مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

ووٹ چوری کی سچائی سامنے آنے سے مودی-شاہ کا اعتماد ختم ہو رہا ہے: راہل گاندھی

4 منٹ کی پڑھائی

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت کے اشارے پر ایمانداری سے انتخابات نہیں کروا رہا ہے اور اگر وہ شفاف طریقے سے کام کرے تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایک بھی انتخاب نہیں جیت سکتی۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے اتوار کو رام لیلا میدان میں پارٹی کی 'ووٹ چور، گدی چھوڑ' کے عنوان سے منعقدہ ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں سچ اور جھوٹ کے درمیان جدوجہد جاری ہے۔ کانگریس سچ کے راستے پر ہے جبکہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جھوٹ کے راستے پر چل کر صرف انتخابات جیتنے کی سازش کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی سچ کو اہمیت دیتے تھے اور کانگریس انہی کے دکھائے ہوئے سچ کے راستے پر چل رہی ہے لیکن آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ سچ نہیں بلکہ 'اقتدار' ضروری ہے۔ ان کے لیے جھوٹ ہی سب کچھ ہے اور وہ جھوٹ اور فریب کے سہارے اقتدار کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ووٹ چوری کرتی ہے اور انتخابات کے دوران ہر ووٹر کو دس ہزار روپے دے کر جیت کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ ان کے مطابق انتخابات کے وقت ووٹروں کو دس ہزار روپے دینا سب سے بڑی ووٹ چوری ہے۔ انہوں نے تینوں الیکشن کمشنروں کو نشانہ بناتے ہوئے نام لے کر کہا کہ وہ مل کر حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو قانون بنائے گی اور بی جے پی کو حکومت بنانے میں ووٹ چوری کے ذریعے مدد کرنے والے ان تینوں الیکشن کمشنروں کو سازش کی سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو سچ کے لیے لڑنا چاہیے، درست کام کرنا چاہیے اور صرف سچ کو ہی اہمیت دینی چاہیے لیکن وہ سچ کے راستے پر چلنے کے بجائے جانبداری اختیار کر رہا ہے اور بی جے پی کو جتوانے کی سازش کر رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹ چوری کر کے انتخابات جیت رہی ہے۔ اگرچہ وہ جھوٹ کے راستے پر چل رہی ہے لیکن آخرکار جیت سچ کی ہی ہوگی، چاہے اس میں کچھ وقت کیوں نہ لگ جائے۔
وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی وجہ سے ان کا اعتماد ڈگمگا رہا ہے کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ ان کی ووٹ چوری کی سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔ پورے ملک کو اس سچ کا علم ہونے والا ہے، اسی لیے دونوں گھبرائے ہوئے ہیں اور ان کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
اس سے قبل پرینکا گاندھی واڈرا نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''آج اداروں پر حملے ہو رہے ہیں، عدلیہ دباؤ میں ہے، کانگریس کے بینک اکاؤنٹ بند کروا دیے جاتے ہیں، کانگریس کے رہنماؤں کو بغیر کسی ثبوت کے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو بھیجا جا رہا ہے، چھاپے مارے جا رہے ہیں، حکومت کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ایس آئی آر پر بحث کروانے کا مطالبہ کیا گیا تو پہلے انکار کیا گیا، پھر دباؤ میں آ کر مانا گیا۔''
انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی بیلٹ کے ذریعے ایمانداری سے انتخابات لڑے اور ووٹ چوری نہ کرے تو وہ ایک بھی انتخاب نہیں جیت سکتی۔ ان کے مطابق بی جے پی الیکشن کمیشن کے بغیر انتخابات جیت ہی نہیں سکتی۔ الیکشن کمیشن حکومت کی مدد کر رہا ہے اور جمہوریت کو ختم کر رہا ہے۔ انتخاب کے اعلان سے لے کر ووٹر لسٹ، ووٹنگ، ووٹوں کی گنتی اور ای وی ایم تک ہر چیز کو بی جے پی کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عوام کا اعتماد بی جے پی، حکومت، وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ سے اٹھ چکا ہے۔
پرینکا گاندھی نے حکومت کو ہر محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں صرف آئینی اداروں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور الیکشن کمیشن جیسا ادارہ حکومت کی غیر ذمہ دارانہ طریقے سے مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس رویے کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں