مواد پر جائیں
سیاست

بلا انتخابی مقابلہ کے 68سیٹیں مہایوتی اتحاد کے قبضے میں

Awaze Bihar5 منٹ پڑھیں

ممبئی ، 3 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر ریاستی الیکشن کمیشن نے ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں بلا مقابلہ منتخب قرار دیے گئے 69 امیدواروں کے معاملے کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی 3 جنوری 2026 کو نامزدگیوں کی فارم واپسی کے بعد سامنے آنے والی وسیع پیمانے پر شکایات کے پیش نظر کی گئی ہے۔ کمیشن نے ایک غیر معمولی اقدام کے تحت یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک ان بلا مقابلہ امیدواروں کو باضابطہ طور پر کامیاب قرار نہ دیا جائے، جس کے نتیجے میں امیدوار منتخب تو سمجھے جا رہے ہیں لیکن ان کی کامیابی کی رسمی توثیق معطل رہے گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلا مقابلہ جیتی گئی 69 نشستوں میں سے 68 نشستیں برسراقتدار مہایوتی اتحاد کے حصے میں آئی ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 44، شیو سینا نے 22 اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ایک آزاد امیدوار بھی بلا مقابلہ منتخب ہوا ہے۔ریاستی الیکشن کمیشن کی مداخلت کانگریس، جنتا دل (ایس) اور عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عائد کردہ سنگین الزامات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکمران اتحاد کے امیدواروں نے منظم طریقے سے دباؤ، دھمکی اور مالی لالچ کے ذریعے مخالف امیدواروں کو 2 جنوری کی آخری تاریخ سے قبل اپنے نامزدگی فارم واپس لینے پر مجبور کیا۔مہاراشٹر میں 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات، جن میں بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن بھی شامل ہے، 15 جنوری 2026 کو ہونے والے ہیں جبکہ ووٹوں کی گنتی 16 جنوری 2026 کو ہوگی۔ بلا مقابلہ کامیابیاں چند مخصوص میونسپل کارپوریشنوں میں مرکوز نظر آتی ہیں، جن میں کلیان۔ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن سب سے نمایاں ہے جہاں 122 نشستوں میں سے 22 نشستیں بلا مقابلہ جیتی گئیں، جو کل نشستوں کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہیں۔ اس کے بعد جلگاؤں میں 12، تھانے میں 7 جبکہ پنویل، بھیونڈی، دھولیہ، پونے، پمپری۔چنچواڑ اور احمدنگر میں 2 سے 6 کے درمیان نشستیں بلا مقابلہ رہیں۔
کمیشن ذرائع کے مطابق موجودہ انتخابی ضابطوں کے تحت یہ جانچ لازمی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ نامزدگیاں کسی دباؤ، مالی لالچ یا کسی اور جبر کے تحت واپس نہیں لی گئیں۔ اسی سلسلے میں ریٹرننگ افسران، میونسپل کمشنروں، پولیس کمشنروں اور ضلع کلکٹروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ تاہم موجودہ انتخابی قوانین کے باعث ایک بڑی عملی رکاوٹ بھی سامنے آئی ہے کیونکہ 2 جنوری کی آخری تاریخ کے بعد نہ تو نئی نامزدگیاں داخل کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی بلا مقابلہ منتخب امیدواروں کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کمیشن صرف ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ممبئی کے قولابہ حلقے سے متعلق الزامات کو سب سے زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اسمبلی اسپیکر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی راہل نارویکر پر متعدد انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی امیدوار مارگریٹ ڈی کوسٹا نے الزام لگایا کہ 30 دسمبر کو وہ شام 5 بجے کی مقررہ مدت سے پہلے ریٹرننگ افسر کے دفتر میں موجود تھیں اور تمام کارروائی مکمل کر چکی تھیں، لیکن اس کے باوجود انہیں حتمی طور پر نامزدگی داخل کرنے سے روک دیا گیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ دفتر کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔
سابق رکن پارلیمان اور سابق رکن اسمبلی ہری بھاؤ راٹھوڑ نے بھی ایک تحریری شکایت درج کرائی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ راہل نارویکر نے انہیں دھمکایا اور ان کی سیکورٹی واپس لینے کیلئے پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا، حالانکہ انہیں ایسا کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اسی روز نارویکر کے خاندان کے تین افراد نے مختلف وارڈز سے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے ممبئی میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ریٹرننگ افسر کے دفتر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیں اور مداخلت سے متعلق الزامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے کہا کہ کسی اسمبلی اسپیکر کا خود اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ نامزدگی داخل کرنے جانا بے مثال واقعہ ہے، جو انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ سماجی کارکن انجلی دمانیا نے راہل نارویکر سے آئینی عہدے کے غلط استعمال پر معافی کا مطالبہ کیا۔راہل نارویکر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت سے پہلے دفتر میں موجود ہر امیدوار کو نامزدگی داخل کرنے کا موقع دیا گیا تھا اور الزامات لگانے والے امیدوار مقررہ وقت کے بعد پہنچے تھے۔ریاست کے دیگر حصوں میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے نامزدگی داخل کرنے میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمان پریانکا چترویدی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن امیدواروں کو ای ڈی اور سی بی آئی کی کارروائیوں کی دھمکی دے کر یا رشوت دے کر دستبردار کرایا گیا۔ ناگپور میں ایک واقعے میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے اپنے ہی امیدوار کو زبردستی گھر میں بند کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جسے بعد میں پارٹی قیادت کی مداخلت سے حل کیا گیا۔ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور جانچ کا مقصد انتخابی عمل کی ساکھ کو محفوظ رکھنا اور مستقبل میں اصلاحات کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے، اگرچہ موجودہ قانونی ڈھانچے میں کمیشن کے اختیارات محدود ہیں۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں