مواد پر جائیں
قومی

میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان حادثے میں 18 مزدور ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

Awaze Bihar2 منٹ پڑھیں

شیلانگ،۔ میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان کنی سے سال در سال حادثے ہوتے رہے ہیں۔ ایک بار پھر بڑا حادثہ جمعرات کو قبل دوپہر تقریباً 11 بجے ہوا۔ اس حادثے میں 18 مزدوروں کی جان چلی گئی۔ آٹھ مزدور شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اس کان میں مزدوروں نے ڈائنائیٹ دھماکہ کیا۔ اس سے کان میں موجود میتھین گیس کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کنواں نما تین کانوں سے آگ کے شعلے اٹھنے لگے۔ حادثے کے بعد کان کے باہر موجود دیگر مزدور بھاگ گئے۔ اطلاع پر پہنچی سیکورٹی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کوئلہ کان سے فی الحال کسی طرح کا دھواں باہر نہیں آ رہا ہے۔ پھر بھی پوری احتیاط برتی جا رہی ہے۔ پانچ فروری کو ایس ای ڈی سی کو جانکاری ملی تھی کہ ایسٹ جینتیا ہلس ضلع کے من سنگٹ-تھانگسکو علاقے میں کوئلہ کان میں صبح قریب 11 بجے ڈائنائیٹ دھماکہ ہوا۔ شام 6.30 بجے ابتدائی رپورٹ ملی کہ 18 مزدوروں کی موت ہو گئی ہے اور آٹھ زخمی حالت میں ملے۔ ان میں ایک شدید طور پر زخمی کو ایلونگ سول اسپتال میں شفٹ کیا گیا اور سات زخمیوں کو سول اسپتال کھلیہریات لے جایا گیا۔ وہاں سے اسے نیگریم شیلانگ ریفر کیا گیا۔
ضلع انتظامیہ نے اطلاع ملتے ہی ایس ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ اور این ڈی آر ایف کی بچاو ٹیموں کو موقع پر بھیجا۔ ایس ڈی ایم اے نے کمیونیکیشن کے لیے ایم پی آر او سے درخواست کی۔ ساتھ ہی فوج، فضائیہ کو اسٹینڈ بائی پر رہنے کی درخواست کی گئی۔
گوہاٹی واقع پہلی بٹالین این ڈی آر ایف کے کمانڈنٹ ایچ پی کنڈاری کی قیادت میں این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں راحت اور بچاو کام کے لیے جائے حادثہ کے لیے روانہ ہوئی ہیں۔ حالانکہ، جائے حادثہ بیحد دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں واقع ہے۔ اس وجہ سے سیکورٹی ایجنسیوں کو پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
جائے حادثہ پر موجود پہلی بٹالین این ڈی آر ایف کے انسپکٹر انوراگ کمار سنگھ نے آج بتایا کہ آٹھ رکنی ہماری ایک ٹیم گزشتہ دیر رات 11 بجے حادثے کے پاس پہنچی۔ راحت اور بچاو کام شروع کیا گیا ہے۔ این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں جن میں دو ٹیمیں گوہاٹی سے میگھالیہ پہنچی ہیں۔ آج دوپہر تک سبھی ٹیمیں موقع پر پہنچ جائیں گی۔ اس کے بعد راحت مہم میں تیزی آئے گی۔
این ڈی آر ایف کی ٹیمیں کیمیکل، بائیولوجیکل، ریڈیولاجیکل اور نیوکلیئر (سی بی آر این) آلات سے بھی لیس ہیں۔ جائے حادثہ ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے اور مشکل راستے کی وجہ سے ضلع ہیڈ کوارٹر سے وہاں پہنچنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔ وہاں صرف 4x4 گاڑیوں سے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں