
شندے گروپ کے کئی کارپوریٹر بی جے پی میئر کے حق میں نہیں ممبئی میئر کے عہدے پر اندرونی کھینچا تانی تیز
شیوسینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے سینئر لیڈر سنجے راؤت نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے کئی نو منتخب کارپوریٹر ممبئی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا میئر بننے کے حق میں نہیں ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد ممبئی کی سیاست میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے درمیان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راؤت نے کہا کہ شندے گروپ کے بیشتر کارپوریٹر اصل میں بالاصاحب ٹھاکرے کی قائم کردہ متحدہ شیوسینا سے وابستہ رہے ہیں۔مسٹر سنجے راؤت کے مطابق ان کی جماعت کی سمجھ یہ ہے کہ ممبئی میں کوئی بھی بی جے پی کا میئر نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر صورت حال وہ نہیں ہے جو بظاہر دکھائی جا رہی ہے اور کئی منتخب نمائندے اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔مسٹر راؤت کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنی جماعت کے 29 کارپوریٹروں کو ممبئی کے ایک لگژری ہوٹل میں منتقل کر دیا ہے۔ شندے دھڑے کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارپوریٹر تین روزہ ورکشاپ میں شرکت کر رہے ہیں، جس میں انہیں بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کام کاج اور طریقۂ کار سے واقف کرایا جائے گا۔اس سوال پر کہ آیا شندے دھڑے کے کارپوریٹروں کی ادھو ٹھاکرے دھڑے میں واپسی، یعنی 'گھر واپسی' ممکن ہے، سنجے راؤت نے کہا کہ اگرچہ کارپوریٹر ہوٹل میں مقیم ہیں، لیکن رابطے کے ذرائع بند نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بند کر کے رکھا گیا ہے تو بھی بات چیت کے کئی راستے موجود ہیں، اور جنہیں روکا گیا ہے انہیں آزاد کیا جانا چاہیے۔
مسٹر راؤت نے مزید دعویٰ کیا کہ خود ایکناتھ شندے بھی ممبئی میں بی جے پی کا میئر نہیں چاہتے۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے کے ایک دن قبل دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پردے کے پیچھے سیاسی سطح پر کئی اہم پیش رفت ہو رہی ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا تھا کہ اگر خدا نے چاہا تو میئر کا عہدہ اب بھی ان کی جماعت کو مل سکتا ہے، اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ شندے دھڑے کو اپنے اتحادی بی جے پی کی جانب سے توڑ پھوڑ کی کوششوں کا خدشہ ہے۔
مسٹر سنجے راؤت نے یہ بھی بتایا کہ میئر کے عہدے کو لے کر ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کے درمیان بھی بات چیت ہوئی ہے، تاہم ان کی جماعت اس پورے عمل کو فی الحال غیر جانبداری سے دیکھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی نے 89 نشستیں حاصل کیں، جبکہ شندے دھڑے کی شیوسینا کو 29 نشستیں ملیں، جس کے باعث مہایوتی اتحاد کو 227 رکنی ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے دھڑے کی شیوسینا نے ان انتخابات میں 65 نشستیں جیتی ہیں۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



