
ہندوستان دیسی ڈرون سازی کا عالمی مرکز بننے کے لیے مشن موڈ میں کام کرے: راج ناتھ
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اسٹریٹجک خودمختاری کو یقینی بنانے، دفاعی تیاریوں کو مستحکم کرنے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے ہندوستان کو دیسی ڈرون سازی کا عالمی مرکز بننے کے مشن موڈ میں کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) معاشی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی 'وِکست بھارت ' کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ضروری ہے۔ مسٹر سنگھ نے محکمہ دفاعی پیداوار کے زیر اہتمام دو روزہ نیشنل ڈیفنس انڈسٹری کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں جمعرات کو 'ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز' کے موضوع پر مائیکرو،ا سمال اور میڈیم انٹرپرائزز، اسٹارٹ اپس، اختراعی فاتحین، دفاعی پبلک سیکٹر یونٹس، نجی دفاعی کمپنیوں، پالیسی سازوں اور ماہرین تعلیم سے خطاب کیا۔ انہوں نے اسٹریٹجک خودمختاری اور خود انحصاری کے لیے ڈرون پروڈکشن ایکو سسٹم تیار کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ سے لے کر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تک جاری تنازعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کریں گی، اور ڈرون سازی میں خود انحصاری نہ صرف پروڈکٹ کی سطح پر بلکہ پرزوں (کمپوننٹس) کی سطح پر بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "ڈرون کے ڈھانچے سے لے کر اس کے سافٹ ویئر، انجن اور بیٹریوں تک، سب کچھ ہندوستان میں ہی تیار ہونا چاہیے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اکثر ممالک جہاں ڈرون بنائے جاتے ہیں، وہاں بہت سے اہم پرزے فی الحال چین سے درآمد کیے جاتے ہیں۔"مسٹر سنگھ نے کہا کہ کسی بھی ملک کے دفاعی صنعتی نظام کی تعمیر بڑے اداروں،ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کے تعاون پر منحصر ہے، ساتھ ہی حکومت کی واضح پالیسی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے سے فعال شرکت کی اپیل کی اور حکومت کے مکمل تعاون کا یقین دلایا تاکہ ہندوستان کو دیسی ڈرون سازی کا عالمی مرکز بنایا جا سکے۔
وزیر دفاع نے 'ڈیفنس انڈیا اسٹارٹ اپ چیلنج کے 14 ویں ایڈیشن اور آئی ڈیکس فریم ورک کے تحت 'ادیتی چیلنجز' کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز کیا۔ دفاعی افواج، انڈین کوسٹ گارڈ اور ڈیفنس اسپیس ایجنسی سے موصول ہونے والے کل 107 پرابلمس اسٹیٹمنٹس جاری کیئےگئے تاکہ مختلف شعبوں میں انقلابی اختراعات کو فروغ دیا جا سکے۔ دفاعی پبلک سیکٹر یونٹس سے متعلق 101 اختراعی چیلنجوں کا ایک نیا اقدام بھی شروع کیا گیا، جس کا مقصد ڈیزائن پر مبنی اختراع کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ان چیلنجوں کی مالی معاونت سرکاری دفاعی ادارے کریں گے اور جیتنے والے اسٹارٹ اپس کو رہنمائی اور ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مسٹر سنگھ نے آئی ڈیکس اور ادیتی کو انقلابی اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے چھوٹے اداروں کو دفاعی افواج کی مخصوص ضروریات کے مطابق حل تیار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2026 تک تقریباً 676 اسٹارٹ اپس اورایم ایس ایم ایز دفاعی اختراعی نظام سے جڑ چکے ہیں۔ اب تک 548 معاہدے کیے جا چکے ہیں اور 566 چیلنجز شروع کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 58 ماڈلز کو تقریباً 3853 کروڑ روپے مالیت کی خریداری کے لیے منظوری مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2326 کروڑ روپے کے 45 خریداری کے معاہدے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اختراع آہستہ آہستہ ٹھوس مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں تبدیل ہو رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ آج مائیکرو،ا سمال اور میڈیم انٹرپرائزز مصنوعی ذہانت (اے آئی )، روبوٹکس، آٹومیشن اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں فعال طور پر کام کر رہے ہیں، جو ایک بڑی مثبت تبدیلی ہے۔ انہوں نے ان اداروں اور اسٹارٹ اپس سے ان ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور یکجا کرنے کی اپیل کی تاکہ وسائل اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور 'ایڈیٹو مینوفیکچرنگ' جیسی ٹیکنالوجیز عالمی مینوفیکچرنگ کے شعبے کو نئی شکل دے رہی ہیں، جبکہ 'ڈیجیٹل ٹوئن' اور جدید سیمولیشن ٹولز نئے امکانات پیدا کررہے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹوئن کا مطلب حقیقی نظام کا ایک ورچوئل ماڈل تیار کرنا ہے، جس سے پیچیدہ نظاموں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور زیادہ درست فیصلے کیئے جا سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نے ایم ایس ایم ایز کو مستحکم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس سال کے مرکزی بجٹ میں انہیں ایکویٹی، لیکویڈیٹی اور کاروباری مدد فراہم کرنے کے لیے سہ سطحی نقطہ نظر اپنایا گیا ہے، تاکہ یہ ادارے صفِ اول کے بن سکیں۔ اس کا مقصد ان کی ترقی کو تیز کرنا اور ملکی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 سے حکومت اس اہم شعبے کی توسیع پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ رجسٹریشن اور شناخت کو آسان بنانے کے لیے 'اُدیم پورٹل' اور 'اُدیم اسسٹ پورٹل' جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کیے گئے ہیں، تاکہ چھوٹے اداروں کو باضابطہ معیشت میں شامل کیا جا سکے اور وہ سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایم ایس ایم ایز کی تعداد 2012-13 میں تقریباً 4.67 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 8 کروڑ ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ ملک میں انٹرپرینیور شپ کے بڑھتے ہوئے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اپنے منفرد آئیڈیاز کے ذریعے سماجی تبدیلی کے محرک بن رہے ہیں اور کئی ادارے بہت کم وقت میں 'یونیکورن' کا درجہ حاصل کر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں مزید ایسے ادارے سامنے آئیں گے۔ اس کے لیے مسلسل کوشش، صبر اور لگن ضروری ہے۔ انہوں نے ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس سے جدت طرازی کرنے، نئی ٹیکنالوجیز اپنانے اور خود کفیل ہندوستان و 'وِکست ہندوستان' کے ہدف کو شرمندہ تعبیر کرنے کی اپیل کی۔
سکریٹری ڈیفنس پروڈکشن سنجیو کمار نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا اور ڈیزائن، ترقی اور تیاری سے لے کر مکمل ویلیو چین میں ایم ایس ایم ایز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 200 پرابلمس اسٹیٹمنٹس ان اداروں، صنعتوں اور نوجوان اختراع کاروں کو جدید مصنوعات تیار کرنے اور اپنی مہارت بڑھانے کا موقع فراہم کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کو 'اصلاحاتی سال' کے طور پر مناتے ہوئے وزارت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں اجازت ناموں کے عمل کو سادہ بنانا، کوالٹی کے طریقہ کار کو مضبوط کرنا اور ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو بااختیار بنانا شامل ہے۔ دفاعی شعبے میں کام کرنے والی صنعتوں کا ایک ڈیجیٹل ڈیٹا بیس 'سرجن دیپ' بھی بنایا گیا ہے، جس میں 40,000 سے زائد صنعتیں درج ہیں، تاکہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو فروغ دیا جا سکے۔
پروگرام کے دوران وزیر دفاع نے محکمہ دفاعی پیداوار کی پانچ مطبوعات کا اجرا بھی کیا، جن کا مقصد پالیسی اقدامات کے بارے میں آگاہی بڑھانا، دفاعی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرنا اور کاروباری سہولت کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ایک نمائش کا افتتاح بھی کیا، جس میں 20 بڑی دفاعی کمپنیوں نے ایم ایس ایم ایز کو شراکت دار اور سپلائر کے طور پر شامل کرنے کے لیے اپنے پروگراموں کی نمائش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ 24 ہندوستانی اور غیر ملکی کمپنیاں آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اسمارٹ میٹریل جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان، نیوی چیف ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی، آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی، ڈیفنس سکریٹری راجیش کمار سنگھ، ڈی آر ڈی او کے سکریٹری اور چیئرمین ڈاکٹر سمیر وی کامت سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



