
جے پی ایس سی امیدواروں کے لیے کٹ آف تاریخ اب یکم اگست 2022 مقرر، وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں اعلان کیا
جھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے چوتھے دن سنیچر کو وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ایوان میں جے پی ایس سی امیدواروں کو بڑی راحت دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہاتھیوں کے حملوں سے ہونے والی اموات پر معاوضے کی رقم میں اضافہ اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد پہنچانے کے لیے ایس او پی تیار کرنے کے اشارے بھی دیے۔
وزیر اعلیٰ مسٹر سورین نے ایوان میں اعلان کیا کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے امیدواروں کے لیے کٹ آف تاریخ اب یکم اگست 2022 مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل کٹ آف تاریخ 2026 طے کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد ہزاروں ایسے امیدواروں کو امتحان میں شامل ہونے کا موقع ملے گا جو پہلے مقررہ تاریخ کی وجہ سے اہلیت سے محروم ہو رہے تھے۔ تاہم طلبہ تنظیمیں اگست 2018 کو کٹ آف تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
ادھر جھارکھنڈ میں ہاتھیوں کے حملوں سے ہونے والی اموات اور نقصانات کے معاملے میں ریاستی حکومت نے بڑا فیصلہ لینے کے اشارے دیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کانگریس کے رکن اسمبلی رامیشور اراو¿ں کے توجہ دلاو¿ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ایک جامع ایس او پی تیار کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ فی الحال جھارکھنڈ میں ہاتھی کے حملے میں موت ہونے پر 4 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا انتظام ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں یہ رقم 4 لاکھ سے لے کر 50 لاکھ روپے تک ہے۔ حکومت آسام، اوڈیشہ اور دیگر ریاستوں کے نظام کا مطالعہ کر رہی ہے اور جلد ہی معاوضے کی رقم میں اضافے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
مسٹر سورین نے کہا کہ نئی ایس او پی میں یہ انتظام کیا جائے گا کہ واقعے کے 10 دن کے اندر متاثرہ خاندان کو معاوضے کی رقم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی لکڑبگھا، تیندوا اور سانپ جیسے دیگر جنگلی جانوروں کے حملوں سے ہونے والی اموات کو بھی ایس او پی میں شامل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر کانکنی کے علاقوں میں غیر قانونی کانکنی کی وجہ سے ہاتھیوں کا دہشت بڑھ رہا ہے تو حکومت اس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور غیر قانونی کانکنی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل رکن اسمبلی تیواری مہتو نے مانڈو علاقے میں بھاری مشینوں کے ذریعے غیر قانونی کانکنی کا الزام لگایا تھا۔ اس پر انچارج وزیرسدیویہ سونو نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم شکایت موصول ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
اسمبلی میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور ریاست میں بڑے پیمانے پر بیک لاگ تقرریوں کے مسائل نمایاں طور پر زیر بحث آئے۔ حکومت نے دونوں موضوعات پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، جبکہ بیک لاگ آسامیوں کو ترجیحی بنیاد پر پر کرنے کا عمل جاری ہے۔
چترا سے لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے رکن اسمبلی جناردن پاسوان نے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا مطالبہ اٹھایا۔ ایل جے پی (رام ولاس) کے رکن اسمبلی جناردن پاسوان نے کہا کہ ریاست میں اس وقت سرکاری ملازمین اور افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہے، جبکہ مرکزی خدمات میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جھارکھنڈ میں ڈاکٹروں اور یونیورسٹی اساتذہ کو بھی 65 سال کی عمر میں ریٹائر کیا جاتا ہے۔ پاسوان نے پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے ریاست میں افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے عمر کی حد بڑھانے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس پر وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے واضح کیا کہ ہر ریاست اپنی جغرافیائی صورتحال، مالی وسائل اور انتظامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ نے اپنے مخصوص حالات کے مطابق فیصلہ لیا ہوگا، لیکن جھارکھنڈ میں فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ وزیر نے کہا کہ ریاست میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ہیمنت سورین کی قیادت میں حکومت منظم انداز میں تقرریاں کر رہی ہے۔ اگر ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھائی جاتی ہے تو نئی بھرتیوں کے مواقع محدود ہو جائیں گے، اس لیے خالی آسامیوں پر نوجوانوں کی تقرری حکومت کی ترجیح ہے۔
کھجری سے کانگریس کے رکن اسمبلی راجیش کَچھپ نے درج فہرست قبائل، درج فہرست ذات اور دیگر پسماندہ طبقات کے بیک لاگ آسامیوں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ طبقات کی ہزاروں آسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں اور انہیں آئندہ بھرتی کے عمل میں مناسب طور پر شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بروقت اور واضح پالیسی کے تحت بیک لاگ تقرریوں کا مطالبہ کیا۔
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ مختلف محکموں میں 50 ہزار سے زائد بیک لاگ خالی آسامیوں کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت محکمہ وار الگ الگ بھرتی کے عمل چلا رہی ہے اور ریزرویشن کے قواعد کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے بیک لاگ آسامیوں کو ترجیحی بنیاد پر پ±ر کیا جائے گا۔ بھرتی کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق سروس شعبے میں توسیع کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سروس شعبہ 2025-26 میں جی ایس وی اے کے تحت 1,37,730 کروڑ روپے اور 2026-27 میں 1,48,479 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا، جو بالترتیب 8.84 فیصد اور 7.81 فیصد شرح نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
ریاست کی تشکیل کے بعد سے جھارکھنڈ کا بجٹ بیس گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ 2001-02 میں جہاں بجٹ 6,067 کروڑ روپے تھا، وہیں 2024-25 (حقیقی) میں بڑھ کر 1,16,892 کروڑ روپے ہو گیا ہے، جبکہ 2025-26 کے لیے 1,45,400 کروڑ روپے کا بجٹ ہے۔ کل اخراجات نے پہلی بار 2023-24 میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی حد کو عبور کیا۔ جھارکھنڈ میں مالی نظم و ضبط برقرار رکھا گیا ہے۔ 2020-21 کے علاوہ ہر سال مالی خسارہ جی ایس ڈی پی کے 3 فیصد ایف آر بی ایم حد کے اندر رہا، تاہم عالمی وبا کے دوران یہ 5.0 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
جھارکھنڈ میں بینکنگ انفراسٹرکچر ستمبر 2025 تک بڑھ کر 3,449 شاخوں اور 3,338 اے ٹی ایم تک پہنچ گیا ہے۔ دسمبر 2020 سے اب تک 198 نئی بینک شاخیں قائم کی گئیں۔ مارچ 2014 سے ستمبر 2025 کے درمیان جمع شدہ رقوم میں 220 فیصد اضافہ ہو کر یہ 3,79,735 کروڑ روپے ہو گئیں، جبکہ قرضوں میں 124 فیصد اضافہ ہو کر 1,58,714 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔
زرعی اور اس سے متعلق سرگرمیوں کا 2025-26 میں ریاست کی جی ایس وی اے میں اندازاً 12.3 فیصد حصہ رہا۔ اس دوران مکمل زرعی جی ایس وی اے میں 34 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر تقریباً 28,470 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
وقفہ طعام کے بعد اسمبلی میں سال 2025-26 کے لیے پیش کیے گئے تیسرے ضمنی بجٹ کو ایوان نے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ متعلقہ تصرف بل کو بھی منظوری دے دی گئی۔ بعد ازاں اسمبلی اسپیکر رویندر ناتھ مہتو نے ایوان کی کارروائی 24 فروری کو صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ 24 فروری کو جھارکھنڈ حکومت مالی سال 2026-27 کے لیے اپنا بجٹ پیش کرے گی۔
آج اسمبلی میں اقتصادی سروے رپورٹ 2025-26 پیش کی گئی۔ وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جھارکھنڈ کی حقیقی جی ایس ڈی پی 2011-12 سے 2024-25 کے درمیان دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق، مستقل قیمتوں (2011-12) پر ریاست کی جی ایس ڈی پی 1,50,918 کروڑ روپے سے بڑھ کر 3,03,178 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ جھارکھنڈ نے 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان سات برسوں میں سے چار برس قومی ترقی کی شرح سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ وبا کے سال میں 5.30 فیصد کی سکڑاو¿ قومی سطح پر 5.8 فیصد کی کمی کے مقابلے میں کم رہا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حقیقی جی ایس ڈی پی 2025-26 میں 3,21,892 کروڑ روپے اور 2026-27 میں 3,41,064 کروڑ روپے تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس طرح 2025-26 میں 6.17 فیصد اور 2026-27 میں 5.96 فیصد شرح نمو کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ موجودہ قیمتوں پر جی ایس ڈی پی کے 2025-26 میں 5.6 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرنے اور 2026-27 میں تقریباً 6.1 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے بتایا کہ موجودہ قیمتوں پر فی کس آمدنی پہلی بار ایک لاکھ روپے کے ہندسے کو پار کر گئی ہے، جو 2024-25 میں 1,16,663 روپے تک پہنچ گئی۔ جبکہ حقیقی فی کس آمدنی بڑھ کر 68,357 روپے ہو گئی ہے، جو 2011-12 کے مقابلے میں 65.7 فیصد اضافہ ہے اور تقریباً 4.0 فیصد سی اے جی آر کے برابر ہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



