
ترنمول بنگال کو لوٹ رہی ہے، بی جے پی رکی ہوئی ترقی کو بحال کرے گی: وزیراعظم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ترنمول کانگریس پر مغربی بنگال کو لوٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 'رکے ہوئے ترقیاتی کام صرف اسی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہوگی۔
یہاں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ بنگال کے چاروں طرف سوشاسن‘ (اچھی حکمرانی) والی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈیشہ، تریپورہ، آسام اور بہار میں بھی بی جے پی کی حکومتیں ہیں، اب بنگال میں بھی بی جے پی کی حکومت آنی چاہیے۔
وزیر اعظم نے ہاوڑہ۔گوہاٹی کے درمیان چلنے والی ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد منعقدہ جلسے میں کہا، مغربی بنگال کی تیز رفتار ترقی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجیح ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین جس مقام سے شروع ہو رہی ہے وہ بنگال ہے۔پی ایم مودی نے کہا، ’’میں بنگال کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت کی جو اسکیمیں ہیں وہ ان کے اصل حق داروں تک پہنچیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ بنگال کی ترنمول حکومت بہت بے رحم ہے۔ مرکز کی حکومت بنگال کی ترقی کے لیے جو رقم بھیجتی ہے اسے ترنمول کے لوگ لوٹ لیتے ہیں۔ انہیں عوام کی تکلیف کی کوئی فکر نہیں وہ اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ یہاں آیوشمان بھارت یوجنا نافذ ہو لیکن بنگال ملک کی واحد ریاست ہے جہاں یہ اسکیم نافذ نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے کروڑوں غریبوں نے مفت علاج کرایا ہے لیکن ترنمول والے بنگال میں میرے کسی بھی بھائی بہن کو آیوشمان بھارت کا فائدہ نہیں لینے دیتے۔ ایسی بے رحم حکومت کی بنگال سے رخصتی ضروری ہے۔
پی ایم مودی نے مزید کہا، ’’مرکز کی بی جے پی حکومت پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا چلا رہی ہے۔ لاکھوں خاندانوں نے اس اسکیم کے ذریعے اپنے گھروں میں سولر پلانٹ لگائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ بنگال کے لوگوں کو بھی اس اسکیم کا فائدہ ملے اور آپ کے گھر کا بجلی بل صفر ہو جائے لیکن ترنمول حکومت ایسی اسکیموں کو آگے نہیں بڑھنے دیتی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام کی بھلائی اسی وقت ہوگی جب یہاں ترقی روکنے والی ترنمول حکومت کے بجائے ترقی کو آگے بڑھانے والی بی جے پی حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا، یہاں نہ فیکٹریاں لگ رہی ہیں اور نہ ہی کسانوں کو سہولیات مل رہی ہیں۔ مالدہ۔مرشدآباد سے کسانوں کو روزی روٹی کے لیے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ ریشم کے کسانوں کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ عام کسان بدحال ہیں۔
انہوں نے ریاست کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے پر گنگا، مہانندا اور فلہر ندیوں پر سیلاب سے تحفظ کے لیے مضبوط انتظامات کیے جائیں گے۔ پی ایم مودی نے بنگلہ دیش سرحد کی سیکورٹی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’بنگال کے سامنے دراندازی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ دنیا کے خوشحال ممالک بھی اپنے یہاں سے غیر قانونی دراندازوں کو نکال رہے ہیں۔ مغربی بنگال سے بھی دراندازوں کو باہر نکالنا بہت ضروری ہے لیکن ترنمول حکومت کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔‘‘
انہوں نے ممتا بنرجی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا، ’’ترنمول کا سنڈیکیٹ کئی برسوں سے یہاں دراندازوں کو بسانے اور ووٹر بنانے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ درانداز لوگ مقامی لوگوں کے حقوق چھینتے ہیں، روزگار چھینتے ہیں، بہن بیٹیوں پر مظالم ڈھاتے ہیں اور دہشت جیسے دیگر جرائم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ مالدہ۔مرشدآباد سمیت مغربی بنگال کے کئی علاقوں میں فسادات بھی بڑھ رہے ہیں۔ دراندازوں اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنا ہی ہوگا۔ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی دراندازی اور دراندازوں کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ترنمول کے اقتدار میں خواتین اسکول اور کالجوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بے رحمی کا یہ عالم ہے کہ بیٹیوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور متاثرین کو بار بار عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔‘‘پی ایم مودی نے کہا کہ اب بنگال میں اچھی حکمرانی کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے جلسے میں پالٹا نو دورکار، بی جے پی سرکار کے نعرے بھی لگوائے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

