مواد پر جائیں
قومی

مولانا صغیر احمد رشادیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی خدمات ناقابلِ فراموش: مولانا انیس الرحمٰن قاسمی

Awaze Bihar18 منٹ پڑھیں

آل انڈیا ملی کونسل کے زیرِ اہتمام بنگلور میں منعقد تعزیتی نشست میں مفکرِ ملت حضرت مولانا انیس الرحمٰن قاسمی، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل، نے حضرت مولانا صغیر احمد رشادیؒ امیرِ شریعت کرناٹک و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور اور حضرت ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل کی وفات پر پُراثر تعزیتی خطاب پیش کیا۔مولانا قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ موت زندگی کی اٹل حقیقت ہے، یہ زندگی کی تکمیل ہے۔ ہر شخص کو اس راہ سے ایک نہ ایک دن گزرنا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو، جب کسی کی وفات کی خبر ہمیں رنجیدہ و افسردہ نہ کرتی ہو۔
یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیّت نے
چمن سے پھول چننا اور ویرانے میں رکھ دینا
(حیدرؔ دہلوی)
لیکن کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں، جن کی جدائی اور وفات پوری ملت کو سوگوار کر جاتی ہے۔ ہر شخص مستحق تعزیت بن جاتا ہے، کون کس کی تعزیت کرے، کون کس کو دلاسہ دے، جب کہ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل رنجیدہ اور ہر فرد غم سے نڈھال ہو۔ آج کی تعزیتی نشست میں ہم جن دو شخصیتوں کو یاد کرنے اور ان کے کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے جمع ہوئے ہیں، ان کا شمار بھی ملت کی انہی ہستیوں میں ہوتا تھا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ ملت کے کاموں کے لیے وقف کر دیا تھا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’اُذْکُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتاکُمْ وَکُفُّوا عَنْ مَسَاوِیْہِمْ‘‘۔
کہ اپنے رخصت ہونے والے بزرگوں کی خوبیوں اور اچھائیوں کو یاد کرو اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرو۔
یہ حکم اس لیے ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی زندگی کو دیکھیں، سمجھیں اور ان کی سیرت و سوانح سے عبرت حاصل کرکے اپنے لیے نشانِ عمل متعین کریں کہ ہمارے ان اکابر نے کن حالات میں کس طرح ملت کی رہنمائی کی اور کیسے کیسے مخالف حالات میں دنیا کی پرواہ کیے بغیر اللہ کے دین کے لیے قربانیاں دیں۔
حضرت مولانا صغیر احمد رشادی، امیر شریعت کرناٹک و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور، اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری حضرت ڈاکٹر محمد منظور عالم رحمہما اللہ کی زندگی کا ایک ایک ورق ملت اور دین سے محبت رکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی زندگی کو پڑھ کر ہم اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان دونوں بزرگوں نے جن نامساعد حالات میں ملک و ملت کی قیادت کی، وہ بھارت کی ملی تاریخ کا قیمتی اثاثہ ہے۔
آپ کے علم میں ہے کہ حضرت مولانا صغیر احمد رشادی مہتمم دارالعلوم سبیل الرشادوامیر شریعت کرناٹک رحمہ اللہ اپنی سادگی، انکساری، اخلاص و للٰہیت، اپنے بزرگوں کی وراثت کی حفاظت میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ نے جامعہ سبیل الرشاد کی علمی و تعمیری ترقی میں جو قربانیاں دی ہیں، اس کا صحیح بدلہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتے ہیں۔ حضرت کے ہزاروں شاگرد جو دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اس میں یقیناً حضرت کا بھی حصہ ہے۔ اسی طرح اس جامعہ سے جتنے لوگ قیامت تک فائدہ اٹھاتے رہیں گے، اس کا ثواب بھی حضرتؒ کو پہنچتا رہے گا۔
حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی مستقل مزاجی اور دینی علوم اور کاموں کے سلسلہ میں ان کی ثابت قدمی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں بتا دی۔ اسی ادارہ میں انہوں نے ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن مجید کا شرف حاصل کیا۔ یہیں سے رسمی تعلیم کی تکمیل کی، یہیں تدریسی زندگی کا آغاز کیا، یہیں انہوں نے علم حدیث اور تفسیر کے جام کے جام چھلکائے اور اسی کی خاک میں مدفون ہو گئے۔ دارالعلوم سبیل الرشاد اور اس کے بانی حضرت مولانا ابوالسعود صاحبؒ سے انہیں عشق تھا، ان کی فکر کا محور یہی ادارہ تھا؛ لیکن ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے خود کو اس چہاردیواری میں مقید کر دیا تھا؛ بلکہ جب ضرورت پڑی، وہ اس تعلیمی ادارہ کی چہاردیواری سے باہر نکلے اور کھلے میدان میں ملت کی قیادت کی۔ ان کا دورِ امارت کرناٹک ہی نہیں، بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ انہوں نے جس تحمل، حسن تدبیر اور ایمانی بصیرت کے ساتھ بحیثیت امیر شریعت امت کی دینی و ملی اور فکری رہنمائی کی، وہ ہر قائد کے لیے قابل تقلید پہلو ہے۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبحیثیت رکن اور آل انڈیا ملی کونسل کے اسٹیج سے بحیثیت سرپرست انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، وہ ان شاء اللہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
حضرت مولانا علیہ الرحمہ کی وفات سے جو علمی خلا پورے ملک اور بطور خاص جنوبی ہند میں پیدا ہوا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اسے پر کر دیں۔
اسی طرح ایک دوسری اہم شخصیت اس سال کے آغاز اور اسی مہینہ میں ہم سے جدا ہوئی، وہ جناب ڈاکٹر محمد منظور عالم علیہ الرحمہ کی تھی۔سچی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے علمی و سماجی معاشرہ پر جن اہم شخصیتوں نے اپنے علمی ورثہ اور اکیڈمک کاموں کا اثر ڈالا اور خواص کے رجحان و سوچ میں تبدیلی پیدا کی، ان میں ڈاکٹر محمد منظور عالم کی شخصیت نمایاں ہے۔ ان سے پہلی ملاقات امارت شرعیہ میں غالباً ۱۹۸۷ء میں ہوئی تھی اور پھر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام رحمۃ اللہ کے ساتھ دہلی میں ہوئی۔
۱۹۸۱ء میں حضرت قاضی صاحب رحمہ اللہ نے پھلواری شریف، پٹنہ میں چند اہم جدید مسائل جیسے ایتھینزیا وغیرہ پر ملک کے اہم اصحاب افتاء کے ساتھ ایک علمی مذاکرہ مرکز البحث العلمی کے تحت منعقد کیا تھا، جس میں مجھے بھی دست و بازو بن کر شرکت کا موقع ملا تھا۔ اس وقت تک علماء کے طبقہ میں نئے پیش آمدہ مسائل پر اجتماعی طور پر سوچ و فکر کا عمومی رجحان نہیں تھا؛ حالاں کہ یہ بات اکابر علماء میں طے شدہ تھی کہ حالات و زمانہ میں تبدیلی کے باوجود فقہ اسلامی میں نئے حالات و مسائل کا حل کرنے کی پائیدار صلاحیت موجود ہے۔ اسی فکر کو عام کرنے کے لیے ۱۹۸۷ء میں سہ ماہی بحث و نظر کا اجراء حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمہ اللہ کی ادارت میں ہوا تھا۔ اس علمی مجلہ کا راقم الحروف نائب مدیر تھا۔ اس رسالہ نے علماء و اصحاب افتاء کو مختلف علمی و فکری موضوعات پر مقالہ لکھنے کی تحریک پیدا کی تھی، خاص طور پر ان مسائل پر لکھنے کے لیے آمادہ کیا تھا، جو موجودہ حالات اور سائنس و ٹیکنالوجی کی پیداوار تھے اور جدید معاشرہ پر اپنا اثر ڈال رہے تھے۔ اس وقت ملک اور بیرون ملک میں نئے پیش آمدہ مسائل کے حل اور کج رو مصنفین اور الحادی ذہن رکھنے والوں کی اصلاح کے لیے مثبت و مدلل تحقیقات و جوابات کی ضرورت تھی جو یہ رسالہ انجام دے رہا تھا۔ ڈاکٹر محمدمنظور عالم صاحب بھی اس رسالہ کے اہم معاونین میں تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اس فکر کو بڑھاوا دیا جائے۔چناںچہ ۱۹۸۹ء میں ڈاکٹر صاحب نے مرکز البحث العلمی کے تحت وسیع پیمانے پر دہلی میں سیمینار کرنے کا مشورہ دیا؛ پھر ان کے تعاون سے جامعہ ہمدرد، نئی دہلی میں برتھ کنٹرول، اعضاء کی پیوند کاری اور پگڑی کے موضوع پر ملک گیر سطح کا سیمینار منعقد ہوا، جس میں ملک کی اہم ترین دینی و علمی شخصیتیں شریک ہوئیں۔
اس سے پہلے ۱۹۸۶ء میں ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی بنیاد رکھی تھی، جس کے مقاصد میں ہندوستان میں مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ، اسلامی ورثہ کی بازیافت اور مستقبل کی تیاری تھی اور یہ فقہی کام بھی روشن مستقبل کا حصہ تھا۔ اس فکر کے لیے انہوں نے ہندوستان اور عالم اسلام کے عصری یونیورسٹیوں اور دینی اداروں کے اساتذہ، اہل قلم، قانون داں، صحافی اور سیاست دانوں کو جمع کرکے ان کو زبان و قلم کے ذریعہ سے علمی و تحقیقی کاموں میں شامل کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مستقبل کی تیاری کے لیے I.O.S کے علاوہ مختلف کاموں کے لیے نئے ادارے بھی قائم کیے اور اس کے ذریعہ انہوں نے مختلف گوشوں پر کام کیا۔ بنیادی طور پر انہوں نے اسلام کی حقیقی سوچ اور مسلمانوں کی سائنسی و فکری خدمات کو اجاگر کرنے میں دلچسپی لی اور اس کے لیے مختلف مسالک و مکاتب کے جدید و قدیم افراد کو شامل کیا، جس کا اظہار ان بارہ سو سے زائد سیمیناروں و مذاکروں کی علمی مجلسوں سے ہوتا رہا ہے، جسے انہوں نے I.O.S کے ذریعہ ملک کے طول و عرض میں منعقد کیا۔ اس کے متعدد سیمیناروں میں مجھے بھی شرکت کرنے کا موقع ملا۔
میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب ہر سیمینار کے موضوع سے متعلق انتہائی فکر انگیز باتیں پیش کرتے ہیں۔ ادھر چند برسوں سے اپنی صحت کی کمزوری کی بنا پر وہ کم شریک ہوتے ہیں۔ پٹنہ میں ایک سیمینار "اجتہاد" کے عنوان سے منعقد ہوا تھا اور دوسرا مولانا مناظر احسن گیلانی کے افکار و حیات پر تھا۔ اجتہاد کے عنوان سے واضح ہے کہ تغیر پذیر حالات اور بدلتی زندگی کو درپیش چیلنج کا سامنا اجتماعی اجتہاد ہی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے اور دین اسلام کی بہبود اور عالم اسلام کی فلاح و ہدایت اسلامی فقہ کو زندہ و متحرک رہنے والے قانون کی شکل میں پیش کرکے ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سوچ نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اور ڈاکٹر محمد منظور عالم رحمہ اللہ کو باہم فکر و عمل کے اشتراک پر آمادہ کیا تھا اور پھر اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جیسے ادارہ کی تشکیل عمل میں آئی تھی، جس کے مقاصد میں یہ بات لکھی گئی کہ اس کے ذریعہ جدید پیش آمدہ مسائل اور بدلتے ہوئے حالات میں سامنے آنے والے معاملات کا فقہی اصولوں کی روشنی میں اجتماعی تحقیق کے ذریعے حل تلاش کیا جائے گا اور ملک و بیرون ملک کے مستند دینی اداروں اور محقق علماء کے فتاویٰ و تحقیقات کو اکٹھا کرکے عوام تک پہنچانے اور مختلف مسالک کے علمی ذخیرے سے استفادہ کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اسلامی قوانین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کے ساتھ معیشت، معاشرت، عرف و رواج اور عمرانیات جیسے میدانوں میں پیدا ہونے والے نئے مسائل اور ان پر ہونے والی تحقیقات سے لوگوں کو آگاہ کرکے ان کا حل پیش کیا جائے۔
اکیڈمی نے ان مقاصد کے حصول کے لیے سیمینارز منعقد کرنے، تحقیقی ٹیمیں بنانے اور تمام مفید ذرائع بروئے کار لانے کے منصوبہ پر عمل کیا اور نمایاں خدمات انجام دیں۔ بلاشبہ اسلامک فقہ اکیڈمی نے اپنے علمی سفر میں جو نمایاں خدمات انجام دی ہیں، اس کے پیچھے ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی کوشش و فکر بھی شامل ہے۔ I.O.S اور اسلامک فقہ اکیڈمی نے یونیورسٹیوں اور مدارس سے فارغ ہونے والے قدیم و جدید باصلاحیت فضلاء و دانشوروں کی ایک ایسی ٹیم تیار کی ہے جو امت کا مستقبل ہے اور بہتر کام کر رہی ہے۔ یہ سب ڈاکٹر صاحب کی نیک نیتی اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ وہ مختلف الخیال دانشوروں کو I.O.S، اسلامک فقہ اکیڈمی اور آل انڈیا ملی کونسل کے پلیٹ فارم پر تقریباً چار دہائیوں سے جوڑے ہوئے تھے اور ان سے کام لے رہے تھے۔
I.O.S جن مقاصد پر علمی و فکری کام کر رہا تھا، یا اسلامک فقہ اکیڈمی کے ذریعہ ملت کی جس ضرورت کی تکمیل ہو رہی تھی، اس کے علاوہ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب رحمہما اللہ نے محسوس کیا تھا کہ ملک میں فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے اور فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد کے رجحان میں اضافہ ہونے کے ساتھ ملک کے کمزور شہریوں خاص طور پر مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو اور تہذیب و تمدن کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کرنے اور مسلمانوں میں خود اعتمادی بحال کرنے اور ان کی تعمیر و ترقی اور منصوبہ بندی کے لیے ایک نئی تنظیم کی ضرورت ہے؛ اس لیے انہوں نے اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے غور و فکر کرنا شروع کیا اور دونوں نے ملک کے بیشتر اہم ریاستوں کے دورے کیے۔ اسی دوران وہ امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ، بہار آئے۔ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی علیہ الرحمہ اور انہوں نے حضرت مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کیا، اس ابتدائی گفتگو میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔ اس کے بعد ملت کے علماء و دانشوروں کی خدمت میں ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے ایک مؤثر خط لکھا، جس میں ملت کو درپیش مسائل و خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ملی قیادت کی ذمہ داریوں کو یاد دلایا اور مخلصانہ حکمت عملی تیار کرنے پر آمادہ کیا۔ خط کا متن مندرجہ ذیل ہے:
معظمی و محترمی، حفظکم اللہ سبحانہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ آپ بصحت و عافیت ہوں گے!
پوری دنیا میں بالخصوص عالم اسلام کے سیاسی و اقتصادی حالات اور وہاں کے مد و جزر کو دیکھتے ہوئے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آپ کی خدمت میں ہندوستان میں ملت اسلامیہ کو درپیش نئے خطرات کے سلسلے میں اپنے احساسات و اندیشے پیش کروں۔
یوں تو تاریخ کے ہر دور میں امت اسلامیہ نے یہودیوں، عیسائیوں اور ہوس پرستوں کے ہاتھوں نقصانات اٹھائے ہیں۔ کبھی استعماری تسلط کی صورت میں، کبھی صلیبی جنگوں کی شکل میں، کبھی داخلی انتشار و خلفشار کے انداز میں، کبھی خلفاء حکام اور قادین کے قتل و ہلاکت کے اسلوب میں، کبھی خفیہ ریشہ دوانیوں کے ذریعہ تو کبھی باہمی کشمکش اور خون ریزیوں کو ہوا دے کر یہ سلسلہ جاری رہا اور امت آپسی اختلافات میں الجھی رہی۔ ایک تاریخی تسلسل کے ساتھ ہر عہد میں امت اسلامیہ کو سیاسی و اقتصادی محاذ پر شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے لیے خدا کے دشمنوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور امت کو زبان و نسل، رنگ، علاقہ، قبیلہ اور علم و تحقیق کے نام پر خانوں میں بانٹنے اور ان کو کمزور کرنے کی تدبیریں کیں۔ چنانچہ ان عناصر کے کردار کو اندلس میں مسلمانوں کے زوال و خاتمہ اور خلافت عثمانیہ کے زوال و خاتمہ میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اس وقت سب سے سنگین بات بین الاقوامی حالات کی تبدیلی اور مغربی طاقتوں سے بعض اہم اور نئے معاہدے نیز دشمنان خاص سے تعلق و قربت کے تناظر میں ملت اسلامیہ ہندیہ کا ایک سرخ دائرہ میں آجانا ہے۔ اس سیاق میں خود ملک میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں ملت اسلامیہ پر جو اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ آپ بخوبی کر سکتے ہیں۔ ان ظواہر کی روشنی میں پوری دردمندی کے ساتھ آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ؛
(الف) آئندہ ملک میں ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ جن کے نتیجے میں ملی قیادت اور سنجیدہ دینی قیادت نیز روحانی قیادت مزید انتشار اور باہمی اختلافات کا شکار ہو اور اس طرح کی قیادت مشکوک و مشتبہ کر دی جائے، بلکہ اس کو بے وزن بنانے کی بھی حکمت عملی ہو سکتی ہے، تاکہ بتدریج پوری ملت خلا میں بھٹکتی نظر آئے۔
(ب) اخبار و رسائل میں ملی شخصیات و قیادت کے بارے میں ایسی کہانیاں شائع کی جائیں جن سے عوام کی توجہ اصل حقیقت سے ہٹ جائے اور بدگمانیوں کا دور دورہ ہو۔
(ج) پوری ملت کو ایک خاص قسم کے نفسیاتی و اعصابی تناؤ میں مبتلا کر دیا جائے، جس کے باعث وہ سنجیدہ اور ٹھوس کاموں کے کرنے کے بجائے جذباتی و ہنگامی مسائل میں الجھ جائے۔
(د) ملت کا اتحاد بین الاقوامی طاقتوں، ایجنسیوں، جدید ذرائع و وسائل کے مالکوں، دفاعی نظام کی نگرانی کرنے والوں کے ذریعہ پارہ پارہ کر دیا جائے۔
آج ملت میں جس قدر شعور ذاتی پیدا ہوا ہے، اس میں اسلام کی سرمدی اور ابدی قوتوں کے ساتھ بزرگوں کی توجہات اور آپ حضرات کی خدمات کا بھی بڑا دخل ہے۔ اس شخصی شعور اور بیداری کو اگر مزید ترقی دی جائے تو ملت تہذیبی و تمدنی قیادت کی راہ پر چل کر اپنا مقام پا سکتی ہے، بشرطیکہ ملت کی قیادت اپنے فرائض کی ادائیگی میں فعالیت و تیزی لا کر (۱) اس بیداری کو باقی رکھنے اور اسے دور ترقی میں بدلنے کی ضرور تدبیر کرے۔ خدا نہ کرے اس کا امکان ہے کہ (۲) آئندہ پیش آنے والے خطرات و واقعات کے نتیجے میں پوری ملت دوبارہ غفلت و بے ہوشی کا شکار ہو جائے اور اس پر یہ کیفیت اتنی گہری طاری ہو جتنی کہ بیداری سے پہلے تھی۔
اس لیے ان حالات میں آپ سے حالات کا گہرائی سے مشاہدہ و تجزیہ کرنے نیز درپیش مسائل و خطرات سے ملت کو بروقت خبردار و آگاہ کرنے نیز سخت حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی مخلصانہ گزارش کرتا ہوں، تاکہ ملت کی وحدت محفوظ رہ سکے اور وہ دشمنوں کی چالوں اور نرغہ میں آکر انتشار و افتراق کا شکار ہونے سے بچ سکے۔
امید ہے کہ جناب والا مخلصانہ گزارشات پر توجہ فرمائیں گے۔ میں آخر میں اپنے رب کے حضور میں یہ کہہ سکوں گا کہ ایک مشکل گھڑی میں اپنے ملک کے تجربہ کار، زمانہ شناس، خداترس رہنماؤں اور بزرگوں کے سامنے ملت کو درپیش خطرات کے متعلق میں نے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
خصوصی دعاؤں کی گزارش کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔والسلام مع الاکرام
ڈاکٹر محمد منظور عالم،20 فروری 1992ء
اس خط اور ان کے سفر کا اثر ہوا اور دو ماہ بعد ملک کے اکابر علماء و قائدین دہلی کے سورج کنڈ میں ۱۳؍اپریل ۱۹۹۲ء کو جمع ہوئے اور یہ طے کیا کہ ایک ملک گیر تنظیم قائم کی جائے اور اس کے لیے ایک بڑی کانفرنس بلائی جائے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی تائید و خط نے ممبئی کے خادمین ملت کو اس کے لیے آمادہ کیا اور ڈاکٹر صاحب کے علاوہ مختلف ریاستوں کے دیگر ۲۷ داعیان کی طرف سے دعوت دی گئی۔ چنانچہ ۲۳۔۲۴ مئی کو اتحاد ملت کانفرنس ممبئی میں منعقد ہوئی اور دوروزہ غور و فکر کے بعد آل انڈیا ملی کونسل کے نام سے اس کی تشکیل عمل میں آئی۔ ممبئی کے اس کانفرنس میں کونسل کے لیے ساٹھ اساسی ممبران اور ۱۳۱ میقاتی ممبران کا انتخاب کیا گیا۔ اس میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کو آل انڈیا ملی کونسل کا کنوینر منتخب کیا گیا۔ جس کے چند ماہ بعد ۲۸۔۲۹ نومبر ۱۹۹۲ء کو ہندوستان کے قدیم اور تاریخی شہر "میسور" میں ملی کونسل کا پہلا عمومی اجلاس منعقد ہوا، وہاں شرکاء اجلاس نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کو آل انڈیا ملی کونسل کا سکریٹری جنرل منتخب کیا گیا اور جب ۲۰۰۲ء میں ان کی وفات ہو گئی تو سید ابراہیم سلیمان صدر، حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی مدظلہ جنرل سکریٹری ہوئے، پھر بعد میں وہ صدر منتخب ہوئے اور ۲۰۰۵ء سے ڈاکٹر صاحب جنرل سکریٹری منتخب ہوتے رہے تھے۔ ان کے عہد میں آل انڈیا ملی کونسل نے بڑے اہم کام انجام دیے۔ اس عہد میں ملی کونسل کی تجاویز و قراردادیں، اخباری بیانات اور مختلف موضوعات پر خصوصی اجلاس و کانفرنسوں نے ملک و ملت کو صحیح راہ دکھائی۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے قانون سازی اور قومی کمیشن برائے اقلیتی ادارہ جات کی تشکیل، دینی مدارس کانفرنس، ٹاڈا اور پوٹا کے خلاف کنونشن، مسلم اقلیت کو درپیش مسائل اور اس کے سیاسی، تعلیمی، معاشی سطح پر ترقی کے لیے کوششیں، اسمبلی و پارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی اور سیاسی قائدین و حکومت کو ملک کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے اور دستور ہند کی حفاظت کے لیے تحریک، یہ اور اس طرح درجنوں ایسے کام ہیں، جن کی طرف ان کی توجہ رہی اور ملی کونسل و I.O.S کے ذریعہ انہوں نے کامیابی بھی حاصل کی۔
ڈاکٹر صاحبؒ مثبت فکر کے حامل تھے اور امت کی اجتماعی ضروریات کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے ان اداروں کے علاوہ کئی ادارے قائم کیے، جس کے ذریعہ امت کی فکری قیادت، امداد و تعاون، اسکالر شپ کے ذریعہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت جیسے اہم کام انجام پارہے ہیں۔
میں نے اس طویل عرصہ میں یہ بھی محسوس کیا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک بیدار مغز دماغ، ملت کی شیرازہ بندی کے لیے فکر مند شخص تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سنجیدہ و تعمیری طریقہ رکھا، جذباتی و ہیجانی طریقوں سے احتراز کیا، فسطائی رجحانات کے خلاف رائے عامہ بنانے میں اپنا خصوصی کردار ادا کیا، برادران وطن کے ساتھ باہمی اعتماد و احترام کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملت کو شکست خوردگی و ڈر و خوف سے نکال کر تعلیم و روزگار کی شاہ راہ پر ڈالنے کا کام کیا اور ایک بلند نصب العین کے ساتھ دینی و ملی اور علمی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ اتحاد ملت اور ملک و قوم کے تمام طبقات کے اشتراک عمل کے داعی تھے اور بہت فکر مند رہا کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ ملت کا سرمایہ تھے اور ملت کو متحد رکھنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ آج جب وہ اس دنیا سے آخرت کے سفر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ اللہ ان کی خدمات و اعمال صالحہ کو قبول فرمائے گا اور یہ سارے ادارے ان کے لیے صدقہ جاریہ کا کام کریں گے۔ (ان شاء اللہ)
اللہ تعالیٰ ان دونوں بزرگوں کی قبر کو نور سے بھردے اوراپنے خاص فضل سے انہیں جنت الفردوس میں بلند مرتبہ عطافرمائے اورہم جیسے خدام کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے،نیز ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کو مکمل کرنے کی توفیق دے۔(آمین یارب العالمین)

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں