آر ایس ایس کا نوجوانوں و خواتین پر توجہ بڑھانے کا فیصلہ


کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ جو لوگ ہمیشہ سے آئین کی مخالفت کرتے رہے، وہی آج ملک کے عظیم رہنماؤں کے فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
محترمہ گاندھی نے وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایوان میں ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد وندے ماترم کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کرنے پر مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر سمیت دیگر عظیم شخصیات نے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئین مخالف‘‘ لوگ آج اُن کے فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، کیا یہ لوگ ان عظیم شخصیات سے بڑے ہو گئے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت بے شمار مسائل سے گھرا ہوا ہے لیکن حکمراں جماعت ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے ایسے موضوعات پر بحث کرا رہی ہے جن پر بحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ حکمراں جماعت کی پالیسیاں ملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ وندے ماترم ملک کے کونے کونے میں زندہ ہے، اس پر بحث نہیں ہو سکتی، لیکن چونکہ حکمراں پارٹی نے بحث کا مطالبہ کیا، اس لیے بحث ہورہی ہے۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی تقریر تو اچھی کرتے ہیں، لیکن حقائق کے معاملے میں کمزور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے وندے ماترم پر اپنے خطاب میں کچھ غلط حقائق پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ 1875 میں بنکم چندر چیٹرجی نے وندے ماترم کے دو بند لکھے تھے اور 1882 میں ان کا ناول ’’آنند مٹھ‘‘ آیا جس میں انہوں نے وندے ماترم میں چار اور بند شامل کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سن 1905 میں کانگریس کے وارانسی اجلاس میں اسے گایا گیا اور اسے تمام ہندوستانی تقریبات کے لیے اختیار کر لیا گیا۔ بعد کے دنوں میں ہر کوئی اسے گانے لگا اور یہ گیت مادرِ وطن کے لیے جان نچھاور کرنے کا ایک محرک بن گیا۔ برطانوی سامراج اس گیت کی گونج سے لرز اٹھا۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ 1937 میں نیتاجی سبھاش چندر بوس اور گُرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم شخصیات کی رضامندی سے اس کے دو بند (انترے) نکالے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بندوں کا فرقہ وارانہ مطلب نکالا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی گیت اور قومی ترانہ دونوں کو گُرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور نے منتخب کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ مسٹر نریندر مودی تقریباً 12 برس سے وزیراعظم ہیں، جبکہ پنڈت جواہر لال نہرو تو اتنے برسوں تک آزادی کی جدوجہد کے دوران جیل میں رہے تھے۔ مسٹر مودی بار بار پنڈت نہرو کی کمیاں گِناتے رہتے ہیں۔ وہ مطالبہ کرتی ہیں کہ سابق وزیراعظم کے کاموں پر اس ایوان میں 10 گھنٹے، دو دن یا تین دن بحث کرا لی جائے اور پھر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔ اس کے بعد اس ایوان میں آلودگی، مہنگائی، بے روزگاری، سلامتی، ریزرویشن، نوجوانوں کے مسائل، خواتین کے حالات وغیرہ پر بحث ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ ان کی حکمرانی ظلم، دکھاوے، انتخابی سیاست اور ایونٹ مینجمنٹ تک محدود ہے۔ وندے ماترم پر بحث بھی بنگال انتخابات کو دیکھتے ہوئے کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی گیت وندے ماترم ہمیشہ سے پیارا ہے، مقدس ہے اور مقدس ہی رہے گا۔







