پرگیان اوجھا نئے چیف سلیکٹر مقرر، رمیش پوار کی سلیکشن کمیٹی میں شمولیت


سمیع نے جون 2023 میں انگلینڈ کے دورے کے دوران اوول میں ہندوستان کے لیے اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ اس طرزِ کرکٹ میں ان کے نام 64 میچوں میں 229 وکٹ درج ہیں۔
ہندوستان کے تجربہ کار تیز گیند باز محمد سمیع نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا ہے۔سمیع نے دیر رات سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ سمیع نے کہا کہ ''ٹیسٹ کرکٹ ان کے لیے محض ایک طرزِ کرکٹ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کا ایک انتہائی خاص حصہ رہا ہے۔36 سالہ سمیع نے نومبر 2013 میں اپنے ٹیسٹ کریر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے وکٹوں کو نشانہ بنا کر گیند بازی کرنے اور اپنی شاندار سیم کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک میچ میں انہوں نے 118 رن دے کر 9 وکٹ حاصل کیے تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ ان کی بہترین کارکردگی بھی رہی۔
سمیع نے جون 2023 میں انگلینڈ کے دورے کے دوران اوول میں ہندوستان کے لیے اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ اس طرزِ کرکٹ میں ان کے نام 64 میچوں میں 229 وکٹ درج ہیں۔ وہ ہندوستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے 5 تیز گیند بازوں کی فہرست میں شامل ہونے کے کافی قریب رہے۔ تاہم، اس دوران وہ مسلسل بنگال کے لیے رنجی ٹرافی میں کھیلتے رہے۔ گزشتہ سیزن میں ہی انہوں نے 7 رنجی میچوں میں 37 وکٹ حاصل کیے تھے۔ وہ اس سیزن میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے تیز گیند بازوں میں دوسرے مقام پر رہے تھے۔

سمیع نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ اس 13 سالہ سفر میں اس کیپ اور اس گیند نے مجھے محمد سمیع بنایا ہے۔ اس دوران کئی اتار چڑھاؤ آئے، میں گرا بھی، مجھے چوٹیں بھی لگیں اور میں زخمی بھی ہوا۔ لیکن اس بیج کے لیے میں دوبارہ کھڑا ہوگیا۔ یہ 13 سالہ سفر بہت اچھا رہا ہے۔ میں اپنے کوچ، ٹرینر، فزیو، ایڈیٹنگ ٹیم اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے کسی نہ کسی طرح اپنا تعاون دیا۔ خاص طور پر شائقین کا۔ کرکٹ شائقین نے جو نام بنایا اور اس نام کو جو حوصلہ دیا، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ سبھی کا اور ان تمام شائقین کا بہت بہت شکریہ، جنہوں نے کرکٹ سے اتنی محبت کی اور اس نام کو یہاں تک پہنچایا۔ مجھے ٹیسٹ کیپ 6 نومبر کو ملی تھی اور آج بھی 6 نومبر ہے۔ تو آئیے، آج اس 13 سالہ سفر کو یہیں ختم کرتے ہیں۔ میں نے آج ہی اپنا ڈیبیو کیا تھا اور آج ہی ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں۔ میں اسے چھوڑ رہا ہوں، لیکن سفید گیند سے کھیلی جانے والی کرکٹ جاری رکھوں گا، چاہے وہ آئی پی ایل ہو یا گھریلو کرکٹ۔ اور اگر فٹنس کے لیے ضرورت پڑی تو طویل فارمیٹ کی کرکٹ بھی کھیلتا رہوں گا، لیکن بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہہ رہا ہوں۔ تو اب تک کا سفر یہی تھا۔ میں نے اس کا آغاز آج ہی کیا تھا اور آج ہی اسے ختم کر رہا ہوں۔ہندوستان کے لیے سمیع کا آخری ریڈ بال میچ 2023 میں پہلا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل تھا۔ ان کے کریر میں کئی یادگار لمحات رہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ سیم گیند باز ہونے کے باوجود ان میں سے زیادہ تر لمحات گھریلو میدانوں پر آئے، حالانکہ وہاں کی پچیں ان کے گیند بازی کے انداز کے لیے سازگار نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ وہ پہلی اننگز کے مقابلے میں دوسری اننگز میں کہیں زیادہ جارح نظر آتے تھے۔ ان دونوں باتوں کی وجہ ان کا گیند بازی کا انداز ہوسکتا ہے۔ وہ اسٹمپ کو نشانہ بنانے پر اتنا زور دیتے تھے کہ 2016 میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کی 4-0 سے ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے دوران انہوں نے الیسٹر کک کے اسٹمپ کو ہی دو ٹکڑوں میں توڑ دیا تھا۔ ان کی حاصل کردہ مجموعی وکٹوں میں سے تقریباً 45 فیصد وکٹ بولڈ یا ایل بی ڈبلیو کے ذریعے حاصل ہوئیں۔
سمیع کی گیند بازی کا اوسط 27.71 اور اسٹرائیک ریٹ 50.2 رہا۔ ہندوستان میں ان کا اوسط 22.1 تھا اور انہوں نے ہر 42.6 گیندوں پر ایک وکٹ حاصل کیا۔ مجموعی طور پر ہندوستان میں صرف 4 ایسے گیند باز ہیں جن کا اسٹرائیک ریٹ ان سے بہتر ہے۔ مارچ 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے سمیع ہندوستان کے لیے کسی بھی طرز کی کرکٹ نہیں کھیلے ہیں۔ تیز گیند بازوں کو اکثر جسمانی چوٹوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے ٹیم انتظامیہ نے ان کے علاوہ دوسرے متبادل کھلاڑیوں پر غور کرنا شروع کردیا تھا۔
سمیع نے اپنے پیغام کے آخر میں جذباتی انداز میں لکھا اگرچہ میدان پر میں اپنی آخری ٹیسٹ گیند پھینک چکا ہوں، لیکن ہندوستان کے لیے کھیلنے کا فخر ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ شکریہ، ٹیسٹ کرکٹ۔
admin