مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
عالمی خبریں

ایرانی ٹی وی کا ممکنہ ایٹمی حملے کی صورت میں شہریوں کے لیے انتباہی پیغام جاری

Awaz E Bihar3 منٹ کی پڑھائی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز وضاحت کی کہ قطر کے ساتھ دوحہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے یکم نومبر کو مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں۔

تہران : ایرانی قومی ٹیلی ویژن نے ممکنہ ایٹمی حملے سے نمٹنے کے لیے شہریوں کے لیے ایک ہنگامی انتباہی پیغام جاری کیا ہے، جس میں درج ذیل ہدایات دی گئی ہیں

شدید دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیز روشنی کی طرف ہرگز نہ دیکھیں، کسی آڑ کے پیچھے پناہ لیں، زمین پر سیدھے لیٹ جائیں اور اپنے سر اور چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔دوم: دھماکے کی ابتدائی لہر گزرنے کے بعد فوری طور پر قریب ترین عمارت کے اندر داخل ہو جائیں، نظارہ کرنے یا تصویر کشی کے لیے باہر نہ رکیں، گاڑی کے اندر پناہ نہ لیں، اور کھڑکیوں و بیرونی دیواروں سے دور رہیں۔

نیم گرم پانی اور صابن سے غسل کریں اور بغیر کنڈیشنر کا عام شیمپو استعمال کریں، اگر غسل ممکن نہ ہو تو اپنے چہرے، ہاتھوں اور کھلی جلد کو پانی یا گیلی ٹشوز سے صاف کریں۔

صرف بند بوتل کا پانی اور پیک شدہ خوراک استعمال کریں، اور کم از کم 24 گھنٹوں کے لیے پناہ گاہ کے اندر رہنے کی تیاری رکھیں، اگر عمارت میں آگ بھڑک اٹھے یا اس کے گرنے کا خدشہ ہو تو فوری طور پر کسی زیادہ محفوظ پناہ گاہ میں منتقل ہو جائیں۔

24 گھنٹے گزرنے کے بعد خود سے یہ فرض نہ کر لیں کہ ماحول محفوظ ہو چکا ہے، باہر نکلنے کے محفوظ راستے کی معلومات کے لیے سرکاری اعلانات اور ہنگامی حالات سے متعلق بیانات کی پیروی کریں۔یہ انتباہی ہدایات ایران پر ممکنہ امریکی ایٹمی حملے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے ہنگام میں جاری کی گئی ہیں۔

معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ترامب کی انتظامیہ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاھو کے دباؤ میں آ کر اگلے چند دنوں میں کسی ایرانی ایٹمی سائٹ پر حملہ کر سکتی ہے۔کارلسن نے پیر کے روز ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ "نتن یاھو کے دباؤ پر ٹرمپ انتظامیہ چند دنوں میں ایران پر ایٹمی حملہ کر سکتی ہے"۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس حملے کا ممکنہ ہدف "جبل الفأس" ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ تہران نے وہاں یورینیم کی افزودگی پروگرام دوبارہ شروع کر رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی رہنے والے اس امریکی صحافی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس سائٹ کے دفاعی حصار کو توڑنے کے لیے کوئی عام ہتھیار کافی نہیں ہے جس کی گہرائی تقریباً 100 میٹر تک پہنچتی ہے۔یہی چیز "ایٹمی حملے کو واحد اختیار" بناتی ہے۔

دوسری طرف بعض ماہرین نے اس طرح کے کسی بھی فیصلے کو "پاگل پن" قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اور ایرانی امور کے ماہر ولی نصر نے لکھا کہ "اگر یہ خبر سچی ہے تو یہ امریکی انتظامیہ کے لیے شدید مذمت کا مقام ہے۔ اس لیے نہیں کہ امریکہ اس طرح کی دیوانگی پر غور کر سکتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایسا کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں آ کر کرے گا"۔

قبل ازیں امریکی صدر نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ وہ ایران کی بعض سائٹس پر تیز رفتار حملوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی تھی کہ فی الوقت مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز وضاحت کی کہ قطر کے ساتھ دوحہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے یکم نومبر کو مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں۔

موضوعات

عالمی خبریں کی مزید خبریں

سب دیکھیں