بدھ، 7 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مترجمین کو ترجمے کے دوران لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں سے مستعدرہنا چاہےے :پروفیسر علی رفاد فتیحی
مترجمین کو ترجمے کے دوران لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں سے مستعدرہنا چاہےے :پروفیسر علی رفاد فتیحی — photo 2
1/2
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

مترجمین کو ترجمے کے دوران لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں سے مستعدرہنا چاہےے :پروفیسر علی رفاد فتیحی

Awaz E Bihar
•7 اکتوبر، 2026 کو 01:54 PM•5 ویوز•5 منٹ پڑھیں

اصل متن اور جس زبان میں ترجمہ کیا جائے ،دونوں میں مہارت لازم ہے: سید افروز اشرفی کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس کے شعبہ ¿ اردو میں منعقدہ ترجمہ ورک شاپ کے دوسرے دن ماہرین کا اظہار خیال

پٹنہ :مترجمین کو زبان کے ظاہری ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیب و ثقافت میں مطابقت بٹھانا چاہیے۔صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں اور حقیقی متن کے جو تہذیبی امور ہیں، ان سے بے اعتنائی برتتے ہوئے ترجمے کا جو ڈھانچا کھڑا ہوگا ،وہ نا کافی ہوگا۔اس لےے نئے مترجمین ترجمے کے ان پرانے اصولوں سے الگ درمیانی راہ کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترجمہ کرنے میں ایک اشتراک کی صورت نکالی جائے۔
قومی ترجمہ مشن، میسور اور شعبہ اردو ،کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ کے زیر اہتمام منعقد کےے گئے پانچ روزہ ترجمہ ورک شاپ کے دوسرے دن ریسرچ اسکالرس سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق صدر شعبہ لسانیات پروفیسر علی رفاد فتیحی نے مذکورہ باتیں کہیں۔وہ فنِ ترجمہ کے لسانیاتی اصولوں کے بارے میں ورک شاپ کے شرکاسے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے ترجمے کے مختلف ماہرین اور نظریہ سازوں کے حوالے سے آج سے پچاس برس پہلے کے مترجمین کے دور کو لفظ اساس قرار دیا اور بتایا کے پرانے مترجمین کی ساری توجہ زبان اور لفظ کے مسائل تک محدود رہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ لفظوں کے متبادل تک اپنی کوششیں جاری رکھتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ گذشتہ تین دہائیوں میں فن ترجمہ کے اصول و ضوابط میں ایک خاص تبدیلی آئی اور متبادلات تلاش کرنے میں Dynamic رویہ اپنایا جانے لگا۔ اصل متن کے الفاظ کے ساتھ لکھنے والے کے مقاصد اور بیان کے پس منظر پر بھی مترجمین کی توجہ مبذول ہوئی اور اب آج کے ترجمے ایک ساتھ لفظی اور تہذیبی دونوں ہنر سے لیس نظر آتے ہیں۔انہوں نے مثالوں کے ساتھ یہ بات بتائی کہ مترجمین کو بے معنی لفظوں سے بھی سروکار رہتا ہے اور وہ ان کے لےے بھی لفظ و بیان کے نئے بت تراش لےنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
آج صبح سب سے پہلے’ ادبی ترجمے کے مسائل ‘عنوان سے انگریزی کے استادپروفیسرسید افروز اشرفی نے اپنا خطاب شروع کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ ایک اچھے مترجم کو ان دونوں زبانوں میں مکمل مہارت ہونی چاہئے جن زبانوں کے مابین وہ ترجمے کے کام کو کر رہا ہو۔کسی ایک زبان میں وہ کمزور ہوا تو ترجمے کے دوران وہ لڑکھڑا جائے گا۔ انہوں نے نئے مترجمین کو اس میدان میں آنے سے پہلے اس بات کی صلاح دی کہ وہ ترجمے کے میدان میں آنے سے پہلے اس بات کی چانچ پرکھ کر لےں کہ ان کا ذہن اس کام سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔کیوں کہ انہیں یہ یاد رہنا چاہئے کہ وہ ایک نئی زبان میں نیا متن تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مترجمین کے سامنے بہت طرح کے عملی مسائل ہوتے ہیں جو سطح پر نظر نہیں آتے مگر کام کرنے کے دوران ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ اس لےے مترجم کو اپنے کام کے تئیںبے حد سنجیدہ ہونا چاہےے۔
پروفیسر افروز اشرفی نے کہا کہ ترجمے کے دوران اصل متن کے تئیں اول و آخر وفاداری ہونی چاہےے۔ اس لےے مترجم ترجمہ کرتے ہوئے نقاد نہیں ہوتا اور نہ ہی ترجمے سے تنقید کا براہِ راست کوئی رشتہ ہے۔ شعری ترجمے کے سلسلے سے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ مشکل کام ہے اور عام طور پر ناقابلِ عمل ہے۔ انہوں نے کئی متون کے حوالے دےے اور بتایا کہ کس طرح مترجمین کو ترجمے کے دوران تہذیبی اور ثقافتی امور اور عروض و بلاغت کے معاملات کی دشواریوں سے گزرنا پڑا جس سے وہ مترجم کے طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ انہوں نے مذہبی متون کے ترجمے میں مزید احتیاظ اور توجہ کی وکالت کی۔
کالج آف کامرس کے سینئر استاد پروفیسر صفدر امام قادری نے ترجمے کی ثقافت کو موضوع گفتگو بنایا اور اس کی روایات اور عالمی سطح پر امکانات کے حوالے سے آج کے آخری خطیب کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ترجمے سے ایک روادارانہ معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ ترجمے سے ہم اپنی زبان کے بند دریچوں کو کھولتے ہیں اور دوسری زبانوں سے ان چیزوں کو انگیز کرنے کی کوشش کرتے ہیںجو ہمارے یہاں اس طرح سے موجود نہیں۔ انہوں نے عالمی ادب کے اہم ستونوں کی مثالوں سے اپنی باتوں کو استحکام عطا کیا۔ انہوں نے کہا جس طرح یوروپ میں ہر طالب علم اور ریسرچ اسکالر انگریزی ،فرانسیسی، جرمن، اطالوی، ہسپانوی زبانوں کو بڑے چاو سے سیکھتا ہے، ابھی ہندستان میں اتنا خوشگوار ماحول پیدا نہیں ہوا ہے مگر انہوں نے یاد دلایا کہ یورپ سے بڑھ کر ہندوستان کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک ہے۔ یہاں ہر بیس کوس پر بولی بدل جاتی ہے۔یہاں بڑی زبانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کا عظیم ورثہ بھی ہماری توجہ چاہتا ہے۔ پروفیسر قادری نے تمام شرکا کو اس بات کی ترغیب دلائی کہ اس لسانی تکثیریت سے خود کو آراستہ کریں اور زندگی میں نئے نئے مواقع حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ انہوں نے طلبہ کو اردو کے ساتھ عربی اور فارسی زبانوں سے بھی قربت بڑھانے اور ان کے سہارے عالمی بازار میں اپنے لےے مواقع کی تلاش کرنے کی وکالت کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ترجمہ ورک شاپ مستقبل میں آپ کو زبانوں کی ایک حیرت انگیز دنیا میں اترنے کے لےے ماحول پیدا کر دے تو اس ورک شاپ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
اس ور ک شاپ میں مختلف یونی ورسٹیوں کے اردو ، ہندی اور انگریزی کے ریسرچ اسکالرس بڑی تعداد میں بلائے گئے ہیںاور ان کی ماہرین کے ہاتھوں تربیت ہورہی ہے۔ آخر میں قومی ترجمہ مشن کے کوآرڈینٹر ڈاکٹر محمد نوشاد عالم نے ماہرین اور ورک شاپ کے شرکاکا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ جمعرات کو ڈاکٹر کرشن اسمدھا، پروفیسر علی رفاد فتیحی،اور پروفیسر سید احمد بدر کے خطابات ہوں گے۔ میسور سے ڈاکٹر وشودیپ گگوئی آن لائن موڈ میں خطاب کریں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اپنے موضوع کی وجہ سے اس ورک شاپ کی افادیت بڑھ گئی ہے اور امید ہے کہ اس سے ہمارے شرکاکو پورے طور پر فائدہ ہوگا

شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

More from بہار

 کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے
بہار

کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے

7 اکتوبر، 2026
وزیر اعظم کی قیادت میں ملک وکست بھارت کی جانب گامزن: سمراٹ چودھری
بہار

وزیر اعظم کی قیادت میں ملک وکست بھارت کی جانب گامزن: سمراٹ چودھری

7 اکتوبر، 2026
لوک سبھا انتخابات سے پہلے اساتذہ کو ساتواں پے کمیشن دلانے کا دعویٰ، پرشانت کشور کا بڑا اعلان
بہار

لوک سبھا انتخابات سے پہلے اساتذہ کو ساتواں پے کمیشن دلانے کا دعویٰ، پرشانت کشور کا بڑا اعلان

6 اکتوبر، 2026
پی ایم رہائش منصوبہ کے تحت مکانوں کی تعمیر میں تیزی لانے کا ہدف
بہار

پی ایم رہائش منصوبہ کے تحت مکانوں کی تعمیر میں تیزی لانے کا ہدف

6 اکتوبر، 2026
اپیندر کشواہا کی پارٹی کا شیرازہ بکھرا، 4 اراکین اسمبلی میں سے 3 ہوئے باغی!
بہار

اپیندر کشواہا کی پارٹی کا شیرازہ بکھرا، 4 اراکین اسمبلی میں سے 3 ہوئے باغی!

6 اکتوبر، 2026
خصوصی اراضی سروے کی سست رفتاری پر حکومت سخت، 15 روزہ خصوصی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت
بہار

خصوصی اراضی سروے کی سست رفتاری پر حکومت سخت، 15 روزہ خصوصی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت

6 اکتوبر، 2026