مواد پر جائیں
قومی

انکیتا بھنڈاری معاملہ: سی بی آئی جانچ چھ ماہ میں مکمل ہو، ثبوت مٹانے والوں پر بھی ہو کارروائی: کانگریس

Awaze Bihar4 منٹ پڑھیں

کانگریس نے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ چھ ماہ کے اندر مکمل کرانے اور مجرموں کو انصاف کے عمل سے دور رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے ریزورٹ پر بلڈوزر چلا کر شواہد کو تباہ کیا، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا اور پارٹی کے مواصلات محکمہ کے سکریٹری ویبھو والیا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ابتدا ہی سے اس معاملے میں پردہ پوشی کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی دباؤ کے تحت اگرچہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی، لیکن جانچ کے دوران جن وی آئی پیز کے نام سامنے آئے، ان سے پوچھ گچھ تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس ریزورٹ میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، وہ بی جے پی کے ایک وزیر کا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، جبکہ انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے تھی۔
قتل کے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کی بیٹی انکیتا بھنڈاری بی جے پی لیڈر ونود آریہ کے ریزورٹ میں ملازمت کرتی تھی۔ ملازمت کو ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ گزشتہ برس 18 ستمبر کو اس پر وی آئی پی مہمانوں کو غیر اخلاقی خدمات فراہم کرنے کا دباؤ ڈالا گیا، لیکن انکیتا نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انکیتا کو قتل کر کے اس کی لاش نہر میں پھینک دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 19 سے 22 ستمبر تک صرف گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی اور 23 ستمبر کو مقامی بی جے پی ایم ایل اے رینو بِشٹ نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر ریزورٹ پر بلڈوزر چلا دیا۔ اس کارروائی کا واضح مقصد ریزورٹ سے تمام شواہد مٹانا تھا، کیونکہ انکیتا وہیں رہتی تھی۔ پھر 24 ستمبر کو انکیتا کی لاش نہر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد اس کے والدین نے آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ معاملہ بڑھنے پر بی جے پی لیڈر ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے تو وزیر اعلیٰ نے دباؤ میں آ کر اکتوبر 2022 میں ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ اس کیس میں تین ملزمان کو عمر قید کی سزا ہوئی، لیکن انکیتا پر دباؤ ڈالنے والا وی آئی پی کون تھا، اس کا اب تک انکشاف نہیں ہو سکا۔
محترمہ لامبا نے وزیر اعظم مودی سے سوال کیا کہ اگر وہ ایک ہی دن میں نوٹ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں تو تین برس سے انکیتا کو انصاف دلانے میں دقت کیوں آرہی ہے، جبکہ انکیتا کے والد بی جے پی لیڈران اجے کمار اور دُشینت کمار کے نام مسلسل لے رہے ہیں، لیکن ایس آئی ٹی نے ان سے پوچھ گچھ تک نہیں کی۔ انہوں نے ریزورٹ پر بلڈوزر چلانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بغیر مقامی بی جے پی ایم ایل اے نے ریزورٹ پر بلڈوزر کیوں چلایا۔ ایس آئی ٹی کی جانچ میں وی آئی پی کا نام کیوں سامنے نہیں آیا اور اگر الزامات غلط تھے تو ان کی تردید کیوں نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی لیڈروں کے نام آنے پر محض پارٹی سے اخراج کافی نہیں تھا اور اگر وزیر کے بیٹے کا نام آیا تھا تو وزیر اعظم کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔
انہوں نے وی آئی پی اینگل کی آزاد اور غیر جانبدار جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شواہد مٹانے اور بلڈوزر چلانے کا حکم دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے کام کی جگہوں پر تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد، سیاسی سرپرستی فراہم کرنے والوں کی جوابدہی طے کرنے اور مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے ایک آزاد تحقیقی نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سی بی آئی بغیر کسی دباؤ کے غیر جانبداری کے ساتھ چھ ماہ میں کیس کو انجام تک پہنچائے، اور بی جے پی کے لوگ اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کیس سے جڑے مجرموں کو انصاف کے عمل سے دور رکھیں، تاکہ منصفانہ کارروائی ہو سکے اور انکیتا بھنڈاری کو انصاف مل سکے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں