مواد پر جائیں
Awaze Bihar
قومی

یوگ نے پوری دنیا کو صحت، توازن اور ہم آہنگی کا راستہ دکھایا: وزیر اعظم

3 منٹ کی پڑھائی

وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کے ساتھ جمعہ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کی روایتی طریقۂ علاج سے متعلق دوسری کی عالمی کانفرنس کا اختتام ہوا۔ دارالحکومت دہلی کے 'بھارت منڈپم' میں تین دن تک جاری رہنے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے روایتی طریقۂ علاج کے ماہرین، سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور طبی شعبے کے نمائندوں نے گہرے اور بامعنی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئس، مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور مرکزی وزیر آیوش پرتاپ راؤ جادھو بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ہندوستان روایتی طریقۂ علاج کے شعبے میں دنیا کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ بھروسہ پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے اس کامیاب انعقاد پر ڈبلیو ایچ او، وزارتِ آیوش اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ’روایتی طریقۂ علاج سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے عالمی مرکز کا قیام گجرات کے شہر جام نگر میں ہوا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ یوگ روایتی طریقۂ علاج کا ایک اہم حصہ ہے، جس نے دنیا کو توازن اور ہم آہنگی کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی کوششوں اور 175 سے زائد ممالک کے تعاون سے اقوامِ متحدہ نے 21 جون کویوگ کا عالمی دن قرار دیا اور آج یوگ دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے یوگ کی ترویج میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو 'وزیر اعظم ایوارڈز سے بھی نوازا۔
وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ آج دہلی میں ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی علاقائی دفتر کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی جانب سے دنیا کو دیا گیا ایک عاجزانہ تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفتر تحقیق، قواعد و ضوابط کی تشکیل اور استعداد کار بڑھانے کے عالمی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ آیوروید پر بات کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ یہ صحت کی کلید کے طور پر توازن رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’توازن کی بحالی‘ آج عالمی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طرز زندگی میں تبدیلی، جسمانی سرگرمی میں کمی اور جدید سہولتیں انسانی جسم کے لیے صحت کے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں، جو روایتی طریقۂ علاج کے کردار کو مزید اہم بنا رہی ہیں۔ روایتی طریقۂ علاج کی حفاظت اور صداقت پر بحث کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اشوگندھا کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جڑی بوٹی صدیوں سے ہندوستان کے روایتی طریقۂ علاج کا حصہ رہی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ کووڈ-19 کے دوران اس کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اب تحقیق اور ثبوت پر مبنی شواہد کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اشوگندھا کو فروغ دے رہا ہے۔ اس موقع پر اشوگندھا پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔ کانفرنس میں روایتی علم اور جدید سائنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اے آئی ٹولز اور بین الاقوامی تعاون کے باہمی تعلق پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دہلی اعلامیہ کو بھی کانفرنس کی ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا۔
مسٹر مودی نے کانفرنس کا اختتام اس پیغام کے ساتھ کیا کہ روایتی طریقۂ علاج مقامی سے عالمی سطح پر منتقل ہو رہا ہے اور ہندوستان اس عالمی کوشش میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

قومی کی مزید خبریں

سب دیکھیں