
لوک سبھا میں تعطل تیسرے دن بھی برقرار
لوک سبھا میں اپوزیشن کے زبردست ہنگامے کی وجہ سے آج مسلسل تیسرے دن بھی کارروائی نہیں چل سکی اور ایوان کی کارروائی شام 5 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی دوپہر دو بجے کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ پریزئیڈنگ افسر کرشن پرساد تنٹی نے ہنگامے کے درمیان صدر کے خطاب پر بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے تیلگو دیشم پارٹی کے جی ایم ہریش بالیوگی کا نام پکارا۔
مسٹر بالیوگی نے کہا کہ صدر کا خطاب اصلاحات سے بھرپور ہے اور یہ ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو پورا کرنے والا ہے۔ اس میں 25 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ سلامتی اور جوابدہی کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اٹل ٹکرنگ کے لیے زیادہ فنڈ مختص کرنے سے اختراع کو فروغ ملے گا۔ طالبات کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہر ضلع میں ایک ہاسٹل کھولنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بی جے پی کے نشی کانت دوبے نے صدر کے خطاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کانگریس پر براہ راست حملہ کیا اور چند کتابوں کا حوالہ دے کر تنقید کرنے لگے، تاہم اس دوران پریزائیڈنگ افسر انہیں مسلسل کتابوں کا حوالہ دینے سے روکتے رہے۔ اسی دوران ہنگامہ تیز ہو گیا جس کے باعث ایوان کی کارروائی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
اس سے پہلے لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے کانگریس کے آٹھ اراکین کو بجٹ اجلاس کے لیے معطل کیے جانے کے خلاف بدھ کو زبردست ہنگامہ کیا جس کے باعث اسپیکر اوم برلا کو کارروائی شروع ہونے کے پانچ منٹ کے اندر ہی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔
مسٹر برلا نے کارروائی شروع کرتے ہوئے غذائی پروسیسنگ اور عوامی نظام تقسیم کی وزارت سے متعلق سوالات کے جواب متعلقہ وزیر سے دلوانے کو کہا لیکن اسی دوران اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں آ کر ہنگامہ کرنے لگے۔ اسپیکر نے ہنگامے کے درمیان ہی وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ مزید بڑھا دیا۔ اس دوران چند ارکان نے سوالات بھی پوچھے اور ان کے جوابات بھی دیے گئے مگر شور و غل کے باعث کچھ سنائی نہیں دیا۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر مسٹر برلا نے ارکان سے کہا کہ انہیں ایوان کے اندر اچھا رویہ اور طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان چلانا تمام ارکان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایوان سب کا ہے، اس لیے ارکان کو باوقار رویہ اپناتے ہوئے کارروائی چلانے میں تعاون کرنا چاہیے، مگر ارکان نے ان کی بات نہیں سنی اور ہنگامہ جاری رکھا جس کے باعث کارروائی بارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔
کارروائی دوبارہ بارہ بجے شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے سابق آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے نعرے بازی اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شور شرابہ اور نعرے بازی کرنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینر بھی تھے اور وہ وزیر اعظم کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے۔
کئی اپوزیشن ارکان بینر لے کر اسپیکر کی نشست کے سامنے آ گئے تھے۔ بینروں پر وزیر اعظم، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور سابق آرمی چیف منوج مکند نرونے کی تصاویر تھیں۔ سماج وادی پارٹی کے ارکان اہلیہ بائی ہولکر کی تصویر لے کر وارانسی کے منی کرنیکا گھاٹ پر ان کے مجسمے کو مبینہ طور پر نقصان پہنچائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے ان مسائل پر منگل کو بھی ہنگامہ کیا تھا۔
مسٹر گوئل کا بیان مکمل ہونے کے بعد اسپیکر اوم برلا نے شور شرابہ کر رہے ارکان سے کہا کہ ان کے اس طرز عمل سے لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا یہ طریقہ ہرگز مناسب نہیں ہے۔ ایوان قواعد و ضوابط کے تحت چلتا ہے۔ ایوان میں پہلے بھی احتجاج ہوا ہے مگر اس طرح کی حدود کبھی نہیں توڑی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نظریاتی اختلافات کے باعث احتجاج ہوتا ہے مگر اس طرح ایوان کی وقار اور روایات کو پامال نہیں کیا جاتا۔ یہ ایوان سب کا ہے اور اس کی عزت برقرار رکھنا تمام ارکان کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح ایوان کی توہین کرنا مناسب نہیں ہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

