مواد پر جائیں
قومی

راہل نارویکر کے خلاف فوری کارروائی اور بلا مقابلہ منتخب وارڈز میں دوبارہ انتخابات کا ادھو ٹھاکرے کا مطالبہ

Awaze Bihar2 منٹ پڑھیں

شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر ادھو ٹھاکرے نے اتوار کے روز مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر کے اُن بلدی وارڈز میں جہاں امیدوار بلا مقابلہ منتخب قرار دیے گئے ہیں، نتائج منسوخ کر کے نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس طرح کے واقعات نے جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ادھو ٹھاکرے کا یہ مطالبہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب حکمراں مہایوتی اتحاد کے 68 امیدوار مختلف بلدی وارڈز میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ دادَر میں واقع شیو سینا بھون میں مہاراشٹر نوَنرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے انتخابات کی شفافیت اور منصفانہ عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اقدار کو منظم طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے اور کہا کہ ملک کا ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جمہوریت کی جگہ ہجوم کی حکمرانی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرے اور بلدیاتی انتخابات میں سب کیلئے یکساں میدان کو یقینی بنائے۔
اس معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر کو نامزدگی کے عمل کے دوران اپوزیشن امیدواروں کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے اس ویڈیو کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر کا امیدواروں اور ووٹروں کو کھلے عام دھمکانا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے مطالبہ کیا کہ راہل نارویکر کے خلاف نہ صرف فوری کارروائی کی جائے بلکہ انہیں عہدے سے معطل کیا جائے اور ان پر فوجداری مقدمہ بھی درج کیا جائے۔ ان کا الزام تھا کہ بلا مقابلہ کامیابیاں یقینی بنا کر ووٹروں کے حقِ رائے دہی کو چھینا گیا ہے۔ اس تنازع پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس نے بھی اسپیکر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور نامزدگی کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ ادھر راہل نارویکر نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موقع پر ان پر ہی دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایک سابق رکن قانون ساز کونسل نے اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ انہیں روکنے کی کوشش کی، جس کی شکایت انہوں نے پولیس حکام سے کی ہے۔ یہ تنازع بلدیاتی انتخابات سے قبل ریاست کی سیاست میں گرما گرمی کا سبب بن گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں ادارہ جاتی جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ اسپیکر نے الزامات کو سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں