مواد پر جائیں
عالمی خبریں

سپریم لیڈر کی موت کابدلہ لینے کی کوشش کی توبے مثال فوجی طاقت استعمال کریں گے: ٹرمپ

Awaze Bihar2 منٹ پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کوئی جوابی کارروائی کی تو اسے ’بے مثال‘ فوجی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ صف کے کئی رہنما کی موت ہوگئی تھی۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل’ پر لکھاکہ ‘ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج ایک انتہائی زور دار حملہ کرے گا جو پچھلے کسی بھی حملے سے زیادہ شدید ہوگا۔ ایران کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کیونکہ اگر اس نے ایسا کیا تو ہم اسے ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی! اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے باضابطہ اعلان کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے اس سے قبل خامنہ ای کے خاندان کے افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی تھی۔اس سے قبل امریکی صدر نے اپنے سوشل نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ "خامنہ ای جو تاریخ کے بدترین انسانوں میں سے ایک ہیں، مارے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کے پاس اپنے ملک کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا "عظیم ترین" موقع ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل نیٹ ورک "ٹروتھ سوشل" پر لکھا "ملک بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے بلکہ صرف ایک دن میں مٹ چکا ہے۔ اس کے باوجود شدید اور درست بمباری پورا ہفتہ یا مقصد حاصل کرنے تک جتنی ضرورت ہوئی بلا تعطل جاری رہے گی۔
اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران پر حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا جسے اس نے "شیر کی دہاڑ" کا نام دیا۔ پھر واشنگٹن نے اعلان کیا کہ یہ غاصب اسرائیل کے ساتھ ایک مشترکہ بڑے پیمانے کی کارروائی ہے۔ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں غاصب اسرائیل اور خلیجی ممالک، جہاں کئی امریکی اڈے موجود ہیں، نیز عراق اور اردن کی طرف میزائلوں کے غول داغے۔امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا، نظام حکومت کا خاتمہ اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کے لیے ’سراسر خطرہ‘ بننے والی دھمکیوں کو مٹانا ہے۔یہ آپریشن سنہ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے، جس کے لیے واشنگٹن نے خطے میں بڑے پیمانے پر بحری اور فضائی افواج کو متحرک کر کے تیاریاں کی تھیں۔تہران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور ان عرب ممالک کی طرف میزائل داغے جو امریکی اڈوں کی میزبانی کر رہے ہیں، جنہیں ایران نے "جائز اہداف" قرار دیا ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں