مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

اپوزیشن کا ایس آئی آر بند کرکے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل میں تبدیلی کا مطالبہ

7 منٹ کی پڑھائی

اپوزیشن نے ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے، الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل میں اصلاحات لانے اور انتخابات سے پہلے سرکاری اسکیموں کے بہانے ووٹروں میں پیسے تقسیم کرنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس کے منیش تیواری نے لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر منگل کو بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اجتماعی اور وسیع پیمانے پر ایس آئی آر کرانے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔ نمائندگی قانون، 1950 میں ایسا کوئی التزام ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت کسی انتخابی حلقے کے کچھ علاقوں میں ووٹر فہرست میں کوئی خرابی ہو تو وہاں ایس آئی آر کرانے کا حق الیکشن کمیشن کو ہے۔ کمیشن زیادہ سے زیادہ پورے ایک انتخابی حلقے میں ایس آئی آرکروا سکتا ہے، لیکن پوری ریاست یا کئی ریاستوں میں ایک ساتھ ایس آئی آر نہیں کرایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آج جب انتخابی اصلاحات پر بحث ہو رہی ہے تو وہ بتانا چاہتے ہیں کہ سب سے بڑی انتخابی اصلاح سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کی تھی۔ ان کی قیادت میں کانگریس حکومت کے دور میں ووٹنگ کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کی گئی تھی۔ دل بدل قانون بھی انتخابی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم فیصلہ تھا، لیکن بعد میں اس میں بھی ردوبدل کرتے ہوئے اجتماعی طور دل بدلی کرائی گئی۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں کمشنرز کی تقرری کے عمل میں اصلاحات ہونی چاہئیں اور سلیکشن کمیٹی میں وزیراعظم، ایک نامزد وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کے علاوہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اس سے توازن برقرار رہے گا اور الیکشن کمشنر کی تقرری منصفانہ اور شفاف طریقے سے ہو سکے گی۔
مسٹر تیواری نے ایک ملک، ایک انتخاب کے نظام کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستور ساز اسمبلی اس نظام کے حق میں نہیں تھی۔ دستور سازوں نے اس نظام پر غور کرتے ہوئے اسے منطقی اور منصفانہ نہ پاتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت اعتماد پر چلتی ہے، ووٹروں کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ اسی کو جا رہا ہے جسے انہوں نے ووٹ دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ووٹروں کا اس پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو انتشار پھیلتا ہے۔ اس کے پیش نظر وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے ووٹنگ کرائی جا رہی ہے، تو 100 فیصد وی وی پییٹ (وی وی پیٹ) کے بندوبست کے ساتھ انتخابات کرائے جائیں اور نتائج ان کی گنتی کے بعد ہی اعلان ہوں، یا ووٹ کے ذریعے انتخابات کی طرف واپس جائیں۔ جاپان، جرمنی اور دیگر کئی ممالک نے ای وی ایم کے انتخابی نظام سے واپس بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ دینے کا نظام اختیار کیا ہے۔
مسٹر تیواری نے کہا کہ ایک طرف الیکشن کمیشن ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کرانے پر مسلسل زور دے رہا ہے، دوسری طرف یہ ڈیجیٹل ریڈایبل ووٹر لسٹ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس طرح کی ڈیجیٹائزیشن کی یہ کیسی شکل ہے؟
مسٹر تیواری نے کہا کہ انتخابات سے پہلے ووٹروں کے کھاتوں میں سرکاری فنڈ کے منتقلی پر بھی پابندی لگائی جانی چاہیے، کیونکہ اگر یہ طریقہ کار قائم ہو گیا تو کوئی ریاستی حکومت کبھی نہیں بدلے گی۔ انتخابات سے پہلے سرکاری خزانے کو خالی کرتے ہوئے ووٹروں کے کھاتوں میں 20، 25 یا 30 ہزار روپے ڈال دیے جائیں گے اور اکثریت حاصل کر لی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انتخاب جیتنا، حکومت بنانا ہی سیاسی جماعتوں کا مقصد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عوامی نظام کو بچاتے ہوئے ایک اچھا ملک آئندہ نسلوں کے لیے چھوڑنا چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ الیکشن کمشنرز کی تقرری کے عمل میں تبدیلی ہونی چاہیے، ایس آئی آربند کرنا چاہیے اور انتخابات سے پہلے سرکاری فنڈ کو ووٹروں کے کھاتوں میں ڈالنے پر سخت پابندی عائد کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔
سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے انتخابی اصلاحات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جس الیکشن کمیشن سے غیر جانبداری کی توقع تھی، وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب اتر پردیش کے رام پور میں ضمنی انتخابات ہو رہے تھے، تو ہمیں انتخابات میں دھاندلی کا شبہ تھا۔ ووٹنگ کے دن پولیس اور انتظامیہ اس کام میں مصروف تھی کہ ووٹر گھر سے باہر نہ نکلے۔ پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات رام پور سے جیتے۔ ہر واقعے کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دی گئی، اس کے باوجود کمیشن نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس سے ہم سمجھ گئے کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارنہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے فرقہ وارانہ ماحول بنایا، وہاں سماج وادی پارٹی نے جیت حاصل کی۔ جس ادارے کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات غیر جانبدار طریقے سے کرائے، وہ خود غیر جانبدار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی پور ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں شکایت کی گئی۔ لیکن انتخابی اصلاحات تبھی ممکن ہیں جب الیکشن کمیشن غیر جانبدارہو۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقے کو تبدیل کیا جانا چاہیے اور اس میں شفافیت نظر آنی چاہیے۔ الیکشن بیلٹ پیپر کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دنیا میں بھی ای وی ایم ٹیکنالوجی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جرمنی میں اگر ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی جائے تو اسے غیر قانونی سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارا انتخابی عمل کس نے بنایا۔ انتخابی عمل اندر کے اندر خرابی ہوئی ہے، یہ افسوسناک ہے۔ اتر پردیش کے کئی مقامات پر انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔ اتر پردیش میں ضمنی انتخابات میں کھلے عام دھاندلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران پیسے ووٹرز کے اکاؤنٹ میں ڈالے جاتے ہیں جو غلط ہے۔ اس سے انتخابات متاثر ہوتے ہیں۔ میڈیا کا رول انتخابات میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا میں سب کو برابر کی جگہ ملنی چاہیے تاکہ انتخابات شفاف طریقے سے ہو سکیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سوشل میڈیا پر منفی مہم چلاتی ہے اور لوگوں کی شبیہ خراب کی جاتی ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو سب سے زیادہ الیکٹورل بانڈ ملے۔ اس میں علاقائی جماعتیں کہاں ٹھہریں گی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ڈاکٹر سنجے جیسوال نے کہا کہ اپوزیشن کو بہار اسمبلی انتخابات میں ہوئی شکست پر خود احتسابی کرنی چاہیے۔ اپوزیشن اپنی کمزوریوں کو کبھی نہیں دیکھے گی اور انتخابات جیتنے والی پارٹی پر مختلف قسم کے الزامات لگاتی رہے گی۔ اپوزیشن کے ووٹ چوری کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ڈاکٹر جیسوال نے کہا کہ الزام جوابی الزام سے بچتے ہوئے کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنان کو متحرک کرے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ووٹ چوری ایمرجنسی کے دوران ہوئی تھی، جب اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1987 میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا، وہ ووٹ چوری ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی انتخابی اصلاحات کرنے والے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر ٹی این شیشن کے اختیارات کم کرنے کے لیے دو دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری بھی ووٹ چوری کی ایک شکل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بہار میں ووٹ چوری کے لیے پولنگ بوتھ لوٹ لیے جاتے تھے اور کئی انتخابی حلقوں میں دوبارہ پولنگ کرانی پڑتی تھی، لیکن گزشتہ بہار اسمبلی انتخابات کے دوران کسی بھی بوتھ پر دوبارہ پولنگ نہیں کرانی پڑی۔ بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے دوران 35 لاکھ ووٹ کاٹے گئے، جن میں کچھ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہوں گے، کچھ بنگلہ دیشی اور کچھ روہنگیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں سے بھی ایس آئی آر کے ذریعے بنگلہ دیشی اور روہنگیا کو ملک سے نکالا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگی۔
ڈاکٹر جیسوال نے کہا کہ پوری تیاری کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وعدے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے غیر متعلقہ وعدوں پر پابندی لگائی جائے۔ ایسے وعدے نہ کیے جائیں جنہیں پورا نہ کیا جا سکے۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں