مواد پر جائیں
سیاست

ممتا کی دھاڑ سے ای ڈی بھی تھرائی ‘ بنگال میں سیاسی طاقت آزمائی شروع

Awaze Bihar6 منٹ پڑھیں

کولکاتا :(ایجنسی) کولکاتا میں سیاسی کنسلٹنسی فرم انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) سے وابستہ مقامات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ مار کارروائی کو لے کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ ای ڈی نے ترنمول کانگریس کے پارٹی دفتر سے اہم دستاویزات اٹھائیں اور سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کی۔ ان کے الزامات کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر داخلہ پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی انتخابات سے پہلے ترنمول کانگریس کی حکمت عملی، امیدواروں کی فہرست اور اندرونی منصوبہ بندی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق مرکز جان بوجھ کر ریاستی حکومت کو بدنام کرنے اور سیاسی دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ کیا یہ ای ڈی یا مرکزی وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی ہارڈ ڈسک اور امیدواروں کی فہرست جمع کرے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ایسا وزیر داخلہ جو ملک کو محفوظ نہیں رکھ پا رہا، ان کی پارٹی کے تمام دستاویزات اٹھانے میں لگا ہوا ہے۔ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ خود کسی دوسری پارٹی کے دفتر پر اسی طرح چھاپہ ماریں تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے تحت ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انتخابات کے بہانے ان کی پارٹی سے متعلق تمام معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جو سراسر سیاسی مداخلت ہے۔وہیں، ای ڈی نے ممتا بنرجی کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایک پرانے معاملے میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا کہ تفتیش غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق ہے، جس میں نقد رقم کی تیاری، حوالہ لین دین اور مالی راستوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مغربی بنگال میں چھ اور دہلی میں چار مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور یہ تمام جگہیں اسی کیس سے منسلک ہیں۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران کسی سیاسی پارٹی کے دفتر میں داخل نہیں ہوا گیا۔ ای ڈی کے مطابق جب تک وزیر اعلیٰ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر نہیں پہنچیں، تفتیشی عمل پرامن اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری تھا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ چھاپے کے دوران کچھ افراد، جن میں آئینی عہدوں پر فائز لوگ بھی شامل تھے، زبردستی اندر داخل ہوئے اور سرکاری دستاویزات چھیننے کی کوشش کی، جس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
تلاشی کی کارروائی صبح سے جاری تھی، تاہم دوپہر تقریباً 12 بجے صورتحال اس وقت بدلنے لگی جب کولکاتا کے پولیس کمشنر منوج ورما موقع پر پہنچے۔ ان کے پہنچنے کے چند ہی منٹ بعد وزیر اعلیٰ بھی وہاں آگئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، محترمہ بنرجی پرتیک جین کے گھر میں داخل ہوئیں اور چند منٹ بعد ہاتھ میں ایک ہرے رنگ فائل کے ساتھ باہر نکلیں۔وزیر اعلیٰ نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی کے دستاویز ضبط کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ میری پارٹی کے تمام دستاویز ضبط کر رہے تھے۔ میں انہیں واپس لے آئی ہوں۔ یہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا کام ہے۔ وہ ملک نہیں سنبھال پا رہے ہیں، اس لیے میری پارٹی کے کاغذات ضبط کروا رہے ہیں۔محترمہ بنرجی نے بتایا کہ پرتیک جین ان کی پارٹی کے کام کے انچارج تھے اور تلاشی کے دوران ہارڈ ڈسک اور موبائل فون ضبط کیے جا رہے تھے۔حزبِ اختلاف کے لیڈر سوویندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کے وہاں پہنچنے کے قدم کو 'غیر اخلاقی‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اس سے پہلے بھی آئینی ایجنسیوں کے کام میں مداخلت کر چکی ہیں۔مسٹر ادھیکاری نے یاد دلایا کہ 2021 میں ممتا بنرجی نے فِرہاد حکیم، سبرَت مکھرجی اور مدن مترا کی گرفتاری کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے نظام پیلس دفتر پر دھرنا دیا تھا۔ اسی طرح کا احتجاج اس وقت بھی کیا گیا تھا جب سی بی آئی نے اس وقت کے پولیس کمشنر راجیو کمار کے مکان پر چھاپہ مارا تھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ترنمول کانگریس کے دستاویز آئی-پیک کے پاس کیوں رکھے جائیں گے۔
لاؤڈن اسٹریٹ سے نکلنے کے بعد محترمہ بنرجی سالٹ لیک کے سیکٹر 5 میں واقع آئی-پیک کے دفتر کے لیے روانہ ہو گئیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی بدھان نگر کی میئر کرشنا چکرورتی آئی-پیک کے دفتر پہنچ چکی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وہاں 'اُنّینر پانچالی مہم کے سلسلے میں گئی تھیں۔محترمہ چکرورتی نے کہا کہ یہ چھاپے ریاستی حکومت کو ہراساں کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور اسی کے پیش نظر دفتر کے باہر پولیس سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ریاستی وزیر سجیت بوس اور بدھان نگر کے پولیس کمشنر بھی موقع پر پہنچ گئے، جبکہ ترنمول کانگریس کے کارکن دفتر کے باہر نعرے بازی کرتے رہے۔
ممتا بنرجی نے چھاپوں میں رکاوٹ ڈالی، ثبوت ضبط کیے: ای ڈی
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر ای ڈی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور انوپ ماجھی اور دیگر کے ساتھ ایک حوالہ کیس میں ثبوت ضبط کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ای ڈی نے جمعرات کو کہا کہ وہ کولکتہ میں پی ایم ایل اے کے ایک معاملے میں چھاپے مار رہی ہے جس میں انوپ ماجھی اور دیگر شامل ہیں، اور یہ کہ مغربی بنگال کے وزیر اعلی کے آنے تک یہ آپریشن پرامن اور پیشہ ورانہ طور پر جاری ہے۔ دریں اثنا، محترمہ بنرجی، بڑی تعداد میں پولیس افسران کے ساتھ پراتیک جین کے رہائشی احاطے میں داخل ہوئیں اور فزیکل دستاویزات اور الیکٹرانک آلات سمیت اہم شواہد کو ہٹا دیا۔
ایجنسی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کا قافلہ پھر انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (I-PAC) کے دفتر کی طرف بڑھا، جہاں محترمہ بنرجی، ان کے ساتھیوں اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے اضافی دستاویزات اور الیکٹرانک شواہد کو زبردستی ہٹا دیا۔ ای ڈی کا معاملہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی 2020 کی ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ تحقیقات کے دوران ایجنسی نے انوپ ماجھی کی قیادت میں کوئلے کی اسمگلنگ سنڈیکیٹ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا، جس نے مبینہ طور پر مغربی بنگال میں ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ای سی ایل) کے لیز پر دیئے گئے علاقوں سے کوئلہ چوری کیا۔
ای ڈی کے مطابق بعد میں کوئلہ بانکورا، بردھمان، پورولیا اور دیگر اضلاع میں فیکٹریوں اور پلانٹس کو فروخت کیا گیا۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں