آتشزدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یہ کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ ممتا بنرجی حکومت کی بدعنوانی کی ایک تصویر ہے۔ مسٹرشاہ نے آگ لگنے کے واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے مزدوروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا لیکن الزام لگایا کہ یہ المیہ سیاسی سرپرستی اور انتظامی ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ امت شاہ نے سوال اٹھایا، ''اس واقعے میں پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 27 اب بھی لاپتہ ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس مومو فیکٹری کا مالک کس کا قریبی ہے؟ وہ کس کے ساتھ بیرون ملک گیا تھا؟ اور اسے آج تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے اشارہ دیا کہ فیکٹری مالک کو حکمراں جماعت سے قربت کی وجہ سے تحفظ حاصل ہے۔ وزیر موصوف نے اس واقعے کو قتل عام قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس قتل عام کی شفاف انکوائری ہونی چاہیے اور تمام ذمہ داروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتی ردعمل میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ 72 گھنٹے گزر جانے کے بعد آپ کا وزیر جائے وقوعہ پر پہنچتا ہے، اس تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ملوث افراد کو بچانے کی ایک کوشش ہے۔
ٹی ایم سی کو حقائق دبانے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ اگر آپ اسے چھپانا چاہتے ہیں تو چھپا لیں، لیکن اپریل کے بعد جب بی جے پی کی حکومت آئے گی تو ہر مجرم کو سلاخوں کے پیچھے ہو گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنند پور آتشزدگی کے واقعے نے حکمراں جماعت سے وابستہ لوگوں کے ملوث ہونے کو کھلے عام بے نقاب کر دیا ہے۔
مسٹر شاہ نے ممتا بنرجی حکومت پر رقم وصولی اور ڈرانے دھمکانے کے کلچر کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ بنگال میں کٹ منی، بھتیجے کی دادا گیری اور پولیس کی زیادتی روز کا معمول بن چکی ہے۔ متعدد مبینہ گھپلوں کرتے ہوئےمسٹر شاہ نے کہا کہ ٹی ایم سی کے دور میں بدعنوانی ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے رقم کے بدلے سوال کیس، ایس ایس سی بھرتی گھپلے، مویشیوں کی اسمگلنگ، منریگا میں بے ضابطگیوں اور پی ایم ہاؤسنگ اسکیم کا حوالہ دیا۔ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے والے ٹی ایم سی کے کئی سینئر لیڈروں کا تذکرہ کرتے ہوئےمسٹر شاہ نے پارتھا چٹرجی، انوبراتا منڈل، جیوتی پریہ ملک، فرہاد حکیم، کنال گھوش اور چندر ناتھ چٹرجی کے نام لیے اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو چیلنج کیا کہ وہ ایسے لیڈروں کو ٹکٹ دینے سے انکار کر کے دکھائیں۔ سیاسی محاذ پر مسٹر امت شاہ نے بنگال میں بی جے پی کے انتخابی سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے 2014 میں دو نشستیں جیتیں، 2019 میں 41 فیصد ووٹوں کے ساتھ 18 نشستیں حاصل کیں، 2021 کے اسمبلی انتخابات میں 37 فیصد ووٹ اور 77 نشستیں حاصل کیں، جبکہ 2024 میں 39 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں 38 فیصد سے 45 فیصد تک پہنچنے کی ضرورت ہے اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم 50 فیصد ووٹوں کے ساتھ حکومت بنائیں گے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں