آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


نئی دہلی : مرکز کی مودی حکومت ’منریگا‘ یعنی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کا نام بدل کر ’وی بی-جی رام جی‘ کرنے والی ہے۔ پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں ہی اس بل کا مسودہ پیر (15 دسمبر) کو لوک سبھا کے اراکین کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو موجودہ قانون کی جگہ نیا قانون نافذ ہو جائے گا۔ نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے ملک کے اہم روزگار منصوبہ ’منریگا‘ کو ختم کرنے اور اس کی جگہ نیا دیہی روزگار قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بل کے مسودے کے مطابق اس بل کا مقصد موجودہ پارلیمانی اجلاس میں’وکست بھارت-روزگار اور اجیویکا گارنٹی مشن (گرامین) بل 2025‘ یعنی ’وی بی-جی رام جی بل 2025‘ پیش کر 2005 کے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کرنا ہے۔ نئے بل میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد ’ترقی یافتہ ہندوستان 2047‘ کے قومی وژن کے مطابق دیہی ترقی کا نیا ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ اس کے تحت موجودہ کام کے دنوں کی تعداد 100 سے بڑھا کر 125 دن کر دی جائے گی۔
بل میں درج نئے قانون کے مقاصد کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں منریگا نے دیہی خاندانوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ لیکن گاؤں میں ہوئے معاشرتی-اقتصادی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے اسے مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت ہر دیہی خاندان کو جو بغیر ہنر والا کام کرنے کو تیار ہو، ہر سال 125 دن کا روزگار ملے گا اور اس کا مقصد ’ترقی یافتہ ہندوستان 2047‘ کے مقصد کے مطابق گاؤں کی جامع ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جو یکم دسمبر سے شروع ہوا تھا 19 دسمبر کو ختم ہوگا۔
دوسری جانب اپوزیشن نے منریگا کے جگہ پر نیا قانون بنانے کی تیاری کے درمیان پیر کو کہا کہ آخر اس منصوبہ سے مہاتما گاندھی کا نام کیوں ہٹایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کا یہ قدم مہاتما گاندھی کی توہین کے مترادف ہے۔
نئے قانون کا مقصد روزگار اور روزی روٹی کی گارنٹی کے ذریعہ دیہی امپاورمنٹ اور جامع ترقی کو فروغ دینا ہے، تاکہ ایک خوشحال اور قابل دیہی ہندوستان کی تعمیر کی جا سکے۔ یہ بل لوک سبھا کے اراکین کو دے دیا گیا ہے اور امید ہے کہ اسے جلد ہی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جو یکم دسمبر سے شروع ہوا تھا 19 دسمبر کو ختم ہوگا۔
واضح رہے کہ منریگا کو 2005 میں دیہی ترقی کی وزارت نے شروع کیا تھا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی روزگار گارنٹی کے پروگراموں میں سے ایک ہے۔ 23-2022 تک اس کے تحت 15.4 کروڑ فعال مزدور رجسٹرڈ تھے۔ اس منصوبہ کا مقصد حقوق پر مبنی ڈھانچے کے ذریعہ غربت کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہے۔ منریگا کے تحت یہ التزام ہے کہ کم از کم ایک تہائی فائدہ اٹھانے والوں میں خواتین ہوں۔ اس سے دیہی علاقوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کو فروغ ملا ہے۔
منریگا کی سب سے اہم خصوصیت یہ رہی ہے کہ کسی بھی دیہی بالغ کو کام مانگنے کے 15 دنوں کے اندر روزگار دینے کی قانونی گارنٹی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو بے روزگاری الاؤنس دینے کا التزام بھی ہے۔ منریگا کے تحت کاموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ گرام سبھاؤں کو کام تجویز کرنے کا اختیار دیا گیا اور کم از کم 50 فیصد کاموں کا نفاذ مقامی سطح پر لازمی کیا گیا، جس سے سنٹرلائزیشن کو مضبوطی ملی۔
دوسری جانب منریگا کی جگہ لائے گئے نئے قانون پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے حکومت کے اس قدم پر سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’وہ مہاتما گاندھی کا نام کیوں ہٹا رہے ہیں؟ مہاتما گاندھی اس ملک، دنیا اور تاریخ کے سب سے عظیم لیڈران میں سے ایک تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟‘‘







