مواد پر جائیں
قومی

معذوری ہمت نہ ہراسکی: معظم ناخوا کی بیٹی عربیہ نے کارڈیولوجسٹ ٹیکنیشن کورس میں شاندار کامیابی حاصل کرلی

Awaze Bihar4 منٹ پڑھیں

ممبئی :یہ کہانی حوصلہ اور عزم کی ایک ایسی مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ جسمانی معذوری کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی جب دل میں خواب اور محنت کا جذبہ موجود ہو۔ ممبئی کے انٹاپ ہل علاقے، یورپین کمپاؤنڈ سے تعلق رکھنے والے معظم ناخوا نے 55 فیصد معذوری کے باوجود نہ صرف اپنی زندگی کو سنوارا بلکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور کامیابی کی طرف رہنمائی کر کے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ ان کی بیٹی عربیہ معظم ناخوا نے حال ہی میں کارڈیولوجسٹ ٹیکنیشن کے کورس میں فرسٹ کلاس سے شاندار کامیابی حاصل کر کے پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
معظم ناخوا کی زندگی کا سفر مشکلات سے بھرا رہا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم حاجی اسماعیل حاجی الانا میونسپل اسکول سے ہوئی، جہاں انہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے 1988 میں باندرہ اردو ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ 1994 میں انہوں نے گریجویشن کیا۔ طالب علمی کے دنوں میں وہ روزانہ لوکل ٹرینوں سے سفر کر کے کالج جاتے تھے۔ ان کا بچپن کا خواب ڈاکٹر بننے کا تھا، مگر متوسط طبقے سے تعلق اور پیدائشی جسمانی معذوری نے اس خواب کو پورا ہونے نہ دیا۔ تاہم معظم صاحب نے مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر خود یہ خواب پورا نہ کر سکے تو اپنے بچوں کو وہ مواقع ضرور فراہم کریں گے جو انہیں نصیب نہ ہو سکے۔
گریجویشن کے بعد انہوں نے جی ٹکٹنگ اور ڈیٹا انٹری کا کورس مکمل کیا۔ 1997 میں انہوں نے ایس ٹی ڈی بوتھ اور سائبر کیفے کا کاروبار شروع کیا، جو کئی سالوں تک چلتا رہا۔ یہ کاروبار ان کی محنت اور لگن کا ثمر تھا۔ مگر 2012-13 میں ممبئی میں مونوریل منصوبے کی وجہ سے ان کی دکان متاثر ہوئی اور کاروبار بند کرنا پڑا۔ ایک سال تک شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد 2014 میں انہوں نے ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ آج بھی وہ اسی کمپنی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔
1997 میں معظم ناخوا کی شادی تنویر سے ہوئی۔ تنویر صاحبہ آرٹس میں گریجویٹ ہیں اور فی الحال وامن راو مہاڈک بال واڑہ میں معلمہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ دونوں میاں بیوی نے مل کر اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے بچوں کو ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ محنت اور ایمانداری سے کوئی بھی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔
ان کے بڑے بیٹے تبریز نے سینٹ مائیکل اسکول سے ایس ایس سی مکمل کیا۔ اس کے بعد صابو صدیق کالج سے سائنس میں بارہویں کیا۔ بعد ازاں ٹی ایس رحمن انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ سے متعلقہ کورس مکمل کر کے آج کل دبئی میں ایک اچھی ملازمت کر رہے ہیں۔ بیٹی عربیہ نے کانوینٹ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ خالصہ کالج سے سائنس میں بارہویں مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پیرا میڈیکل فیلڈ میں قدم رکھا۔ کارڈیولوجسٹ ٹیکنیشن کا کورس کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف امتحانات میں نمایاں نمبر حاصل کیے بلکہ فرسٹ کلاس میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا خواب پورا کیا۔ یہ کامیابی محض ایک ڈگری نہیں بلکہ برسوں کی محنت، قربانی اور مثبت سوچ کا نتیجہ ہے۔
معظم ناخوا کی شخصیت صرف خاندانی ذمہ داریوں تک محدود نہیں۔ وہ سماجی خدمات میں بھی بہت فعال ہیں۔ وہ شفاء چیئرٹیبل ٹرسٹ کے صدر ہیں، کوکنی کمیونٹی فورم کے جنرل سیکریٹری، ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیئرمین، انجمن اتحاد سوسائٹی کے جوائنٹ سیکریٹری اور دابھول ایجوکیشن سوسائٹی میں بھی جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مختلف تنظیموں میں ایگزیکٹو ممبر اور مشیر کی حیثیت سے ان کی مصروفیات جاری رہتی ہیں۔ 55 فیصد معذوری کے باوجود وہ گھر بیٹھنے کے بجائے سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
عربیہ کی یہ کامیابی ان کے لیے ایک سنہرا لمحہ ہے۔ معظم ناخوا کہتے ہیں کہ "میں خود ڈاکٹر نہ بن سکا، مگر آج میری بیٹی میڈیکل فیلڈ میں قدم رکھ کر دل کی بیماریوں کے مریضوں کی مدد کرے گی۔ یہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔" یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے جو مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ عزم، محنت اور خاندانی حمایت سے کوئی بھی خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔
معظم ناخوا کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ معذوری جسم کی ہو سکتی ہے، مگر ہمت اور سوچ اگر مضبوط ہو تو کوئی بھی منزل دور نہیں رہتی۔ ان کی بیٹی عربیہ کی کامیابی نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے اور کمیونٹی کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ داستان ان تمام والدین کے لیے ایک پیغام ہے جو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں