
ہندوستان نے پاکستان کو ہرا کر انڈر 19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنالی
بولوایو (زمبابوے)ویدانت تریویدی کی 68 رنز کی شاندار نصف سنچری اور نچلے درجے کے بلے بازوں کی جدو جہد پر مبنی اننگز کے بعد گیند بازوں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے انڈر 19 ورلڈ کپ کے 36ویں میچ میں پاکستان کو شکست دے کر ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ ہندوستان نے انڈر-19 ورلڈ کپ کے انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں روایتی حریف پاکستان کو 58 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ زمبابوے کے شہر بولوایو میں کھیلے گئے اس میچ میں ہندوستانی نوجوانوں نے بلے بازی اور گیندبازی دونوں شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم پر شاندار جیت درج کی۔
ہندوستانی گیند بازوں نے شاندار گیندبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی پوری ٹیم کو 46.2 اوورز میں 194 رنز پر ڈھیر کر دیا اور یوں پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو جیت کے لیے 253 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستان کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے یہ ہدف 33.3 اوورز میں حاصل کرنا ضروری تھا، تاہم وہ اس میں ناکام رہا۔
بھارتی گیند بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی پوری ٹیم کو 46.2 اوورز میں 194 رنز پر ڈھیر کر دیا اور یوں پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور اسے جلد ہی سمیر منہاس (9) کی وکٹ گنوانا پڑی۔ کھلن پٹیل نے منہاس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے بھارت کو پہلی کامیابی دلائی۔ اس کے بعد عثمان خان اور حمزہ ظہور نے اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کا اسکور 88 تک پہنچایا۔
17ویں اوور میں آیوش مہاترے نے عثمان خان (66) کو آؤٹ کر کے پویلین واپس بھیج دیا۔ اس کے بعد کپتان فرحان یوسف نے ذمہ داری سنبھالی اور دونوں بلے بازوں نے ٹیم کا اسکور 151 تک پہنچایا۔
پاکستان 35.3 اوورز تک پانچ وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز ہی بنا سکا۔ ہندوستانی بولنگ اٹیک کے سامنے جدوجہد اور سست رفتار کھیل کے باعث پاکستانی ٹیم 33.3 اوورز میں مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
بعد ازاں پاکستان نے محض 26 رنز کے اضافے پر اپنی مزید پانچ وکٹیں گنوا دیں۔ کپتان فرحان یوسف 38 جبکہ حذیفہ احسان 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ پاکستان کے سات بلے باز دوہرا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے۔
ہندوستان کی جانب سے کھلن پٹیل اور آیوش مہاترے نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ امبریش، ہینل پٹیل، کنشک چوہان اور ویہان ملہوترا نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
ہندوستان نے ویدانت ترویدی کی ذمہ دارانہ بیٹنگ اور نچلے نمبروں کے بلے بازوں کی مزاحمت کی بدولت پاکستان کو جیت کے لیے 253 رنز کا ہدف دیا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل پاکستان کے لیے یہ صرف جیت کا سوال نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے، کیونکہ اسے ہندوستان سے بہتر رن ریٹ حاصل کرنے کے لیے یہ ہدف محض 33.3 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا۔پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدا میں درست ثابت ہوا۔
ایرن جارج اور ویبھو سوریہ ونشی نے 47 رنز کا آغاز فراہم کیا، لیکن محمد صیام نے ایک ہی اوور میں سوریہ ونشی (30) اور کپتان آیوش مہاترے (0) کو آؤٹ کر کے ہندوستانی خیمے میں کھلبلی مچا دی۔ اگلے ہی اوور میں ایرن جارج بھی پویلین لوٹ گئے، جس سے اسکور 47 رنز پر 3 وکٹ ہو گیا۔
مشکل وقت میں ویدانت ترویدی نے پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 98 گیندوں پر 68 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی۔ انہوں نے ویہان ملہوترا (21) کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کے لیے 62 رنز جوڑے اور ٹیم کو سنبھالا۔
آخری لمحات میں کنشک چوہان (35) اور کھلن پٹیل (21) کے درمیان 50 رنز کی برق رفتار شراکت نے ہندوستان کو 250 کا ہندسہ عبور کرنے میں مدد دی۔ ہندوستان کی پوری ٹیم آخری اوور میں 252 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے عبدالسبحان سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد صیام نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ علی رضا، احمد حسین، علی حسن بلوچ اور مومن قمر نے ایک ایک شکار کیا۔
سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے پاکستان کو ہر حال میں 33.3 اوورز کے اندر 253 رنز بنانے ہوں گے۔
ہندوستان کا موجودہ نیٹ رن ریٹ 3.337 ہے جو کہ بہت مضبوط ہے۔ اگر پاکستان 33.3 اوورز کے بعد ہدف حاصل کرتا ہے یا میچ ہار جاتا ہے، تو ہندوستان شکست کے باوجود اپنے بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



