آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


کانگریس نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ وَندے ماترم جیسی مقدس تخلیق پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے بہانے عوام کی توجہ ملک کے سامنے موجود اہم چیلنجز سے ہٹانے میں لگی ہوئی ہے اور مغربی بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اس بحث کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو ملک کے قومی گیت وَندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے ان الزامات کو بھی غلط قرار دیا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں کانگریس نے وَندے ماترم کے کچھ بند ہٹا دیئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہی وَندے ماترم کو آزادی کا گیت بنایا اور پارلیمنٹ میں اسے گانا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو متحد رکھنے والے وَندے ماترم کا اس طرح استعمال نامناسب اور غیر ضروری ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ڈیڑھ سو سال بعد وَندے ماترم پر تنازع کھڑا کر کے سابق لیڈران جیسے نہرو، سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی کو بدنام کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم مودی کو اس پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک متعدد چیلنجز سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف وزیر اعظم مودی ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہتے ہیں اور اب عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے وَندے ماترم پر بحث کا موضوع لے آئے ہیں۔ مسٹر کھڑگے نے الزام لگایا کہ حکومت مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ معاملہ لے کر آئی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ مسائل کے حل پر توجہ دے۔
اپوزیشن رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نہرو اور کانگریس لیڈروں کی توہین کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ انہوں نے کہا کہ وَندے ماترم کے کچھ اشعار کو ہٹانے کا فیصلہ کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی اجلاس میں اجتماعی طور پر لیا گیا تھا، جس میں تمام بڑے رہنما شامل تھے، تو صرف نہرو کو کیوں بدنام کیا جائے۔
مسٹر کھڑگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ہندو مہاسبھا نے کبھی بھی آزادی کی تحریکوں میں حصہ نہیں لیا بلکہ برطانیوں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں جب ہندو مہاسبھا اور مسلم لیگ نے مل کر حکومت بنائی، تو اس وقت بی جے پی اور آر ایس ایس کی وطن پرستی کہاں تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کو وَندے ماترم کی یاد 15 دہائیوں بعد آئی، جبکہ کانگریس نے اقتدار میں رہتے ہوئے وَندے ماترم کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر پہلا یادگاری ڈاک ٹکٹ اور پوسٹ کارڈ جاری کیا تھا۔
مسٹر کھڑگے نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل گرتی قدر اور 90 کی سطح تک پہنچنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے کہا تھا کہ حکومت کی بدعنوانی کے سبب روپے کی قدر کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اب یہ مان لیا جائے کہ مودی حکومت میں بھی اسی وجہ سے روپے کی قدر گر رہی ہے؟
انہوں نے خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے 1971 کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش پاکستان کے قریب جا رہا ہے اور ہمسایہ ملک چین کے اثر میں آ رہے ہیں۔
حکومتی اراکین کے ہنگامے کے دوران، کھڑگے نے امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے آپریشن سندور کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی اور دہشت گردانہ حملوں کا بھی معاملہ اٹھایا۔







