
دیہی ترقی پر بحث: اپوزیشن نے اسکیموں میں بدعنوانی اور بدانتظامی کا لگایا الزام
راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے بدھ کے روز جل جیون مشن جیسی کچھ اسکیموں میں مبینہ بدعنوانی اور بدانتظامی کا معاملہ اٹھایا اور دیہی ترقی کی وزارت کے کام کاج پر بحث کے دوران مرکز پر ان کی حکومت والی ریاستوں کی اسکیموں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگایا۔
اپوزیشن کے کچھ ارکان نے اس دوران ایران کی لڑائی کی وجہ سے گیس کی قلت کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ پارلیمنٹ کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس، حکمران جماعت کے ارکان نے مودی حکومت کے ایک دہائی کے دورِ اقتدار میں دیہی معیشت کی کایا پلٹ کرنے والی پہلوں کی ستائش کی اور کہا کہ اس سے گاؤں کے لوگوں کو بااختیار بنایا گیا ہے۔
منگل کو شروع ہوئی اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی (آپ) کے سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت دیہی علاقوں کے لیے مختلف اسکیموں کا ڈھنڈورا تو پیٹتی ہے لیکن 'جل جیون مشن جیسی اہم اسکیم بدعنوانی کی نذر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت بنیں پانی کی بہت سی ٹنکیاں اور پائپوں کا نیٹ ورک افتتاح سے پہلے ہی تباہ ہو گیا ہے۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ گاؤں میں پانی کے پائپ بچھانے کے لیے کھڑنجے اور سڑکیں کھود دی گئی ہیں جس سے دیہی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر سنگھ نے منریگا یوجنا کی جگہ لائی گئی 'جی رام جی' اسکیم کے لیے ناکافی بجٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم میں 100 کے بجائے 125 دن کے روزگار کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ بجٹ میں صرف دو ہزار کروڑ روپے کا اضافہ کر کے اسے 88 ہزار کروڑ روپے کیا گیا ہے۔ انہوں نے 'جی رام جی' اسکیم میں 40 فیصد مالی بوجھ وسائل کی کمی کا سامنا کررہیں ریاستوں پر ڈالے جانے کی بھی سخت مذمت کی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث رسوئی گیس کی قلت کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ اس سے 'اجولا یوجنا سمیت دیہی علاقوں کے 21 کروڑ گیس کنکشن صارفین کو گیس نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے پنجاب کی دیہی ترقی کے 8000 کروڑ روپے دبا لیا ہے، جبکہ ریاست میں پچھلے سیلاب کے وقت جس 1600 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا تھا، اس میں سے 16 پیسے بھی نہیں ملے۔
ان کی تقریر کے دوران دیہی ترقی کے وزیر شیوراج چوہان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ "میں ہر بات کا جواب دوں گا، اپوزیشن کے رکن کو جواب سننے کے لیے ایوان میں رکنا ہو گا۔"
بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) نے کہا کہ ہندوستان کا دیہی علاقہ آج بھی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار کے بجٹ میں دیہی ترقی کے لیے 2.14 لاکھ کروڑ روپے سے کچھ زیادہ کی رقم مختص ہے جو کہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے 'جی رام جی اسکیم کی ضرورت کے پیشِ نظر اس کے بجٹ کو بھی کم قرار دیا۔
بی جے پی کی ریکھا شرما نے یو پی اے کے دور کی 70 ہزار کروڑ روپے کی کسان قرض معافی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی پچھلی حکومتوں نے گاؤں اور غریبوں کے نام پر صرف ڈھونگ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے سڑکوں کے جال، بنیادی ڈھانچے، مویشی پروری اور ماہی گیری جیسی اسکیموں کے ذریعے دیہی علاقوں میں لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑک صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ خواتین کے محفوظ سفر، مریضوں کی صحت کی سہولیات تک رسائی اور روزگار کے مواقع کا راستہ بھی ہوتی ہے۔
ڈی ایم کے کے ڈاکٹر تروچی شوا نے بھی ایران کی جنگ کی وجہ سے ملک میں پیدا ہوئے ایندھن کے بحران کا مسئلہ اٹھایا۔ مسٹر شوا نے کہا کہ ہندوستان اس جنگ کا حصہ نہیں ہے لیکن ملک میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ایل پی جی نہ ملنے کی وجہ سے ریستوراں بند ہو رہے ہیں اور گھروں کے چولہے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے منریگا اسکیم میں 'جی رام جی' کے ذریعے کی گئی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سو فیصد مرکزی امداد سے چلنے والی اسکیم کا 40 فیصد مالی بوجھ اب ریاستوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
بی ایس پی کے رام جی نے کہا کہ حکومت اعداد و شمار پیش کر کے جتنی بھی واہ واہی لوٹ لے، لیکن اب بھی لاکھوں گاؤں ایسے ہیں جہاں اچھی سڑک، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور قبائل (ایس ٹی) کی بستیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔
بی جے پی کے انیل سکھدیو راؤ بونڈے اور اسی پارٹی کے مینک کمار نائک نے مودی حکومت کے دور میں دیہی علاقوں میں ہوئے ترقیاتی کاموں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اسکیموں کا پیسہ براہِ راست لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کی پرینکا چترویدی نے مرکز پر مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں زراعت کا شعبہ اب بھی بحران کا شکار ہے اور کسانوں کی خودکشی کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

