
وزیر اعظم مغربی بنگال میں چار بڑے ریل منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز سے مغربی بنگال اور آسام کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم مالدہ میں 3,250 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ریل اور سڑک منصوبوں اور ہگلی کے سنگور میں 830 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور افتتاح کریں گے۔ مسٹر مودی ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان ہندوستان کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ وزیر اعظم آسام کے کالیا بور میں 6,950 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے قاضی رنگا ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے کا بھومی پوجن کریں گے۔ وہ گوہاٹی (کاماکھیا) روہتک اور ڈبروگڑھ۔لکھنؤ (گومتی نگر) کے درمیان دو نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ 17 جنوری کو وزیرِ اعظم مالدہ جائیں گے اور مالدہ ٹاؤن ریلوے اسٹیشن پر ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان بھارت کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم عوامی تقریب میں 3,250 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے متعدد ریل اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ 18 جنوری کو تقریباً سہ پہر 3 بجے وزیرِ اعظم ہگلی ضلع کے سنگور میں تقریباً 830 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، سنگِ بنیاد رکھیں گے اور انہیں ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ بعد ازاں ، وزیرِ اعظم مالدہ جائیں گے اور 3,250 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے متعدد ریل اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، جن کا مقصد مغربی بنگال اور شمال مشرقی خطے میں رابطے کو مضبوط بنانا اور ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم مالدہ ٹاؤن ریلوے اسٹیشن کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان بھارت کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ وہ گوہاٹی (کاماکھیا)-ہاوڑہ وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ورچوئلی بھی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ جدید بھارت کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی یہ مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ وندے بھارت سلیپر ٹرین مسافروں کو ہوائی جہاز جیسے آرام دہ سفر کی سہولت کم خرچ نرخ پر فراہم کرے گی۔ یہ طویل فاصلے کے سفر کو تیز، محفوظ اور زیادہ آسان بنائے گی۔ ہاوڑہ-گوہاٹی (کاماکھیا) راستے پر تقریباً 2.5 گھنٹے کے سفر کے وقت کی کمی کے ذریعے یہ ٹرین مذہبی سفر اور سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔
وزیرِ اعظم مغربی بنگال میں چار بڑے ریل منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، جن میں بالورگھاٹ اور ہیلی کے درمیان نئی ریل لائن، نیو جلپائی گڑی میں جدید فریٹ مینٹیننس سہولیات، سیلیگڑی لوکو شیڈ کی اپ گریڈیشن، اور جلپائی گڑی ضلع میں وندے بھارت ٹرین مینٹیننس سہولیات کی جدید کاری شامل ہے۔ یہ منصوبے مسافروں اور مال برداری آپریشنز کو مضبوط کریں گے، شمالی بنگال میں لاجسٹک کی کارکردگی بہتر کریں گے اور علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔
وزیرِ اعظم نیو کوچ بہار-بامن ہاٹ اور نیو کوچ بہار-بوکسیرہاٹ کے درمیان ریل لائنوں کی برق کاری کے منصوبے کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے، جس سے ٹرین آپریشنز تیز، صاف ستھرا اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ہوں گے۔ وزیرِ اعظم مزید چار نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو ورچوئلی ہری جھنڈی دکھائیں گے- جلپائی گڑی ناگرکوئل امرت بھارت ایکسپریس؛ نیو جلپائی گڑی -تیروچیراپلی امرت بھارت ایکسپریس؛ علی پور دوار - ایس ایم وی ٹی بنگلورو امرت بھارت ایکسپریس؛ علی پور دوار -ممبئی (پنویل) امرت بھارت ایکسپریس۔یہ ٹرینیں طویل فاصلے کی سستی اور قابل اعتماد ریل رابطے کو فروغ دیں گی۔ یہ خدمات عام شہریوں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کی نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کریں گی اور ریاستوں کے درمیان اقتصادی و سماجی روابط کو مضبوط بنائیں گی۔
وزیر اعظم دو نئی ٹرین خدمات کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے جو ایل ایچ بی کوچز سے لیس ہیں- رادھیکاپور - ایس ایم وی ٹی بنگلورو ایکسپریس ؛بالورگھاٹ - ایس ایم وی ٹی بنگلورو ایکسپریس۔ یہ ٹرینیں علاقے کے نوجوانوں، طلبہ اور آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہِ راست، محفوظ اور آرام دہ سفر کی سہولت فراہم کریں گی، اور اہم آئی ٹی و ملازمت کے مراکز جیسے بنگلورو تک رابطہ مضبوط کریں گی۔
وزیر اعظم قومی شاہراہ-31ڈی کے دھوپگڑی-فلاکاٹا سیکشن کی بحالی اور چار لین کی بنیاد رکھیں گے، جو شمالی بنگال میں علاقائی سڑک رابطے کو بہتر کرے گا اور مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کو آسان بنائے گا۔
یہ منصوبے جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بہتر رابطے میں اہم کردار ادا کریں گے، اور مشرقی اور شمال مشرقی خطوں کو ملک کی اہم ترقیاتی محرکات کے طور پر مضبوط کریں گے۔ وزیرِ اعظم سنگور، ہگلی میں تقریباً 830 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، سنگِ بنیاد رکھیں گے اور انہیں ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ وزیرِ اعظم بالاگڑھ میں ایکسٹینڈڈ پورٹ گیٹ سسٹم کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، جس میں ایک اندرونی آبی نقل و حمل(آئی ڈبلیو ٹی) ٹرمینل اور روڈ اوور برج شامل ہے۔ تقریباً 900 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ بالاگڑھ منصوبہ جدید کارگو ہینڈلنگ ٹرمینل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کی متوقع سالانہ صلاحیت تقریباً 2.7 ملین ٹن ہے۔ منصوبے میں دو مخصوص کارگو ہینڈلنگ جیٹیز کی تعمیر شامل ہے، ایک کنٹینرائزڈ کارگو کے لیے اور ایک خشک بلک کارگو کے لیے۔
بالاگڑھ منصوبے کا مقصد بھاری کارگو کی نقل و حمل کو رش والے شہری راستوں سے ہٹاتے ہوئے کارگو کی نکاسی کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے۔ اس سے سڑک کی حفاظت میں اضافہ ہوگا، کولکتہ شہر میں گاڑیوں کے ہجوم اور آلودگی کم ہوگی، اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ بہتر ملٹی ماڈل رابطہ اور لاجسٹک کی کارکردگی علاقائی صنعتوں، ایم ایس ایم ایز اور زرعی پیداوار کنندگان کے لیے کم لاگت مارکیٹ تک رسائی بھی فراہم کرے گی۔ اس منصوبے سے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی کمیونٹی کو لاجسٹکس، ٹرمینل آپریشنز، ٹرانسپورٹ سروسز، مینٹیننس اور متعلقہ سرگرمیوں میں نوکریاں ملیں گی۔
وزیر اعظم کولکاتہ میں جدید ترین الیکٹرک کیٹامران کا بھی افتتاح کریں گے۔ یہ کوچن شپ یارڈ لمیٹڈ کی طرف سے اندرونی آبی نقل و حمل کے لیے مقامی طور پر تیار کی گئی 6 الیکٹرک کیٹامران میں سے ایک ہے۔ یہ 50 مسافروں کی ہائیبرڈ الیکٹرک ایلومینیم کیٹامران جدید الیکٹرک پروپلشن سسٹمز اور لیتھیم ٹائٹنیٹ بیٹری ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو مکمل برقی صفر-ایمیژن موڈ اور ہائیبرڈ موڈ میں طویل فاصلے کے لیے کام کر سکتی ہے۔ یہ کشتی شہری دریا کی نقل و حمل، ماحولیاتی سیاحت اور ہگلی دریا کے ساتھ آخری میل مسافروں کی کنیکٹیویٹی میں مدد فراہم کرے گی۔
وزیر اعظم جیرامبتی-باروگوپیناتھ پور-مائنا پور نئی ریل لائن کا بھی افتتاح کریں گے۔ یہ لائن تارکیشور-بشنوپور نئی ریل لائن منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ اس نئی ریل لائن کے ساتھ، مائنا پور اور جیرامبتی کے درمیان ایک نئی ٹرین سروس بھی ہری جھنڈی دکھا کر شروع کی جائے گی، جس میں بارگوپیناتھ پور پر اسٹاپ شامل ہوگا۔ یہ بینکورہ ضلع کے رہائشیوں کے لیے براہِ راست ریل رابطہ فراہم کرے گی اور روزانہ کے مسافروں، طلبہ اور زائرین کے لیے سفر کو زیادہ سستا اور آسان بنائے گی۔
وزیر اعظم تین امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں - کولکاتہ (ہاوڑہ) - آنند وہار ٹرمینل امرت بھارت ایکسپریس؛کولکتہ (سیالدہ) - بنارس امرت بھارت ایکسپریس؛کولکاتہ (سنتراگاچی) - ٹمبارم امرت بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔
علاوہ ازیں، 17 جنوری کو شام تقریباً 6 بجے وزیر اعظم گوہاٹی کے سروساجی اسٹیڈیم میں روایتی بوڈو ثقافتی پروگرام میں شرکت کریں گے ۔
وزیر اعظم18 ؍جنوری کو صبح 6950 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت کے قاضی رنگا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ کے لیے بھومی پوجن کریں گے اور کالیابور ، ناگاؤں ضلع میں 2 نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے ۔
وزیراعظم گوہاٹی کے سروساجائی اسٹیڈیم میں بوڈو برادری کے بھرپور ثقافتی ورثے کا جشن منانے والے تاریخی ثقافتی پروگرام "باگورُمبا دھوو 2026" میں شرکت کریں گے۔
اس موقع پر بوڈو برادری سے تعلق رکھنے والے 10,000 سے زائد فنکار ایک ساتھ اور ہم آہنگ انداز میں باگورُمبا رقص پیش کریں گے۔ اس تقریب میں ریاست کے 23 اضلاع سے تعلق رکھنے والی 81 قانون ساز اسمبلی حلقوں کے فنکار حصہ لیں گے۔
باگورُمبا بوڈو برادری کے لوک رقصوں میں سے ایک ہے، جو فطرت سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ رقص کھلتے ہوئے پھولوں کی علامت ہے اور انسانی زندگی اور قدرتی دنیا کے درمیان ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ روایتی طور پر یہ رقص نوجوان بوڈو خواتین پیش کرتی ہیں، جبکہ مرد موسیقاروں کے طور پر ساتھ دیتے ہیں۔ اس رقص میں نرم اور رواں حرکات شامل ہوتی ہیں جو تتلیوں، پرندوں، پتوں اور پھولوں کی نقل کرتی ہیں۔ عام طور پر یہ رقص گروپ کی شکل میں دائرے یا قطاریں بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جو اس کی بصری خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
بگورمبا رقص بوڈو سماج کے لیے گہری ثقافتی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ امن ، زرخیزی ، خوشی اور اجتماعی ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے اور بوساگو ، بوڈو نیا سال اور دوماسی جیسے تہواروں سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔
وزیر اعظم 6950 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے قاضی رنگا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ (این ایچ-715 کے کالیابور-نومالا گڑھ سیکشن کو 4 لائن بنانے) کا بھومی پوجن کریں گے ۔
چھیاسی(86) کلومیٹر طویل قاضی رنگا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ ایک ماحول دوست قومی شاہراہ منصوبہ ہے۔ اس میں 35 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور شامل ہوگا جو قاضی رنگا نیشنل پارک سے گزرے گا، 21 کلومیٹر کا بائی پاس سیکشن اور این ایچ-715 کے موجودہ شاہراہ سیکشن کو دو سے چار لین تک چوڑا کیاجائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد پارک کی مالا مال حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔
یہ منصوبہ ناگاؤں، کاربی آنگ لونگ اور گولاگھاٹ اضلاع سے گزرے گا اور اس سے بالائی آسام بالخصوص ڈبروگڑھ اور تینسکیا کے لیے رابطہ کاری میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور جنگلی جانوروں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا اور انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم میں کمی لائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ سڑکوں کی حفاظت میں اضافہ کرے گا، سفر کا وقت اور حادثات کی شرح کم کرے گا اور ساتھ ہہی اور بڑھتی ہوئی مسافروں اور مال برداری کی آمد و رفت میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔منصوبے کے تحت جکھلابندھا اور بوکاکھاٹ میں بائی پاسز تعمیر کیے جائیں گے، جس سے قصبوں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی، شہری آمد و رفت بہتر ہوگی اور مقامی باشندوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔
پروگرام کے دوران وزیر اعظم 2 نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں-گوہاٹی (کامکھیا)-روہتک امرت بھارت ایکسپریس اور ڈبرو گڑھ-لکھنؤ (گومتی نگر) امرت بھارت ایکسپریس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے ۔ یہ نئی ٹرین خدمات شمال مشرق اور شمالی ہندوستان کے درمیان ریل رابطے کو مضبوط کریں گی ، جس سے لوگوں کے لیے محفوظ اور زیادہ آسان سفر ممکن ہو سکے گا ۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

