مواد پر جائیں
قومی

ممبئی یونیورسٹی میں اظہارِ رائے پر پہرہ، نصیرالدین شاہ کی اردو جلسہ میں شرکت پر پابندی

Awaze Bihar3 منٹ پڑھیں

ملک کی قدیم، باوقار اور علمی روایت کی امین سمجھی جانے والی ممبئی یونیورسٹی ایک بار پھر اپنے شرمناک اور آمرانہ فیصلے کے سبب سخت تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے منعقد ایک خالص ادبی جلسے میں معروف اداکار اور دانشور نصیرالدین شاہ کو عین وقت پر یونیورسٹی کیمپس میں داخلے سے روک دینا نہ صرف ایک فنکار کی توہین ہے بلکہ یہ اقدام یونیورسٹی انتظامیہ کی فکری تنگ نظری، خوف زدہ ذہنیت اور اظہارِ رائے سے کھلی دشمنی کا ثبوت بھی ہے۔
شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی اور بزمِ احباب فاؤنڈیشن کے اشتراک سے راجیو گاندھی بھون میں منعقد اس اردو جلسے میں نصیرالدین شاہ کو کسی سیاسی خطاب یا متنازع گفتگو کے لیے نہیں بلکہ ’’پریت گیت‘‘ کے عنوان کے تحت فیض احمد فیض اور ساحر لدھیانوی جیسے عظیم اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ شعرا کے کلام کی قرأت کرنی تھی۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے آخری لمحوں میں ان کی شرکت منسوخ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اب تعلیمی اداروں میں ادب، شاعری اور تخلیقی اظہار بھی ’’خطرہ‘‘ بن چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کے دفتر کی براہِ راست ہدایت پر منتظمین نے ایک ای میل کے ذریعے شاہ کو کیمپس نہ آنے کے بارے میں مطلع کیا کہ ’’سکیورٹی وجوہات‘‘ کے سبب نصیرالدین شاہ کی شرکت ممکن نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی سکیورٹی خدشات تھے تو پیشگی اجازت کیوں دی گئی؟ اور اگر کوئی خطرہ نہیں تھا تو عین وقت پر یہ فیصلہ کس دباؤ یا کس کے اشارے پر لیا گیا؟ اس فیصلے کے فوراً بعد کیمپس میں بھاری پولیس بندوبست کر دیا گیا، گویا کوئی ادبی تقریب نہیں بلکہ کوئی سنگین جرم ہونے والا تھا۔
اس اچانک اور غیر جمہوری فیصلے سے جلسہ گاہ میں موجود حاضرین میں شدید غم و غصہ اور مایوسی پھیل گئی۔ ادبی اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو ایک فنکار کے بنیادی حق—یعنی آزادیِ اظہار—پر کھلی ضرب قرار دیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ اگر آج فیض اور ساحر کے اشعار بھی یونیورسٹی کیمپس میں ’’غیر محفوظ‘‘ تصور کیے جانے لگیں تو کل کتابیں، مباحثے اور خیالات بھی پابندی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
انتظامیہ کے اس فیصلے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ جبکہ شعبۂ اردو کے تحت ایک ہی کیمپس میں مختلف تنظیموں کو الگ الگ پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تو پھر صرف اسی پروگرام کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ کیا یہ محض انتظامی فیصلہ تھا یا کسی خاص نام اور شناخت سے جڑا خوف؟ ناقدین کے مطابق یہ اقدام انتظامی مجبوری نہیں بلکہ فکری عدم برداشت، ذہنی غلامی اور بالواسطہ سنسرشپ کی عکاسی کرتا ہے۔
ادبی حلقوں کا خیال ہے کہ ممبئی یونیورسٹی جیسا ادارہ اگر اس طرح کے فیصلوں کے ذریعے خوف اور پابندی کی علامت بن جائے تو یہ نہ صرف اس کے علمی وقار بلکہ اس کی تاریخی شناخت پر بھی ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ واقعہ محض نصیرالدین شاہ کو روکنے کا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اب تعلیمی اداروں میں بھی آزاد سوچ، ادب اور فن کے لیے کوئی جگہ باقی رہ گئی ہے؟
یہ فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، کیونکہ علم گاہیں سنسرشپ، دباؤ اور خوف کے تحت نہیں بلکہ مکالمے، اختلاف اور آزادیِ اظہار سے زندہ رہتی ہیں—اور جب یہ اقدار پامال ہوں تو ادارے محض عمارتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں