
یورپ، امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی معاہدے سے دنیا میں استحکام آیا: مودی
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی معاہدوں سے دنیا میں استحکام پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور کم افراطِ زر کے ساتھ تیز اقتصادی ترقی کی وجہ سے دنیا میں امید کی ایک کرن بن گیا ہے۔ مودی بجٹ اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دے رہے تھے۔ بحث کے آغاز میں کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے نعرے بازی اور ہنگامہ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
اپنی حکومت کے دوران مختلف ممالک اور منڈیوں کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ "ہندوستان نے نو بڑے ممالک اور یورپی یونین کے 27 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ دنیا کے ممالک ہندوستان سے ایسے ہی ڈیل نہیں کرتے، اگر کوئی ترقی یافتہ ملک کسی ترقی پذیر ملک کے ساتھ ڈیل کرتا ہے تو یہ بڑی بات ہے۔" انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے ملک کو کس حال میں چھوڑا تھا۔
وزیراعظم نے کہاکہ "پورا عالم کھل کر اس تجارتی معاہدے کی تعریف کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ڈیلز کے بعد اب عالمی سطح پر استحکام آیا ہے۔ ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دنیا مساوات کے ساتھ ہندوستان کو دیکھتی ہے۔ ہمارے ایم ایس ایم ای یونٹس پر دنیا کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ بڑے بڑے ممالک ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بنانے کے لیے بے تاب ہیں۔"
مودی نے کہا کہ اقتصادی طاقت ہو، عوام میں جذبہ ہو، ہندوستان مینوفیکچرنگ کا مرکز بنے، یہ ووٹ بینک کی سیاست میں ڈوبے لوگوں کی ترجیح نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے وزرائے اعظم کے لال قلعہ سے خطابات میں نہ سوچ تھی، نہ وژن تھا اور نہ ہی عزم، جس کا خمیازہ ملک کو طویل عرصے تک بھگتنا پڑا۔ اس سے بنی ملک کی شبیہ کو صاف کرنے میں اس حکومت کو بڑی توانائی لگانی پڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ "ملک پالیسیوں کی بنیاد پر چل رہا ہے جس سے دنیا کا ہندوستان پر اعتماد بڑھا ہے۔ حکومت اصلاحات کر رہی ہے، تیز رفتاری سے اصلاحات ہو رہی ہیں۔ ملک ریفارم ایکسپریس پر سوار ہے۔"
وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خطاب میں ملک کی ترقی کا نقشہ بہتر انداز اور حساسیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ہنگامے کے دوران مودی نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ "میری دعا ہے کہ محترم کھڑگے جی کی عمر دیکھتے ہوئے بیٹھ کر بھی نعرے لگا سکتے ہیں، انہیں تکلیف نہیں ہوگی۔ انہیں بیٹھ کر نعرے لگانے کی اجازت دے دیجیے۔"
انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب میں ترقی کی گونج ہے۔ صدر نے نوجوان ہندوستان کی طاقت کو، ہر طبقے کی صلاحیت کو ایوان میں رکھا ہے، ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں اعتماد ظاہر کیا ہے۔ 21ویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ ختم ہو کر دوسرا چوتھائی شروع ہونے والا ہے، ملک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کے ساتھ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے والا ہے۔
مودی نے کہاکہ "ہر شخص محسوس کر رہا ہے کہ ہم ایک اہم پڑاؤ پر پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں نہ رکنا ہے نہ پیچھے مڑ کر دیکھنا ہے اور ہدف حاصل کرنے کے بعد ہی سانس لینا ہے۔" انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی ایک بہترین موقع ہے کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہندوستان کے تئیں کشش بڑھا ہے۔ نوجوان اہم صلاحیت ہیں، خواب بھی ہیں اور طاقت بھی۔ مودی نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت میں ہندوستان کی معیشت چھٹے نمبر سے پھسل کر گیارہویں پر پہنچ گئی تھی، دوبارہ اب ہم تیسرے نمبر پر جانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بعد دنیا میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں دنیا سنبھل نہیں پا رہی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ دنیا ایک نئی عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ غیر جانبدار تجزیے میں جھکاؤ ہندوستان کی طرف ہے، ہندوستان دنیا کا دوست، دنیا کا بھائی اور قابلِ اعتماد شراکت دار بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فلاح میں مناسب کردار ادا کر رہے ہیں، گلوبل ساؤتھ کی بات ہو رہی ہے۔ ہندوستان اس کی بلند آواز بن گیا ہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

