
کشمیر:زہن پورہ کے خاموش ٹیلوں سے گونجتی بدھ مت کی تاریخ
قدیم اور تاریخی اہمیت کے حامل سری نگر - جہلم ویلی روڈ کے کنارے پر واقع زہن پورہ کے خاموش ٹیلے گرچہ سردیوں کے باعث وقتی طور پر ساکت نظر آ رہے ہیں لیکن ان کے نیچے دفن کہانی کی بازگشت پہلے سے زیادہ بلند ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں ہونے والی کھدائی نے بدھ مت کے ایک ایسے مرکز کو سامنے لایا ہے جو تقریباً دو ہزار برس پرانا اور عہد کوشان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی وہ دریافت ہے جس کا ذکر وزیر اعظم نریندر مودی نے دسمبر میں اپنے ریڈیو پروگرام 'من کی بات' میں کیا تھا۔ اس دریافت کا پہلا اشارہ ایک نایاب فرانسیسی آرکائیو تصویر سے ملا تھا جس میں تین اسٹوپز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، یہ کھدائی اب ماہ اپریل میں دوبارہ شروع کی جائے گی جس سے وادی میں بدھ مت کے ماضی کے مزید راز سامنے آنے کی امید ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع گائوں زہن پورہ میں گذشتہ برس دریافت ہونے والا بدھ مت سے متعلق مقام سردیوں کے باعث کھدائی کے لئے بند کر دیا گیا ہے تاہم ماہ اپریل میں اس کی تین ماہ کے لئے دوبارہ کھدائی شروع کی جائے گی۔ حکام نے اس مقام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے خار دار تاریں لگائی ہیں اور پولیس کو بھی تعینات کیا گیا ہے کیونکہ قبل ازیں مقامی لوگ اس علاقے میں تفریح کے لئے آتے تھے۔ کھدائی کے دوران عہد کوشان سے تعلق رکھنے والے آثار بر آمد ہوئے ہیں جو کشمیر کے قدیم بدھ متی ماضی کی واضح گواہی دیتے ہیں۔ یہ مقام سری نگر - جہلم ویلی روڈ کے قریب واقع ہے جو سال 1950 تک، سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر جواہر ٹنل کی تعمیر سے قبل، کشمیر کا بیرونی دنیا کے ساتھ واحد قابل اعتماد رابطہ رہا ہے۔ اس کھدائی کی ٹیم کی قیادت کرنے والے پروفیسر محمد اجمل شاہ نے بتایا کہ یہ کھدائی کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ وسطی ایشیائی مطالعات اور محکمہ آرکائیوز، آثار قدیمہ و میوزیم کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس دریافت کو حالیہ برسوں میں کشمیر کی سب سے اہم آثار قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق ان کی ٹیم نے کئی برسوں تک اس علاقے کا سروے کیا اور وہاں موجود تین بڑے ٹیلوں کی بنیاد پر انہیں یقین تھا کہ یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ پروفیسر شاہ نے بتایا: 'سال 2023 میں پیرس میں ایک تحقیقی فیلو شپ کے دوران مجھے ایک فرانسیسی میوزیم میں کشمیر سے متعلق پرانی تصاویر دیکھنے کا موقع ملا جو برطانوی سیاحوں نے کھینچی تھیں۔
انہوں نے کہا: 'فرانسیسی میوزیم کے آرکائیوی فوٹو گرافی سیکشن میں مجھے کشمیر کی کئی قدیم تصاویر ملیں، ان میں سے ایک تصویر میں بدھ متی اسٹوپوں کے گنبد دکھائی دیتے تھے، جنہیں میں نے فوراً زہن پورہ کے مقام کے طور پر پہچان لیا جہاں میں برسوں سے جاتا رہتا تھا، کشمیر واپسی پر ہم نے مزید سروے کئے اور پھر حکومت سے باضابطہ کھدائی کی اجازت طلب کی۔ ان کا کہنا ہے: 'گذشتہ سو برسوں میں علاقے کی جغرافیائی ساخت میں بڑی تبدلیاں واقع ہوئی ہیں، جس سے مقام کے حجم پر بھی اثر پڑا ہے۔ موصوف پروفیسر کے مطابق سال 1970 کی دہائی میں لوئر جہلم ہائیڈرو پاور پرجیکٹ کی نہر کی تعمیر کے دوران اس مقام کو نقصان پہنچا اور یہ کئی حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ نہر کی تعمیر کے دوران پتھریلی دیواریں بھی دریافت ہوئی تھیں۔ اس مقام کی باضابطہ کھدائی کا کام گذشتہ برس ماہ اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب کشمیر یونیورسٹی اور محکمہ آرکائیوز کے درمیان مفاہمتی یاداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔ کھدائی کے دوران ایک دیوار اور ایک وسیع ہال دریافت ہوا ہے جو کوشان دور کے ایک بڑے بدھ متی آباد کاری مرکز کی نشاندہی کرتا ہے۔ پروفیسر کے مطابق یہ دریافت قدیم کشمیر کے اس دور پر روشنی ڈالتی ہے جس پر اب تک بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث یہ مقام ماضی میں ایک اہم روحانی اور ثقافتی مرکز رہا ہوگا۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



