مواد پر جائیں
قومی

ترکمان گیٹ: تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران تشدد، پولیس نے دس افراد کو حراست میں لیا

Awaze Bihar8 منٹ پڑھیں

دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب بدھ کو علی الصبح تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران مقامی لوگوں کی جانب سے پتھراؤ کیے جانے کے سبب پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہو گئے۔ اس سلسلے میں دس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے قومی دارالحکومت میں رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ پر واقع درگاہ فیض الٰہی مسجد کے اطراف میں موجود غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف انہدامی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران یہ واقعہ رونما ہوا۔سینئر پولیس افسر ندھین والسَن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 تا 30 افراد نے پولیس ٹیموں پر پتھراؤ کیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ہمیں آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ وہاں ایک بینکوئٹ ہال اور ایک دواخانہ تھا، جنہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی دیر رات کی گئی تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
اس سے قبل جاری ایک بیان میں دہلی کی سنٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر مدھُر ورما نے بتایا کہ پورے علاقے کو احتیاط کے ساتھ نو زون میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے ہر ایک کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رینک کے ایک افسر کے سپرد کی گئی تھی۔ تمام حساس مقامات پر مناسب تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ انہدامی کارروائی سے قبل امن و امان کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے امن کمیٹی کے اراکین اور دیگر مقامی متعلقین کے ساتھ متعدد میٹنگیں کی گئیں نیز احتیاطی اور اعتماد سازی کے تمام تراقدامات کیے گئے تھے۔
نئی دہلی، 7 جنوری(یو این آئی) دارالحکومت دہلی کے ترکمان گیٹ میں واقع مسجد اور درگاہ فیض الٰہی احاطے میں واقع ڈسپنسری اور دیگر عمارت کے خلاف رات تقریباً ایک بجے انہدامی کارروائی کی گئی اور تقریباً صبح سات بجے تک دفعہ 144 اور 163 نافذ رہی۔
مسجد فیض الہی انتظامیہ کے خزانچی نے یو این آئی اردو کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دو تین ماہ قبل نوٹس دیا گیا تھا، اس کے بعد تمام فیصلے جلد بازی میں لیے گئے اور ہمیں اپنا موقف رکھنے کے لیے مہلت بھی نہیں دی گئی۔ 7 جنوری بروز بدھ دہلی ہائی کورٹ میں تاریخ تھی اور آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ آنا تھا، لیکن سنوائی سے قبل ہی انہدامی کارروائی کر دی گئی۔
سماجی کارکن اور مقامی باشندہ شفیع دہلوی نے پوری کارروائی یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائی سیوا فاؤنڈیشن کے کہنے پر کی گئی ہے۔ علاقائی باشندہ نواب الدین نے کاروائی کے حوالے سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ کارروائی ہے، مسجد انتظامیہ کو بھی اپنا موقف رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی۔ اس کارروائی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آمد و رفت میں دشواری ہو رہی ہے۔ جہاں یہ کارروائی انجام دی گئی وہیں علاقے کے کچھ لوگوں نے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے درست قرار دیا لیکن کچھ دیگرباشندوں نے اس کارروائی کو جانبدارانہ بتاتے ہوئے اسے ناقابل قبول بھی قراردیا ۔ نوجوان طبقہ کا کہنا ہےکہ یہ کارروائی سراسر درست نہیں ہے تو وہیں علاقے کے بزرگوں نے اس کارروائی کو امن و امان کے تناظر میں دیکھتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا۔ نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا کہ یہاں ایک ڈسپنسری بھی تھی جس سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچتا تھا۔ وہاں پر علاج بہت کم قیمت پر ہوتا تھا۔ لیکن اب اس انہدامی کارروائی کے بعد طبی سہولیات کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ انہدامی کارروائی دہلی مونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ذریعہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کی گئی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان یہ کارروائی کی گئی اور اس دوران کچھ شر پسند عناصر نے پتھر بازی بھی کی، جس کے نتیجے میں دہلی پولیس کی کمپنیاں، ریپیڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور سی آر پی ایف نے لوگوں کو بکھیرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔
جہاں تک مسجد میں پنج وقتہ نمازادا کا مسئلہ ہے،توانتظامیہ نے علاقے کے تمام لوگوں سے کہا گیا ہے جب تک حالات معمول پر نا آجائیں وہ یہاں نماز پڑھنے سے گریزکریں ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انہدام کے دوران کچھ شرپسندوں نے پتھراؤ کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی، تاہم بروقت صورتحال پر قابو پالیا گیا۔ کم سے کم اور محدود طاقت کا استعمال کرکے، پولیس نے حالات کو کنٹرول کیا اور بغیر کسی بڑے تصادم کے معمولات کو بحال کیا۔ دہلی پولیس نے کہا کہ وہ عدالت کی ہدایات کو قانون کے دائرے میں اور سنجیدگی کے ساتھ نافذ کرنے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے پابند عہد ہے۔
سینئر پولس افسران نے حراست میں لیے گئے افراد میں سے تین کی شناخت محمد اریب (25)، محمد کیف (23) اور محمد کاشف (25) کے طور پر کی ہے، جو تمام ترکمان گیٹ کے باشندے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ "ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر، دوسرے پتھراؤ کرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور انہیں بھی گرفتار کیا جائے گا۔"
اس معاملے میں تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 221، 132، 121، 191(2)، 191(3)، 223(A)، 3(5) اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے انسداد ایکٹ 1984 کی دفعہ 3 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے۔
سینئر پولیس افسر ندھین والسَن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 تا 30 افراد نے پولیس ٹیموں پر پتھراؤ کیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ہمیں آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ وہاں ایک بینکوئٹ ہال اور ایک دواخانہ تھا جنہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی دیر رات کی گئی تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ پتھراؤ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اس سے قبل جاری ایک بیان میں دہلی کی سنٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر مدھُر ورما نے بتایا کہ پورے علاقے کو احتیاط کے ساتھ نو زونز میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے ہر ایک کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رینک کے ایک افسر کے سپرد کی گئی تھی۔ تمام حساس مقامات پر مناسب تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ انہدامی کارروائی سے قبل امن و امان کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے امن کمیٹی کے اراکین اور دیگر مقامی متعلقین کے ساتھ متعدد میٹنگیں کی گئیں نیز احتیاطی اور اعتماد سازی کے تمام تراقدامات کیے گئے تھے۔
آئی پی ایس ورما کے مطابق انہدام کے دوران چند شرپسند عناصر نے پتھراؤ کر کے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم صورتِ حال پر فوراً قابو پا لیا گیا، جس کے نتیجے میں بغیر کسی تصادم کے حالات معمول پر آ گئے۔عدالتی احکامات کےم طابق دہلی پولیس امن و امان کو یقینی بنانے کےلئےہر ممکن تدبیر کررہی ہے۔
دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے کہا ہے کہ ترکمان گیٹ پر واقع مسجد درگاہ فیضِ الٰہی کے قریب تجاوزات ہٹانے کے دوران پیش آیا پتھراؤ کا واقعہ نہایت افسوسناک ہے۔
مسٹر سود نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسجد کے اطراف کچھ تجارتی ادارے غیر قانونی طور پر قائم تھے، جن کے خلاف عدالتی ہدایات کی تعمیل میں کارروائی کی جا رہی ہے۔ قانونی دائرے میں رہ کر جاری کام کو روکنا یا اس میں رکاوٹ ڈالنا سراسر غلط ہے۔ اس کارروائی کی مخالفت میں بعض مجرمانہ اور شرپسند عناصر نے احتجاج اور تشدد کیا، جو ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث قصورواروں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ اب تک اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسجد فیضِ الٰہی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یہ کارروائی صرف ان غیر قانونی تجارتی اداروں کے خلاف کی جا رہی ہے جو عدالتی احکامات کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں حکومت کی کوئی من مانی یا بدنیتی شامل نہیں ہے۔
دہلی کابینہ وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے اشتعال میں نہ آئیں۔ جو لوگ اشتعال میں آ کر قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام امن پسند لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ایسے شرپسند عناصر کی شناخت میں انتظامیہ کو تعاون دیں اور باہمی ہم آہنگی اور امن قائم رکھیں۔واضح رہے کہ بدھ کی علی الصبح دہلی میونسپل کارپوریشن نے دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ واقع مسجد درگاہ فیض الٰہی کے نزدیک تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی تھی۔ اس دوران ہوئے پتھراؤ میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو ئے ہیں۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں