میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا: کے ایل راہل
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ہندوستانی مڈل آرڈر کے بلے باز کے ایل راہل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں شکست اور سیریز میں کلین سویپ نہ کرپانے پر مایوسی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ جیو اسٹار کے 'ہائیئر کرکٹ لائیو‘ پر گفتگو کرتے ہوئے راہل نے اپنی اننگز اور اس بارے میں تفصیل سے بات کی کہ وہ میدان پر کچھ وقت کیوں گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا129 رن بناکر خوش ہوں، لیکن اس بات سے مایوس ہوں کہ ہم سیریز میں کلین سویپ نہیں کرپائے۔ اگر ایسا کرپاتے تو خوشی کی سطح بہت زیادہ ہوتی۔ پھر بھی، میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا۔ آخری بار جب مجھے ون ڈے کرکٹ میں مڈل آرڈر میں طویل وقت تک بلے بازی کا موقع ملا تھا، تو وہ اس سال جنوری کے شروع میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا اور اس کے بعد سے مجھے لمبی اننگز کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ اگلا سال بہت اہم ہے کیونکہ اکتوبر میں ورلڈ کپ شروع ہوگا، اس لیے میرے لیے بلے بازی میں قیمتی وقت گزارنا ضروری ہے۔ میدان سے باہر میں کچھ چیزیں آزما رہا ہوں اور انہیں کھیل میں آزمانا چاہتا ہوں، تب ہی معلوم ہوگا کہ پس پردہ کی جانے والی میری محنت کارآمد ثابت ہورہی ہے یا مجھے کچھ مختلف کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے میرے لیے کچھ وقت تک بلے بازی کرنا ضروری تھا اور میں اس سے خوش ہوں۔مڈل آرڈر میں بلے بازی کے چیلنج کے بارے میں راہل نے کہایہ بہت مختلف ہے، لیکن میں گزشتہ چھ سات برس سے یہ کردار ادا کررہا ہوں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں، جب سے گیند تبدیل کرنے کا ضابطہ آیا ہے، حالات بہت بدل گئے ہیں۔ آخری 10 اوورز میں 80-90 رن بنانا آسان نہیں رہا ہے۔ گیند ریورس سوئنگ ہورہی ہے اور اس میچ میں بھی جب گیند پرانی اور نرم ہوگئی اور ریورس سوئنگ ہونے لگی تو ایک بلے باز کے طور پر آپ کو لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ فیلڈر کے اوپر سے شاٹ کھیلنے کا اعتماد نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب اس جانب باؤنڈری بڑی ہو۔انہوں نے کہامیں نے ہمیشہ ٹاپ آرڈر میں بلے بازی کی ہے اور مجھے سخت گیند پسند ہے جو تیزی سے میرے پاس آئے تاکہ میں اس کی رفتار کا فائدہ اٹھاسکوں۔ اسی لیے میں نرم اور پرانی گیند کے ساتھ کھیلنے اور اس پر چھکے لگانے کی کوشش پر کام کررہا ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر میں نے محنت کی ہے۔ میں مسلسل اپنے کھیل کو بہتر بنانے، اپنے کردار کو سمجھنے اور یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ ٹیم کے لیے مستقل اچھی کارکردگی پیش کرنے کے لیے نمبر پانچ اور نمبر چھ کے بلے باز کو کیا کرنا ہوتا ہے۔ٹیم کی جانب سے 2027 کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری اور مختلف کھلاڑیوں کو آزمانے کے لیے دو طرفہ سیریز کے استعمال کے بارے میں راہل نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ہونے والی تمام سیریز میدان پر کھیلنے کا اچھا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اپنی حکمت عملی سے بہت دور نہیں جانا چاہتی، لیکن بلے بازی یونٹ کے طور پر کچھ تجربات بھی کرنا چاہتی ہے۔ راہل نے کہااب تک ہمارا ہدف پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 330-340 رن بنانا رہا ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ میں 340 اور 350 رن آسانی سے حاصل کیے جارہے ہیں۔ اس لیے جب بلے باز سیٹ ہوجائیں تو وہ کس طرح جارحانہ کھیل جاری رکھتے ہوئے 370-380 رن بناسکتے ہیں یا کسی دن 400 رن تک پہنچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ مڈل آرڈر کے بلے باز کے طور پر کریز پر آتے ہی ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہم سیٹ ہونے میں زیادہ وقت نہ لیں، اسٹرائیک روٹیٹ کرنا شروع کریں اور ہر چھ یا سات گیندوں پر باؤنڈری لگاتے رہیں۔انہوں نے مزید کہابمراہ اور اکشر جیسے اہم کھلاڑی ٹیم میں نہیں تھے، اس لیے ہمیں دوسرے کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع ملا۔ کوچ اور کپتان ان کھلاڑیوں کے بارے میں بہت واضح ہیں جنہیں وہ ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ ایسے کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا چاہتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔