مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

عالمی تجارت میں ہندوستان کی 25 فیصد حصہ داری دوبارہ ممکن: سیتارمن

3 منٹ کی پڑھائی

وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز ملک کی معیشت کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے مضبوط وسیع معاشی بنیاد، تیز رفتار ترقی اور تیزی سے فروغ پاتے کاروباری شعبے کے دم پر آئندہ برسوں میں ایک بار پھر وہی ملک بننے کے بارے میں سوچ سکتا ہے جس کا کبھی عالمی تجارت میں 25 فیصد حصہ ہوا کرتا تھا۔
وزیرِ خزانہ نے بدھ کے روز دہلی میں 'انڈیا اکنامک کونکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معاشی منظرنامے میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے، جہاں درآمدی محصولات کی پابندیوں اور اسٹریٹجک رکاوٹوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ابھرتی ہوئی اور ترقی یافتہ، دونوں طرح کی معیشتوں کے لیے نئی جیو-معاشی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ تاہم وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ہندوستان بات چیت کے ذریعے بدلتے ہوئے عالمی تجارتی ماحول کے ساتھ جڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان عالمی تجارت کو منصفانہ اور قواعد و ضوابط پر مبنی بناتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوطی کے ساتھ مگر تعمیری انداز میں بات چیت کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان علیحدگی کے بجائے شراکت اور باہمی تعاون پر یقین رکھتا ہے اور تجارت میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود ہندوستان اپنی اندرونی طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالم
ی غیر یقینی صورتحال کو مواقع میں بدلنے کے تئیں پُراعتماد ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی ترقی مستحکم اور عوامی فلاح پر مبنی رہی ہے، نہ کہ قلیل مدتی پالیسی اقدامات پر انحصار کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہندوستان کی مضبوطی ہی اصل کہانی ہے۔" آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان نے دیگر ممالک کے اقدامات پر ردِعمل دیا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی امنگوں کے مطابق قدم اٹھائیں۔
مودی حکومت اور سابقہ حکومتوں کے کام کاج کا موازنہ کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ پہلے کچھ نہیں ہوا؛ پہلے بھی بہت کچھ ہوا، لیکن وہ منتشر اور بکھرا ہوا تھا۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جالندھر میں عالمی معیار کے بلّے بنتے تھے، مگر انہیں عالمی منڈی تک پہنچنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ صنعتوں کو خصوصی اقتصادی زون تک محدود رکھا گیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت ایم ایس ایم ای کے چھوٹے چھوٹے کلسٹروں پر بھی توجہ دے رہی ہے اور انہیں بیرونی منڈیوں سے جوڑنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے گزشتہ دس برسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان تبدیلی کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مالی شمولیت کے تیز رفتار پھیلاؤ کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں کروڑوں شہری باضابطہ بینکنگ نظام میں شامل ہوئے اور بچت، قرض اور بیمہ تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ سماجی ترقی کے شعبے میں بھی مسلسل کوششیں کی گئی ہیں، جن میں بچوں کی نگہداشت کی سہولت، افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے بنائی گئی پالیسیاں اور بڑے پیمانے پر سستے مکانات کی فراہمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے معاشی شمولیت اور سماجی تحفظ کو مضبوط کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بنیادی ڈھانچے میں اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی، خاص طور پر دیہی خاندانوں کے لیے صاف پینے کے پانی کی فراہمی، شاہراہوں کی توسیع اور مختلف علاقوں میں سڑک رابطوں میں بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سرمایہ کاریوں نے علاقائی عدم مساوات کو کم کرنے اور معاشی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے جدت طرازی پر مبنی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسکولوں میں 'اٹل ٹنکرنگ لیب' جیسی پہلوں کا ذکر کیا، جو طلبہ میں سائنسی سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق، ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجیوں کے لیے تیار کرنے کے لیے ایسی پہل ضروری ہے۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں